آپ ٦‏

سئے

متااہعے -.. نے ےکلہ گی ۔||,۹ پل ےه جح

ا سآ نا سا ددپخ زل /رطرم ت پرملی نف متا لاہگ شال ں۔ ر تا تین نی عیذبت ۷ دلوں اؤیہتاہُؤ ںکا یک وبدہوما۔ (۳) صصح زاد یکا سم ےتا د۶ہ واکو لق ...کے حرلیت فرب فک ہج کان ۰ن ری وہ 3 303 ھ فسرل ۵ ۱ی یا ھا سشنثنت و بدعت الا ام دن سے سطالیہک با ےک دہ نرآن رسنت ہل امر نوس ملسلا می تکو تی ہی رت ہل سے ہما لین بی بہ لیا را نکی شانعت کی نا ھک ہے ۔ ڈالڑجسذتوک حرک جوف

دواد ۵ فیب ری چنا ایریا مراچا

ال٣‏ لور ھ آوراوز یر ےی

کانا ۔صل نا

اکب مال ۔ ریب ون

ےل فو حطر

تھا تھا ط×

قا طافر ‏ .. تظاتھ

ما م تمادق ادرا کا خر ڑا سن نشی

رارا لوا 2 سد ٹہ

جاب دلاورمرزا

ستحی او لئ ہار

تر رورغ یما

/زاد ھ ٹل ۵ایا

کرای

پپسسد

گِ

نبررست نوا بات

ضرسٹ ماد

اتب مارک ای ک میں انی ز دی کے جن دب سر ا پگ اما ت پ رس

ا حنزا اکا مین

را ماع کے ام سلائی ذرئے واج اور ےناد دفرئے خوا ری اورا ما مارکا

قیفوت زلہ او اک شا الوڈارر ا ےی

نقار صوانات پچ

۱

َ

٠

ك

۱

:

:

یبد رتے اد را نگ حقیقت رو زیڑی او را نے غقائد امام سا رق میں

نج

مہ

پت

لہی)

ا

نٹ عو اامٹف منص جن ےکا ضیام کیفیستر مدیصہ یں ٣‏ امنادات کے ہادیے می ںآ پک تعلمات روت با رگ تعالی ۔ تدرتِ اللہ دفو کیا تین ون ڈے ؛ دعدہ دروعصد۔ زق زیدی کے دوعقائ گل ۵ ا یمان کے پارے میں حض تک تفصسیای زران ۷ امام ساد یق ادرنریت اواب کک دنام اصوابکالفعیلی کر ؛ا فقمی وراہس فا نع ادرأ سک نون ۷۴۷۹۹ امام مالک اورنڈظ مال ٰ ۹۹

امام ا ٹ اررانکا مہب ۸۳۴ امام اعدبنا مل ادرال نکا ہب 2 ام 1 ندنل ذرالن ڑ 2

عفرا ا دز با کا ذف میں اختلا ف گی بک ال ۹۰" را سبعطری اورا رون ۵"

ام مارڈا لوسر سے امام مسادت ادربا یل سان ُ۲ ۵۷

۹ امام ماد ا ریس رامثت ۱

نف اک ٠‏ جس امہ دو ع با ہس امام علیہ ال کلامم بر منطا لم صورصبٰا یسر

۲ ترد یچ مسلوم او رخسمت اضواب ۷ انشادات امام سارق" ۷م اخدکاپ روالیاتإ

ہرست ماد

- القرآن ا بر

ٰ۴۲- الامام ااصاوقی۔ ھرالی ز را معرکی

۔ الفصول ا گمصہ۔ابن صباغ گی

۳۴ النافے-ابن شرآوپ

۵ ۔ الصاو*۔ ااپخ ا فظفری

۷ ۔ اخیان! شیعہ۔علامہ شمین ا اشن

- اأانی۔ مھ ین لیتقوب می نی

۸ - الو سائلی-افھرالتاٹی

۹ ۔ الارشاؤ :شف

٣‏ فیا ت الا میان-اب: لکان

۱۔ تی الا ہاں- ٹچ عباس انی

۴ - قرب الاسٹاو-ا ری شی عبرائہ بن شف ۳ - کشف ا لشھہ.۔ لام ار دی

۴ - اعلام الورکی- طبری

۔ سیر الائم الا می صشر- پشم محروف انی ۷ مو لپ الس ول تکمال الندین شاف

ےا - خزعبا تضزعب-ابن جر

۸ - حا الامام ااصارشی-ا سی

- اٹم یی <یا7الامام ااصارل

٣٠‏ - ا اسال-الروق

٢٢‏ ۔ے گل الج اع -السر وق

۲ - الا ی-الصددل

۳ ۔ علیہ الاولیا ابو شیم الاصفمالیٰ ۴ ۔ الرجال۔ الج

۵ - اب الا عمال- السرول

۹۱ ۔ افجاھن-البرئی

٣‏ ۔۔ کشوف ا موا گنی ۔ ہف رن سمائد ری ۸ - خارالاتوار-!ا مق

۹ - الامالی-ا لف وی

٭ - ۶ون اخار الرِها- الفرول

۱ ے جح المائی-علامہ پاآرا وی ۳ے میزان الاختترال- تی “شس الین ۳ - تیب الا حا ءواللفات- ‏ ووگی ۳۳ - ات الوقیات-۔ اہن شاکر

۵ ۔ ا البقات الشا یہ علامہ رخ الین ا می سم ۔ حسن الحاض ا للیروٹی

فتر

و مر طومات- وا العارک

۸ ۔ پورالالبصار- موی 2

_ زندگالی چماررہ لصوم مارزارہ

٭ اسعاف الرا شیین۔ جم مہان ا معری

۱م - لوا ُالاٹوا ر- عبدرالوحاب الشرانی

۲( مم زگ الا الات حبط أین چو زی

٣‏ - ااصوا عق ا حرقہ۔ابن تجرا لی

۳ - جامح اسان -امام ابو عیذہ

۵ ۔ مناتب الی عطیفہ اون بن امھ

۹ _ زلر3ا فۂاظا-الڑیئ

تے ان الا ھی شر ۔ عبرالعزیزا یرٹ

۸ الااس ا لٹ ۔علاعہ شون الاشجن

۔ ماع الوسل

٭ق ۔ رسمائل الا تسین ا سٹددلی

ا۵ - ماع الاشہار۔ سرارج الین الرفائی

۴ - ترما تر الاسلابی. علامہ مرا نر یکبک ٣‏ - رائرڑالعارٹی۔-ٹرروجدرئی ۱ ۳ھ - اشیھ ٹن الاشاعرۃوا عتزل -پا ٠‏ مروف ا می ۵۵ ۔ ا لکل داش شرستانی

٦‏ ۔ ا لوا .ای نق حم

ےھ - امام ااصارق وا یڑاہپ الا را[ -علام۔ اسر حیڑ ر ۸ ۔ ا ڑا ہب الاسلا می ۔ الو ز برا ھصرئی

- القرق ٹین النفرقی-۔ عبرالقا برا بخدادی

+ - لقات اھریثٹ-علامہوحیر ازمان

۔ الانتقمار-ابوا ین خبرال رجیم ا فباط

۴ - عالات الا سا ین ابوا من اشعریی

٣‏ - مرح الیزہب-علام دم جودگی

۷۳ ا بارس مل علام۔ چا رالٹھ

۵ ۔ رجال ئچ ہخاری-الکلا بای

۹ اقریب ا تذیب-حافظ این تر

ے۷ - کتاب اگمع بین رجال ا جین۔ یبن طاہرال دی ۸٭ ۔ الشمان۔علامہ شی تتماتی

۹ - منا قب الی خفیفہ ان پزا زا لکر دی

مے - ارخٌہفرار-خطیب بفرای

ے - الما گل نی الردعل الزیرے- ٹآمیر ےت ورڈ من عللی ناج تن

سے ۔ سکاب ا لصفو7 زریربین لی

مم - مصاح العلوم-الرصای

ٹے - الری روالوغیر۔-كَّيْ:ِن ان

١ے‏ - سائل مو رق للق ام -التقا حم بن ابا کیم ال ری

رز

ےئ - ا مسترشد الو حید۔ بن ا نین بن القا سم بن ابرائیم رھ الما کی علم الظام ند الزیدنی.- اسم بن ابرایم ال ری ۹ے امام زیر تھراپوز ہر8 ا اسری

۷ ۔ اہر والارع۔ ا شر ی کھرین طاہر

۸ - الورا مین۔ابوسعید نشوان بن سعیرا ری

۸۴ - ذرق ا شیے۔ال وت

۳ الزری۔ اسر

۴ - الرجال۔ انا

۸۵ - گی الاسلام-۔ ا انا دمرئی

۸۷۹ ۔ الپرای وا تھاے- ای یک

ف۸ اوتزا سمالکف۔ عیرثٹ تج زکراسمارخوری

۸ہ ۔ امام اعشم ابو یف ۔ مفتی عر:ال جن

۹ زجب الال -عافظ الزگی

"٤‏ ۔ معل مکی (امام عصادقی))۔ تین عار زار

ا8 - التزحیر-المددق

۲ - وا لعتقول۔ا لی

۳ - ا شع من بلامہ الامام ااصاو۔ عپرالرسول الوا لی

۴ - وعائم الاسلام۔ تماضی نعمان الاسا خیلی

۹۵ ۔ تی رافصائی۔ سن فی الکاشالی

۹ ۔ ا اض رضرتں۔الطوی

ے۹ - القلاص -لامہ گی ۸ ۔ جامح الرواۃ-ارودیلی ۹ ۔۔ جم الا وباء- یا ثوت! فی

- الات اپ سعدر قھ|] __- ' - دےسسیمیک ۳( شررات الڑب- ان گار ق ۳۴ - طیقات القراء الج ری

- تاموس الرچال۔

. مت التقال۔ مب رزا الا حت آبادٹی ۵) - رر ' ٦‏ ۷ - لان الم ان۔-ابن ٹالعسقلانی کس ]. سے مو القال۔ اتال ۶ - الرچال-البغ لی ۱ ِ ۱ اونے.٣یتاشطف‏ او ماوق ۹ - الراعاے ٭ . میون الاشبار- این یہ ا ہے ا ہے ۷۳۲ -- الامام ااصارق-ا جا ۳۴ - ن٤ص‏ تمزیب الکمالں- ا من تی ۳ - العارف۔این ب۔ ۱ ۵ - لیاپ الانساب- اب الا _

۔ کی داززلقاب۔ جن عباس ا نمی

ور

ےا١‏ - الامام تتفرااصارتی۔۔ا مستطا رع برائحلیع ا ری ۸۹ - جرا فا نہ م لان فق رر

۴ا ۔-_ ابو عفیز - الو ہروا گعرئی

٣‏ ۔ حعفیت اب خفی ہکی سیا سی زندگی- منا اضر نگیلانٰ ١‏ - کاب الا مار امام اإولوسف

۲ - کاپ الا مار امام مجر

۴۳ ۔ ا فص ام تار چا ففل ارہ اائزی

سر ےڈ روا ےپ سردق

۵ - اقزیپ۔ال وی

۹ - ا کمنوطا۔ امام مالک

٤‏ - مر الو قایے۔ اج الاجہ

۸ ۔ صن ا تتاہشی- مج زاہراللوثڑیی ا یرٹ

۹ - مناقب الشا نی ترالدرین اکرازگی

١‏ . الحزائب۔۔ ات ابن بتوزی

٣١‏ ۔۔ طبقات ا فثابنہ ‏ تقاضی این الی لی

۲٣‏ - امام امن تل اود اع ری

۴ - الام مصیائل میس اخترا لک رار-شادول لہ ۳٣‏ - اب الا لاف لی الالام ۔ ڈاکٹرطہ جابرفیاض العلوانی ۵ س الاغقا۶- اہن برالہر

تین ایآ ای شی

یىی

رسرے برق کو کوال-اینڈر

۸ ۔ مو رخن عظام اوران کے صلی کارناے۔ لقی نددی ٭۳ - جامح القرۂذزی۔ امام ترزی مع شرح الغائل ٭۰ - حیات امام مالک سلیصان ند وی

ا - المدرارک۔ تقاضی عیاش

٣۲‏ ۔- طبتقات ا لفتدامء۔ جج الو اححاق خیرازی

۳م - قراعینینشادویی الد

۹۴ ۔ الجواہرا لفن فی طبقات ا تفہ عبدافقادرترشی ۵ ٹوالی1لماکیسں- این جر

٦‏ - مشارں الاتوار-العردلی

ۓ ٣‏ - ماک الحاببی-ابین تجر

۸) ۔ مضاخا نعاوۃ۔ این تم

۳ك کاب الام (الشافی)۔ البد سی

٭ن۵ا - قزت الوب ا وطالب گی

۵ا - احاءالعلوم امام مزال ی

۳ھ - کاب الرسالہ- اعام شماشی

٣۵۳ا‏ - محرفہ علوم الی یث- امام اکم

بمھا - کاب القنا2-اآلندری

۵ق - آداپ الشاثتی-الی عائم

۵۹۱۹٦‏ - الیریث وا ھی دنؤن- مھرابوز ہردا ھھری

کے

ھ۵ا - الع و مکاشفالی ا اش ریبج الاسلابی مضصطللی ا ای

۵۸ - فلمفہا شیع الا لا ی۔- بجی نر صاٹی

۹4 - ات بن تمبل وا یز

٣۶‏ - الخلاص۔-ا ری

۷ - تیب ا اضاکر۔ ابن سار

وچ ہے ال اك الو رذن یی ماپ الائ الڑں۔ ا گل

۳۴ - ا لقات- ابی سز

٣۳٣+‏ - مار الا عم وا لوک اافبرئی

۵ - مرا لاشیاب العلومہ ۔ ابو النص کل بن عپ اق بن د اوہ

۷- بارخ فرا تکوئی

- الاعتیاے۔ ا رام

۸ ۔ تقو ا صقوج- ان توزئی

۷۹ اوخ لی ال ھ.- امام زی بردا یت ابا الو سی

٭ ےا - ا ول ال" ی۔ امام زید بردایت الو مال احلی

کا ...ال ون ا فی لی شرع جو عازن اللہ _ شرف المرین ٹین الصفالی ۴غا - | لفصول ا ملو توب ۔ تمام الین ایرا کی من بدا مادگی

نا - ا شیع لی الاعلام- مھ من ا لا ماطبائی

٣۳عا‏ تد دررالاعادیث ا لٹبوب ۔ امام یبن ائسین بن تقا کم ین اعد اتی (زیری) دا - رم الام ثی اختاف الا تم ابو عپد الہ مین ععبدال جن الشاننی 0 ا سن الامام ااصارقی۔ عطاردگی

7 ہے راع امام شاٹی

۸ےا - اسیاب اختلاف ا افتقدامڈاکنمصطیٰ ابرا ڈیم لی ۹ےا - مارگ الرصول-ملاع گل

۸۸۶ - روا لیف ا مفلول۔آ یت ارڈ سید سب رن ا فھنرگی ۸ ۔۔ مار ںالاسلا مال سی

۷۸۳۲ تق رار الطرانں۔-این نے

۳ - الدر؟ ا لیشہ۔ این نجار

۳۴ - ا لوف ۔ ا حفاوی

۵ - ال کیو مسلم۔ابینع موس

۲۹ ازواخکث- الزثی

ۓ۸) - مشاہ علام الا معیار- امن حیان

۸ - ار ابن غلرولی-

۵۹ - ار ںا فا ءا لیوٹی

۰ا - الوم الزا ہر7 این اخرکی بردی جتمال الین ااا سای ۴۷ - حم الج الغوالی-عبراللک! لتائی ا گی

۳۳ - یدن الادب وا ساس ابوا رن علی | مل

۴۳ ال رعوات- رصم الدع این طاوو

۴۳ - الام ااصارقیٰ- مم اککیسیاء ڈککڑ ماش

۵ - اڑا تل والہاتل- تہ الین ا مین ا شرستانی ۹ ۔ را العارفکے۔ ار تا

ك2 - الاعلامسعلامہ ژ گی

۸ -- 7 ا ئانع۔ امام اض

۔ الشرست۔امن ندم

٣٥ہ‏ - من مسزدرائل ا لیتں۔ چا فقل ارلہ الیائری

ا اظ تا

پٹ یکنتار ححرت امام شتف رصاق علیہ السلام رق اسلا بی بی شی نأ رس شی تکی دہ فور حخصیت ہی ںکہ جن س ےکردار اور رر زنرگالی نے اپنے عد اور متققبل ٹس امسٹ لغش پچموڑے اور عا لم بشریت پا امت آ پکی نتلدمات سے بس ائروڑہوا ر ےگا۔

آ پکی ذات ستودہصفات پر ع لی وفا ری یس بت راج ھ کک ایا ے او ریہ لکن وا لے صرف ب کہ حرہب تہتفریہ سے ماق رھت ہیں عللہ غی رشییعہ- یماں تک کہ میرمرا ہب کے حعفرات بھی اس رت مصصتفین ما لین میں شثائل ہیں۔ فتہ ر حریث کے مھوے فا ر کے وف صوفیا ۓےگرا مک یککتب“ با رن کے صصقیات' ام میات کے سضیپجےف نکی یاک یکنایں آب کے ارشادات وبانات سے مل ہیں کیں‌اشیص بج ےک ا ردد ڈیان میں امام صاوق علیہ السا ۶ ی زات آپ کے شایان شمان کام خمیں ہوا بھی علامہ مظہ رصن سار ور اولاد حیرر فوق جگگرابی اور میرزا سلطان صاخب مم اش) ریٹائزڈ سن بج کے ڈکا رشات ک نظ داز خی سکیا جا سکیا ا نکی رھی ہوگی خشت ہائے اولین طالان با کو اچاغاصہ تحت موادفراہ مکرتی ہیں۔

ام بن رصاوق علیہ السا مکی میم حخصیت پر سمل او رات فکا مکرنے

کی ضردرت ہے اور اگر یج جیا بے بضامعت ائل کی اعاضتیا نی وت

۲ صنفرصاوق علیہ السلام پر منعدد جلد یں تا رکرسکنا ہے کم نک دس جلدیں )امیر ےک عم دوست حعنرات رجہ فرما نیس گے۔ یہ چند اوراتی جو ہریہ قا تین ہیں امام صاوق علیہ اللام اور ان کے عم کی لی سی جیک ٹپ ںکرتے ہیں نشن میس ححصوس انداز ٹس امام عالی مقام علیہ السلام کی شنصیت کے ملف پہلوو ںکو اجاگ کر ےک کوش لک یکئی ہے۔ امید سے علا ۓےکرا م ند کی نا سے دیاھھیس کے او رکو] جیوں سے آگادفر ناس ے۔ اکر بارگاداماصت میں یہ نذدان قجول ہوگیانڑبسی میرائزشہ آخرت ہوگا۔ ارم الشریبہ ڈاکٹ خی ن لی

حیات مبارکہ الیک نریں اع ارارک حر وا رحژم ے حضرت امام مج باقرعلیہ الام واراکانام محقرت امام زین العاہ رن علیہ السلام دازر: عظدہ محترمہ ام فردوبت القاعم بن مھ بن ال ی بجر ولاوت ٭ سلسلہ امامم تکامہ چھٹا آفخراب رین مود ہکی حرز جن ء ےار رج الاول کو طلوع ہوا اس روز بجع یا سوموار تھا- سن ولاوت ۸۰ھ با ۸۳ اج ری ے۔(باختلاف روایات) عل ٠‏ آ پکاقد درمیانہ تھا نہ بہت یی تھے نہ بیستت ف نرہ چان دکی طرح دومن نس میں سے را غکی طرح شعائیں پوبتی تھی ں“ آپ کے پال سیا رکم تھے اور اک ستوا ں تھی آپ کال ساد مہ تھھا۔--.ا کیتیں * ابوعپراىر اورے سپ ے مہو رلفیت ہے۔ الو ١۔ہاختل‏ اور الو موی۔ الاب ؛ آب کے القاب بت ہیں جو آ پکی حخصیت کے ملف پسلونوں پ> روشنی ڈالے ہیں۔ ان میں سے چند مور القاب ہہ ژں- ااصارثی ے سب سے زا مشمورے۔ الفاضل *الطا رانا عم اکا قل ۶ا لئی'اصاروڈرعا۔ تل ماقم ؛ بے سے نقوش متقول یں۔ ”ماش اء الله لا قوۃ الا باللہ''۔

۴ ستغفر اللہ'ت زا دہ مور ال۔

رای ٠‏ ا مففمل بن عمرب۲'میرین سنان-ب۳

شعرام : سید عیریی' اٹُحع ی۶١‏ کگبیت ابوہریہ الابار“ العبری' تنفرین خثانں۔

زوجات مطمرات ؟: ید بنت ااصاعد ا مفری' فاطمہ بت این بن علی جن این بین می بن الی طال نی امام زین العابدی نکی پتی۔

اولاد ٠‏ اتیل بد ارلہ موس ا_کاشم “اسيا جال تاج الپاسں “علی

نیاں ٠‏ ام فرو و اسما اہ ۔

آپ کی کیائیں ٭ اڑغ افغری مر ثرباے یں۔ "ما روی عتہ بلاواسطەثمانون‌کتاباوبواسطەسبعونکتابا۳”باوا۔ے وکمائیں آپ سے روای تک یگئی ہیں ان کی تعرار ۸۰ ے اور پالوا سل ہکممابو ں کی رادم ہے مان یکل *ھاتاہیں منقول ہیں)

آپ کے عمد کے ملاعٹین ؛ تام مین خعبدالملک' نید بن عپرا لک ا لھپ پالناھش '' برا ڈیم برع الولیر مدان بن مرا ممخقب پا مار اع س بکا تل بنوامے سے تھا۔ ابوال اس | اسفاح اور الو جھظ ا منصور بتوعباس سے تھے۔

آ پکی رت اما ہت ٣۳سال‏ ے۔

اب کی 7 مارات - قیام ائمہ مڑعم السلام سے زیادہ تھی اکر ولاوت ۸ھ میں ای جاۓ 32 ۸* سال او راگ “۸ع میں تعلی مکریں ۹۵ سال۔

ْ ا پک شمارت ۵ شخوال ۸ اع کو ہوگی۔وال رھ بن سلعمان نے مصور کے تعلم یز ہرد اس سے آ پک شمارت +وگی۔

۲

ماگ عالات اما مکی زندگ یکا ہرپسلو یی وکاروں کے لح درس مرابیت اور مہ نو رس سے اما مکی سفربی اور خعربی دونوں زنرکیاں جمارے لئ مشعھل راہ ہیں۔ اماعم جیمیں اپنے عصل سے جا ا ےک زندگ یکس طرح بسرکرئی سے اور معاشرے کے مفف طیقات سے نوم ون فا علق رون جان سے برخای دن جات ہے لسن طرع یں اح ہماں تک امام شمفرصادق علیہ الام کے والہ محتزم کا تمللق ہے فو وہ دنیاے علم و عم لکی قرد پان امام مج بات علیہ السلام تھے ہج ن کالب بی ”با قر اھ ""عل مکو شکافدکرنے والی ہستی ھا ا نکی سرت رکم اٹھانا تفصبیل طلب ہے۔ انشاء اللہ ان بر علیعد ہکماب گرم بکریں گے اور ا نکی ذا تبھی عتارج تارف میں الہنتہ آپ کی والد؟ معظم کے بارے میس پم یماں یھ عر سکرنا ات ہیں۔ والرة پک دالدة معظمہ ام فدہ شیں۔ا نکیکیت ام لسم بھی ما نکی کئی ے۔ موس قریہ یا الہ تھایشنی فاعل مہ یشت التقا مم بین مھ بن اپ یککراو رآ پکی تائی اسماع نت عبدال مخ ن ین ال یتک رتھیں۔ انی لے امام “”رصارق علے السلا مکاارغادے ”ان أبابک رولدنی مھ رنتے:''ابوتھرنے کے وو حرتہ جنا ے۵ تہ الاسلام الخ مرن تقوب ال ۱ سے دہ کت ہ ںکہ ۳

نے نے عبدالا لی سے روا ت کی

: ”رایت ام فروۃ تطوف بالکعبه علیھا کساء مٹنکر فاستملت الحعر بیلھاالیسری'فثال لھار حل ممن بطوف یا امه اللہ اخطات الےءٴ'

نقالت ٢‏ قالاغتہائم علمگہہ

٣۳۸۷-1 ۳ 2‏ 7 ا او دہ اور زیپ تی لئے ہو تھی ں کپ سد سس

اسود کا امتلا مکی فو لوان ےکرنے والوں میں سے آیک گیا ٭ ١‏

دا کی بندیی و نے سفت کے خلا فکیا۔ آپ نے فرایا .8 تمارے مع مک یکوئی عاجشحت نہیں نی میس نے جو ما کیا سے درس تکیا

ہے بی مخت ہے با لیو ںبھی اہ ےکوی رج تہیں۔''

ا روایت پر نظ رکرنے سے پیج چلنا ےک جناب ام فرد ہکوئی روا اور ریاندسی عورت میں ین :ذ1 ماجدان رضالازت لح با ہک رآگی تین تب اتمون نے اس مانوااد ےکی بزرگ جستیوں سے علم بھی عاصس لکیا تاب بی فا یاکہ ہیں تمہمارے تل مک یکوئی اعیاع ٹنیس جات نیس میس شب د روز ماندان رسماات ٹس گڑار لی ہوںہ

کل" نے اصو لکالی میس ای سد سے رواب تکیا ےک امام نظ صاوق علیہ السلام نے خوداہتی وال ر6 معظ مہ کے بارے مس ایاگ ؛

”وکانتاامی مخ آھنت وانقت واحسنت واللہ

انی ٤:‏ باامفروۃ انی لادعواللهەلملنبی شیعتنافی

٭ الیوع واللیله الف مهرۃة لانا نحن فیماینوبئامن ال رزایانصہر علی‌مانعلممنالثواب وھمیصبرون عل ی‌مالایعلمون“ے شم بی دالدہ ان لوگوں میس سے عھییں چو ابمان لا تھی“ تقو کی اتی کیا اور جیا کی اور ا تی وکارو یکو پین دک را ہے اور می ری واندہ قرباٹی ہ سک میرے والعد نے قربایا اے ام قرد یں ای ےگمتا گار ھھیہوں کے لئے دنع رات می ہزرار رجہ الد سے دعاک ربا ہو ںیک کی کہ میں اپتے پہ آنے والی مھیبیموںر ٹذاب وزاب کا عم رھت ہوئے صصپ کنا ہوں جب کہ ددابی بات پر صبرکرتے ہیں سے وہ جا نے گیں۔' علاعہ سن الا شن تج قریاتے ہیں۔۔ مسعودبی نے اتی کاب اشبات الوعیہ کانتاءالصادق امفر 7 ةبنتالقاسم بن محمدین ابی بکر وکان ابوعا القاسم من ثقات علی بن الحسین و کانت من اتقیٰ نساءزمانھاوروتعن علیى بن الحسین|احادیث“" ”ام صارق کی والرہ ام سن وی ار کے والد تام اعام زین العابدمین' کے قائل اعماو صعھالی تے۔ جناپ ام فدہ اپے زان ےکی تقی تزین خواقین میں سے یں انموں نے امام زین العاب رن سے اعادیث بھی رداجی کی یژں-'' امام جمتفرصاوق علیہ السلا مکی نالیٰ کے ما رے ملین خلیاع کے وران اخلاف

خ

ہے لح ااء ہنت عبدال رن بن ا یہرتاتے ہیں لیکن چے مفید نے ردای تکی ےکہ حخیت امب رام ومنونأنے جابر بی یٹ یکو ا طراف ششرق میس حاکم بن اکر تا خھماانموں نے دولڑکیاشں امراانع کے خخری بادشاہ مد تجروکی حعخر ت کی ممدممت یس روان ہیں آپ' نے ان مس سے لیک دجن کانام شاہ زنان تھا ان فرزید دلبندامام نی نکو حخای تکیس ىہ بعد میں شمرپائو مور ہو میں اخیں سے ایام زان العاب ر۲ سرا جہوگئئے دو مھ ری ککانا مان پان و تھا ۱ نی اپے یور 27 ای جرکو عثابی تکیا اور تما حم بن مم اضیس سے وجوویس آئے .۹۔وفیات الا عیان ان خصلکان سے بھی بی ظاہر ہوا ہےکہ مرکورہ پالا جناب قاسعم امام زین ااعابرین' کے الہ زاد بھالی تب بہہرعال اکٹ علاء کا خیال ىہ سے کہ وہ اساء شت عبدال جن بن ال یجکرکی بن یں

ان معظم ہی عحمت شا نکی ُے بیی کائی ‏ ےکہ ہمارے پان میں امام تخخرت مم با علیہ السلام نے خود آپ کے والد سے آ پکی خواستةگار کی تی۔ شرب الا راو سی مخ فی رت للا کہ بز گیا سے دواجت ےک الف مرج امام علی رضاعلیہ السلام کے سان جناب تام بن جھ اور سعی بین حی بکاؤکر یا آپنے فربایاکہ ممیرے جد بز روا ر نحخرت امام حم باقرعلیہ السلام نے اسم بن مھ سے اپنے رت کے ل ےکما تو اسم نے ححقر تکوجواب دیاکہ اپ والد - تم سے اس بارے میس رتو کی ماکہ آ کی شاد یکا معالطلہ لے ہو ےت ا۔ خماتمہ ا رشن ہش عیاس فی کت ہیں ان محتم ہکی وجہ سے امام ماد یکو این تس ہکگی کتے ہیس حا

۵ُ

بن بھائی کشف ا لف کی رواحیت کے مطائق امام مد ہا قر علیہ ااعلام کے بین فرذند یی امام جفر مار علی. السلا م“ عپرائشہ اور ابرائیم کے اور صاج زادگ ۴ :۱م لہ تھا “ا منا قب ابن ش رآشو بکی ردایت کے پیش اظرامام مج بات رعلبیہ الملا مکی اولاوت سمات سے نجن شی سے ایک امام تجتطرصاوق علیہ السلاح ہیں بن کی بت سے آ پک یکنیت ابو معظ ری اور ایک عبرافلد اما ہیں ہہ دونوں : فرات جناب ام ڈرو کے ان سے چھے۔ اور عہدائڈ و ابرائی ام خی کے یشن سے نی زعلی اور ام مہ و زین بپکی ول ہنی تھیں۔ سی بج یک کیا ہ ےکس جناب زیٹب دو سر ام الولر رے تھھیں۔ علما مکی تص رجات کے مطا لق امام متخ رصادل کے علادہ دو سرک اولاویں آپ کی زنر میں ہی اتا کرچھی تھی او نل مرف ام جمخفرصادق سے بی ہی-٣‏ ان علا کا اس بارے میں کی اخلاف ےکی وہ اناپ ما رخ رودے ظاہرہونا ےک عپ الک الا فم ہے بجی (وز و لی جو جنر یکھلاکی سے بسرعال می بث تطارے مھ وخ سے خا رح ے۔ اژر وا حواولاد

آ پکی اولا دی دا ون علاء نے وس او رجش نےگیار :جیا نکی سے مجن سمات لڑکے اور جار لکیاں۔ امام موس کاشھم علیہ السلام او مال یبا ج دا اش ى ووڈوں ایگ ماں سے ہیں اور علی جننوں تے مامون کے عری میں مہ میں خخرو کا ھا مامون نے ان مرش پانے کے بعد معا فکردیا تھا اس کے بعد ایس خ اسان

: می دیاگیا جماں مہ مامون کے اس بی ر سے ئن ماں مت تک من ۲ت میں ہیں ال کا انال ہوا۔ مامون ان کے جناز ےک وکندھھ پر اٹھاکرچلافوالوگوں نے اس سے کما کہ آل رپ جنازواس ط رح نےکر گئ ادردایں آئے فو آپ تفگ جانیں ھے؛ اس باون نے جواب دیاکہ : شع قمکی نہ روا یت ٣سوسال‏ سے قائم ہے جم نے آر حا سک جیا ئۓ مل رت مکی ردایت قائ مکی ہےسوافر یکی ردایت می" ے کہ ان کے پامھ بر ابل تجازو قھامہ ے بج تکرلی تھی اور ا نکی حکومصت بھی تقائم ہوگئی بھی لان مصعم نے حضش معرکوں میں اضیں قلست و ےکر اس رکرلیا اور اوان کے یا گی دیا ماوع نے ان کے سماسھہ اجچھا لا کیا۔ وہ بت عبات زار تچ این دنع چو ڑکر روہ رکھت کے اورجب رو عکیا نے بدنع کےکڑوں کے سوا پٹھہ پا س تہ تما۔۵ جناب کی بن تنف کے خی مرجے پر ہم بعد می ںفشگ ھکریں گے۔ امام علیہ الام کی دو ری اومادوں میں انائیل الاعرج ہیں“ انی سکی طرف اسما عیی ذرقہ منسوپ ہے ان کا انظقال با پکی زندکی بی میس ہ وکیانتھاجسالہ اکٹ ردایات اس ولا تک رکی ہیں نی زعبدائلہ و عبا بھی آپ کے فرزھد تھے اور صا جزادییں ٹل ام فدہ“ اسماء و فالیہ مفرکئی کے نام لے ہیں می چھ یکماگکیا ےک انم فردوجناب امک یکنیت تھیای یں ایک ئی لیت ںاود وسویں صا زادی فا کر ھیں۔ یہ عین خمکن ہے جن مغیدنے وضاح تکی ہ ےکہ اسماعیل 'عبداوقہ او رام فرد دی واددفالمہ بنت سیون بین لی بن ان ین یھی بن ای طالب ہیں “جب کہ امام مو کی کاشم“ مھ الدبباع اور اسحاق ایگ زوجہ سے ہیں نع کا نام حمیدہ لبرہ تھا او رآ پکی ہائی اولادیں ملف مائؤں سے تھیں۔ آپ کے سب سے

1 بے صاججزادرے عبراللد الا جے اسی لآ پگو ا وع داش ہما جا سا ے۔ فرقہ ١‏ آ پ کی طرف کہوں ہے ؟ کلف ا لح ہکی ایک روابیت میس می ععباس ' اماء اور فاعہ مفری یکو حنلف ا مات اللدولادرے ایا ے۔ تج مفید تے تر کی ےک اسماعیل کے بعد ععپداللد تھے جو واقعہ علی بن بچتفرکے جوانے سے اویبر گزرا وہ دراصصل آپ کے بھائی رین نف رکا سے اس م آ خر ہیں تتصیل سے سا میا نک رسس کےے۔ ذاتی زندگی کے چنپلو

مہ موم السلا مکی زنرکیوں کا ہرہرقدم ہمارےۓ لئ مشکعل راہ ہے۔ ا نکی زندگی کا ہرپملد ححیفہ رشد دہراحیت ہے اع حفرات تے ای موی مو ری زندرگکیاں اطاعت داد رسولکیس حر فکردی ںوی ال,بی اور تقلہرات تبو یکو پر حنلہ چنٹی نظ ررکھا اور بھی بھی اس سے سرمو تجاوز ہکیا۔ امام جتفرصاوق علیہ السلا مکی حیات طیبہ کے یہ چندپھلو اس لئ یش خیدمت ہی ںکہ منومنشین آ پک چو دی مرو

اک بن ال سکاا راف جناب مالک بن اس فقیہ می ہکعلات ہیں نی نیک ی کراب ا منوطا”ابل سشٹ کے درمیان احادیث نبوبی کے ابلراگی اور موفین تزین مجھوعوں میں شا ر ہوٹی سے ین زیاد بن دی کا مان ےک میں نے فقیہ ینہ ماک بن ا سکوس کت ہو نے سنا کہ میں اککرامام جخرصادق' کے اس جا اک رتا تتھاوہ می ری قد رکرتے اور انا گے ' میربی طرف بڑھا دی اور فرماتے اے مالک مھے خم سے حبت ہےس بی س نیکم بیس

۱۱)

وش ہوا اور ارڈ کا شگ راد اکرا۔ مایک کا بیانع ےکہ حعقرت امام ض نف رصادق کی زات وہ یک یں تے اضی پییشہ تین عالوںل میس سے ایک مںپایا ”امامصل واماصائماما بضراالضر آن" ایا ماز ھت ہوئے ما روز رکے ہوے ۱ رع بڑ ھت ہو ئے۔ آ پ کا غٌ راع پڑۓ قاہرول و ڑامرول ٹس ہوا ہے بے ہر دقت اش سے ڈور رجے ہیں آب بست خوش حگختا ر 7 زان ءر لف اور کی رالفواننر مس تھے جب آپ" جناب رسول خیدا صلی اللہ علیہ و اللہ وس مکی عدجیث مان فریاتے بھی آ پک جر:شامع وشاراب ہوچا. اور ٠‏ اییازردہڑجا کہ انابچھی نہ جا ما ایک رت ہکاذکر ےک میس ان کے سا رج کے لن ےکمیاینب ڈپ اترام باندل کی تہ سے ای رکب پر سوا ہوک رج تو جن ب بھی لیک کن ك۴ را ہکرت آ پک آوا زگ کی ر+وجاتی او رآپ ائی سوا ےکر ےرت کے یں تن ےکما نفرزند رسول لیک سے ےکنا آپ تاج ضروری١ٛے۔‏ آپ نے ڈربایا اے این عا مرا ”لبیکاللھملبیک' کن کی کیسے جمارت روب و تا جو لگن ان الد ا کی طرف .سے جوابپ ش تن ات کہ کے

لیگ ولاسشیںگ“۸)

آ پکالباسں

لی بن نقطیسن کے بی یکر حلص بن جح کا بیان ےک میں نے معفریت امام فصاو علیہ السلا مکو خ کا تم ری جب ہے ہو وبیکھا ب۹ کی ٹیس مھ جن

کی سے جھی ری عردی ےىص٢٣‏ روایات سے پچ چا ےک حطرت امام نف رصادق علیہ السلام لاس اور

تی و آرائش ب زور وا کرتے تے۔ کاو لاس وآ رائکش سے تحلق خق ارشثارات آپ ے مقول یں ٠‏ قراوئر تعا ی جمال وگ لأویی کر ے اور تی و انلمار خریت دک مائگی سے تاراض بہو با ہے جب اللہ نعالیٰ سی سو حت ناز لکرما سے فو بھی چابتا ےکہ اس لق ت کا اث اس سے ظاہرہد۔ خد ا یل ہے اور جما لکوپن ہکرت ہے۔ ایک موق پر فریاتے ہی ںکمہ میں اس عننس سےکرامہ تک ربا ہوں جسر مدان اپنا فل و اکرا مکیاہو اور وہ ا کو خا ہرنہ کرے۔ ٹپ نے می بھی فریایاکہ عجدہلباس ہن کب کک دا شییل سے اور تما لکو پن رکا ہے لیکن شرط یہ ےک دو مال عطال سے ہو۔ جا و نف رطو سی نے اپنے اسناد سے ترذیب میں روا کی سےکہ امام نف رصاوق علیہ السلام تے فربای ا داتبیل سے او گنی وگمد او نکی صصورت بنا ۓ رک ےکو نر جمنی یکر اجب جا سی پر اتی فحشت ناز لکرا ہے لے اتا ےکہ اس شحق تکاود اما رکرے۔ عل کی نپ راسے ا گے ےک یاککرنا جا ے؟ فربایا ی یں زاز جتھ خوشبوڈاے اور ات ےگ ریخ زنک رآ راس کرے ابتی عیب داد چو ںکو ڈاکے بیہاں ت فک قل خرو بآ اب تراغ جانا خر تکودورادررز قکوکشادۂکرجا ےب

رین تقوب الکلین نے گان مس روایتکی ے۔

”عن الصادق عليه السلام قال . با آنا قی

الطواف وانارجل یجذب ٹوبی واناعباداب نکشیر

البصری فقال یا حعفر تلیس مث ل ھذہالثیاب و

انت فی ھناالموضع مع المکانالذی انت فیەمن

علی“ فقلت ٠‏ فرقبی اشتریته بدیٹار و قد گان

ہد

علے قر زمان‌یستقیملەمالیس فیەولو لیست

مثٹل دلکاللباس فی زماننالقال النا س‌ھنامرائی

مش| عباد“٢۲‏

”امام صاوقی فبات ہی ںکہ می طواف مس مشخول واکہ ایک شنفس نے

مر ےکپڑے یچ عبادم نکی را بھری تھے انموں ن ےکر اے نظ تم سے مقام اد لی سے انی اتی ترا ہت دارکی کے پاوجوداییے عد ہک ور

ضرق ۳بر جوم شی یس نے ایک

دینا رکا خریدا ہے۔ عیاینس زمانے می تھے اس زمانے میں ول اڑا بہننا

نت تھا اور اگ رز یش ایس زیاتے یں تنا با پہتوں فو لو فکہیں ےک

بادی نکی رکی رح دکھاواکرتے ہیں۔''

ار کا ہی میس روابیت ہےکہ ایک ٹن نے امام جج رصاوق علیہ السلام

سے ا۔

اصلحک الله نفریت ان علی بر ابی طالت کان

لیس العشی ا یں ا ا

الم اکوتریعلیگاانا لح افقالاو :1:

علی بن ابی طالب صلوات الله عليەکان یلیس

ذلک فی زمان لا ینکرو لو لیس مثل ذلک الیوم

لشھربہ'فخیرلباس کل زمانلباس اھلہ''-٣۲۳‏

”اش آ پکی اصلاع فریائۓ آ پکویادہ وگاکہ نحخریت علی ا بن ای طالب“

کھر را مباس نے تھ ا نکی فیض جار درب مکی یا ای طر) ہوتی تھی

۵

ج بک ہم آپ کے مم پر عحدولباس ات ہیں آپ نے اسے جواب

داکنہ علی این الی طالب "ینس زمانے میس ایالم باس بے ےکوئی اے برا

تا اگ رآپ دیا ماس آ لپچ ۃا سک شرت ہو جات یں

ہرز ما ےکا مین لمباس اس ژوانے کے الکو ںککاام مباس ے۔''

بین تین ب نکی رتخزازنے اپینے پاپ سے دواجی تکی اس کا ان ےک مس تے ححخرت او عپدر اد علیہ السلا مکو دمیکگھاکنہ آپ ای ےکنڑوں کے تیج ایک سخت اور مو یڑ ےکی فیض ہی ےے ہوئے ہیں ادراس بر عصو فکاجبہ ہے پچھراس کے اوبر ایک موٹی فیض ہے میں نے اسے نو لکردریکھا او رکمائٹس آپ پر قریان لوگ صوف کے لہا کو ناپین دکرتے ہیں آپ نے قربایا یہ ہرک ہبی تی میں سے میرے بدر ہز رگوار نلقرت امام مھ با قر علیہ السلام اور دادا امام زین العاہ رن علے الام جب تماز کے سل ‏ ےکھڑرے ہہوتے لو اپنا مو نے سے مو لالم پاس پہناکرتے تھے اور پھم بھی ایماب یکرت ہںست ٣٢‏

آپ کی ٹولی سے متعلق دو روانیقیں چم یماں ج لی کرت ہیں

”عن الحسین بن المختار قال ؛ ال ابو عبدالله

عليیهەالسلام'اتخذلی قلنسوۃ ولا تحعلھامصہغہ

فان السیدثلی لایلیسھا"”

”تین بن عق رت ہی ںکہ امام شتفرصاد نے بھ سے قرما کہ میرے

لئے ٹول لادو لیکن وہ رخین نہ ہوک دکہ ھ جیسے سردا رکواڑسی ٹوٹی یں

بی جا ئے۔"

دو کی ردایت ا ہیں تن بن مقار سے ےک امام شف رصاوق علیہ السلام

ننفروااں

”عمل لی قلانس‌بیضاءولانکسرھافانالسید

مثل یلیس المکسر*۔ہ:

یھ چو سفید یں ا دنن کی ہگ ا اطراف سے لی میں

ہوٹی چائی سکی کہ ھ جعیسا سردا رای ٹولی نیس پہنتا۔''

: نا ہر دونوں رواحیں ایک بی روایت کے دو جمز ہیں جن میس امام عالی مقام

نے نین مین مق رکو سفید نال ڑا ےکا عم دیا سے اور اشیں مل ےکر کے و ڑنے یز رک سے جع تا نت ۱

فل بن براننی سے ایک شنس نے بیا نکیاکہ ححفرت امام جمفرصاوقی علیہ الام کے پا آپ کے الیک صعھالی آۓ انسوں نے دیکھاکیہ آ پکی فیض کے کال رش پوئر لگا ہوا سے ود اسے مسلسل د تا ربا آپأنے اس سے ۷و کیا دک ١‏ رہ ہو؟ اس کیا آ پکی فی کاکالر دکھ را ہوں آپ نے فریایا اتا وہ کاب اٹھالوادردیھواس می سکیاککتھا ے۔ اس ت کاب اھکر دیکھاقذ اس میں آلھا تھا

”لاایمان‌لمنلاحیاءلہٴولاماللمن لاتقدیرلەولا

کمن لا لق ۳

ینس میں ماع نمییں اس می ایممان میں صے ا تخراجا تکاان دا زو خییں

ا کن ناس عای مین من کے اس انی تچ ٠یس‏ اس کے ماس شی بھی

0 سس

یی جب کوگی برای ہوجائے تب می نی جن خریدنا چا نے اب ڈیل ٹس جم

لہ

آپ کے لاس سے متعلق یک واقعہ نف لکرکے اس بح ٹک وت مککرتے ہیں یہ

واقعہ مشمور صوثبی ومزاہر سفیان ٹذ ری اور امام صادق؟ کے درمیان شی آیا۔کائی

ےلت ”مر سفیان الثوری فی المسحد الحرام فرای ابا عبدالله عليه السلام و عليه ثیا بکثیرۃ القیمه ساےہ فقال ؛ والله لاک ۓة و لاورختءه فدنا فۓه' فقال : یابن رسولاللەمالبس رسولاللەصلی الله عليەو آلەمث لھنااللباس‌ولاعلی علی٭السلامولاٴ احد من اہائک“ فقال لە اہو عبداللہ عليیه السلام : کان رسول الله صلی اللهعليەو الەفی زمان قتر مقتر و کان یاخد لقترہ واقتدارہ وان الدنیابعدذلکارختعزالیھافاحق|ھلھاابرارھا' والطیبات من الرزق)و نحن احق من احخذمنٹھاما اعطاہاللهغیر انی یاثوری ما تری علی من ثوب الماالبسەللناس ثماحتذب‌یدسفیان‌فجرھا الیه ثمرفعالثوبالاعل یواخ ر جثوباتحتذلکعلی حلدەغلیظافقال : ھناالب-ەلنفسی ومارایتہ للناس۔ ٹم جذب ٹوبا علی سفیان اعلاہ غلِظ خشن ‌وداخل ذلکثوبلین فقال ا ےس ےگقنا

خلہ

لاعلی‌للناس‌ولبسٹھنالنفسکنسر ھا" ے٢‏ ”فان ری ایک مرجبہ مد ترام یس آئے قوذ دیکھاکہ امام صادق الیک یی مت عدولبائس یئ ہہدئے ہیں اضسون نے انا ول می سکما لم ےرا شس ان کے پاس جاکر ضرور انہیں تیج کرو ں گا یں وہ اس ارارے سے آتحضریت کے پاس آئے او رکمایابین رسول اللہ اس مع عم کال پاس ن صضرتانے بھی پہنا اور نہ محفرت نے اور نہ ہی آب کے آبام و نے آپانے فربایا رسول اکر م غیت کے زمانے میں جھ ای لے آپ اس عم کے اختپار سے یلت تھے جج بکہ اس کے بر دما لگ اود فراوانی آگئی اس کے ال سب سے زیادہتیک لوگ مس بے چر آپ نے ہہ آبیت بھی پ یھو اش کی دہ زینت جو اس نے لوگوں کے لئے لی ہے اور ناک زس رز قگی لس نے ھا مکی ہس تو الد تے جو پیج عطا ایا ۓے اس کے جم زیادہ تفقرار ہیں ہمارے علادہکون ہو سگتا ہے ؟ امے لو کی تم مہرے بدن پ پ جو لباس دک رج ہو بے میں نے لویکوں کے لئے بنا ہے پچ رآپ نے سیا نکا ام پل ڑ ےکیااوراو کا کا با کے جلد پر موجود ج تہکپڑا انیس دکھایا جو او پر کے نر مکپڑے کے یئ ھا ادد فبایا جس ب ےکپپڑے اپ ٹس کے لئ پغما ہوں اور ایی لباں جو یں نف رآ بے دولوگوں کے لے بنا ہوں پچ رپ تے مفیان کے کرے پاڑمے اد کی لباس مخت وکھردرا تھا اور تئے کا پاش رم تھا آپ نے فرمایا تم نے بیہ ادپربی۔مباس لو کو دکھاتے کے لئے اہ اوریی کا اپنے ننس کے لئ بکہ اس خوش کرو *

قر

اڑسی ہی روایت رجا ل کش میس مفیان ا شوری سے ہے ابو تیم نے علیہ لاولیاء می بھی نف لکیاہے۔ ۸

الع ردابات سے پت پچلنا ےکہ ابچمالباس اشرط استطاعت تاج بآ وہءال علال ے رید امیا ہو ای کی لمتوں کے اشکما رکا ایک طریقہ ہے ادرک بھی رح زر و اتکی سے ہناوم کھں۔ عا ما رو سیت گی دوہ نف یا ظا آررئے ہو ۓ لاس پفنا جدوع سے کین ا ہے یم 7 ی2 اما ین ہے ڈیا چاتتے۔

نتتراء وم این سے ساوک

ما خرعابق فا یہ السلام رام وھ اکن کا بست خیا ل کرت اور ان کے سما جج ضن سلو؟ ف رح یآ ملوزونں شس سے رواحیت سے ال نکا ان ے کہ ایک شب اعام صادق' ا کے سے کے پانی بر دبا تھف آ پ کا رخ بئی ساححعدہ کے اتا نکی ططرف مھا میں بھی آب کے جک ہولیا اۓ یس و پک یکوئی پر جج می آب نے عم الوب ڑچ گنر دعاکی اے پرودوگار توچ مرک سے وم ھی تک پا رے اٹ یس میں تے بد ھک رعلا حمکیا آپ نے جواپ سلامح کے بحد قربایا کون؟؟غم معلی ہو؟ ٹیس تے حرت کیا تی ان یس آپ بر قریان----- آپ نے قرنایا ا ہے باج سے ٹن لیک دح پچ میں لے مھ درے رو۔ راو یکتا ےن نے نو لک ویکھا نے چند روٹیاں شی ہوئی لیس چناضچہ جو روئی یھ ملتقی ردی خول و لکرمیں آ پکو دیتاگیا یماں کت کک روٹیوں سے بھرا ہوا ایک جیا ملا میں نے عر کی آپپ قریانکییاب. سب اتھ اکر نے یلوں؟ آپ نے فرمایا میں جھے

اس کات زیادہ نا ےگ رتم میرے ماتقہ اونب چم بکی ساعدہ کے سائیان میس پودریکھاکہ لوک سورے یں آب ایک ایک دددد روٹیاں ان میس سے ہرایک سے کے ا کے کے لئے یماں کک آخرىی مخ کک منج کے اس کے بعد ھم دا ہہوئے۔ میں نے عر سک کیا یہاوگ یکو ا نے ہیں بب ے ٹرمایا ان لوک ج یکو ایا کے لو میس ان روٹوں کے سساتھ نک بھی انیس دا ب۴۹ کاٹ یس شجبین خاللد سے تھی اسی بھی یگ ردامیت ےی ے_٣۳‏ مان واڑی

ان کیٹرنے آپ کے مع اصحاب سے روابی کی ہے ان کا جیان ےک تعیت ابو عبدانقہ امام نف رصادق بھی ہیی ں کی میس ڈدل جہوئ یکو گول روٹیاں اور کلف سم کے علوے کھلایاکرتے تھے او ہبی صرف “اوہ رولی اور ردان کا روشن۔ آپ سے گر کیک یکہ ایی تی یی کہ نذا یس ا ترال نقائم ہو آپ بلقلا کادکی ق9 تھام 2 اللہ ب یکر ہے جب دہ1کشھاوگی دیتا سے و ہم بھی شا یکرتے ہیں اور جب دہ گی ایا رکآ ہے ہم بھی گی ایا رکرتے ہیف ۳١‏ ۔کالی مس ابن فضال سے بھی ای طر کی روایت ۳۲٣.‏

عافظ الیم ا سشعائی نے اتی کاب علیہ الاولیاء مس امام مکی تتریف ان الفاظا سکاب ؟

”الامامالناطق' نو الزمام السابئ ابوعبداللہ حعفر

بن محمد الصادق عليه السلام اقہل علی العہادۃ

والخضو ٤‏ ا الع زلەوالخشو ۶

۴

نی امام :اعلقی او رسب سے آ گے پکل جانے وا نے ابوخ راید پفھرین

مجر ااصاوق علیہ السلام جنموں نے عزاوت اور حضو ع کو تو لکیا اور

ضوع وکوشہ کن یکو اخقیا رکیا۔''

کے پچ لک راہوا میارعبین .سام سے رواع کی ے؟۔-

”کان جعفر بن محمدیطعم حتی لا یہقی لعیالہ

۳۳٣ سے‎

”آپ لوگو ںکواس نر رکھانا لات ےکنہ اپنے اب و عیال کے لے یھ نہ

ہچا۔-

سلیمان بن خال راتا ےکہ آپ کے م مان غاتے میں ایک شخصس عمال ٹیس سے حاض تھا بس تکوش ت کا سمالان اور روٹیاں آتمیں سب مم الف سکم ہک رکھانے گے خوب سی رہ و گے ڈوو اش کیا ادر اس کے ہجاۓ طعام برع عاض جوا جھم نے عر کی جم و سی رہوگ فرمایا کوٹی جات یں می مکو ودی ووست رکتا سے و عارے طلعام میس سے زیادہ اور نت رکھا ما ہے تاعارم نے بی رکھانا شردر عکیا۔ آبپ نے فریاناکیر آفحضریت صلی الد خلی آلۃ وملم کے ماس کے السا رکی طرف سے لعام برع آئے ت اس وقت سلماانا* مقر اڑاور اپوزڑموجووتے آ نے قمایا ھا اخموں نے مر رکیا نو فرمایا خوس پکھا کی وککمہ ہناءرا زیادہ دوست دی ے جو زیاوہ سے زیا دہ ارے پا ںکھاناکھا اہ یں کپ نے فا اک ان عحضرات نے فوب بات

الو تھزہ ھھالی کت ہ سک میس اک مھ عاض خی ممت تھا اصحاب حضرت تع جے ای کفکھانا آیا دیما لیف ولڈن بم نے بل ہبی نے کھایا تھا بعد اڑاں خودہ اور

٣

لی تم کے سے فثی سے ما مخ یکر خی طخ پک رسے کل جم کھانے لے نوا رین ین کے اک ےگا”ولتسٹلنیومٹذعن النععےم “ہی کوٹااوں یس جو ت مکھارہے چان روز قیاصمت مم ے حاب باب ضرزر ہوگا۔ آپ کے فرمایا جن تتحالی اس سے مزرک تر ےک جو توشگوار تام ا رے علق سےا ترے تم سے ا کی پچ کچ ھکرے۔ یم سے اس متام ماد محبت وولا ۓ ال میت' ے۔

بن راشد نائل ہ ےک موک مگرمایس بشھے لیک وف مغفرت ارام نظ صادقی' کے سا کھا نے کا نف رعاصمل وا ایک خوان رونیوں سے پھر ہوا اور الک بڑا اس کوشت سے گرا ا لایا نکیا ئمس میں ےکر مر م چھاپ اھ ری ٹھی۔ نات ظا کپ ام مرکھا اور فر مایا "نستحیر باللەم النار و عود :لہ من انار ”نی ہم جن مکی اگ سے ال کی ناو جاجے ہیں نب یئآ ان کنا کی اب میں ق آ لی پٹ مکی تاب بھلکماں دا کی کے۔ آپ ہار ار ان قمما تکو و جراتے تے بیماں مت فک ہککھانا عتڈرا ہوک رکھانے کے تقایل کیا سی سب ثئے مل گآ رکھایا وو نون انتھا لیا کا و وت تا کھت کو ےا دوج ی لھا اور ین تعرس کا اھور در وو ںل کا موم ہے فرمایا قاط ے* گی وپ سے ۳

2 32 ھ روز مو لغ زا

بد الام یکابیان ہ کہ میں نے صعنرت امام بح رصاوق' کے سا تہ مرغ مسلم بس میں جو اور زیقون برا ہوا تھاکھایا۔ ماع نے فربایا ہے سی نے فا لم کے لئے

02

تفہ کنیا ھا اس کے بعد فرمایا ا ےکی راب رو زمر کاکھانا لا !2 وہ ری مرکو زتون لا ی۳۵ ال بک وحتہ

ولس ین تقو بکابیان ےک ححخرت امام جن رصاد نے الیک ھرحبہ میرے پاش عمدہ اور موئی جچوروں کا ایک اورا برا ہوا بورا ججیچا یس نے عرط سگیاای کھورو ںکاکیاکرو ںگا؟ ورمایا شودجچھ یکھ او اور دو رو ںکوبھ یکھاا ٗ_ .)۳

بوشید:طور رر سلوک

او جعف رشتھ کابیان ےک مخت امام شعفرصارق علیہ السلام نے جھے ایک گی زی او ای ا بی پاش ہین .انف سن کی رۓ دو گڑ س2 ج ےکر بن یی بی تے تسین دی ےے۔ زادا ی تا ےک یس ا ن ماگ نکد شمنلی دی کاڈ اس تےکما الد امس کے دا لن ےکو جھڑاۓ شیرردے ودای رح برای بچھنتا رہتا ہے مس سے جارا خر ع چتا ہے گر دی وک نف رین مھ کے پا ما لکیرہے رجھی دہ عیرے ساجھ الیک و رہ مکابچھی سلوک می ںکرتے .نے ۳

نشی

بخارالانوار بی می سکاب الفتون کے جوانے سے مرقوم ےک عم بدینہ مو ریس ایک عاتی سوکیاادراسے ہہ دم ہو اک میرکی رف مکی می چو ری گی سے وو ا ٹھا ذو یکھاکہ امام ضف رصاوق علیہ العلام ای کو میں نماز یڑھ رہے ہیں دہ انی پیا نہ ھا اس نے اخی ںکوپڑلیا او رک ماکہ خم نے میعرکی رٹ مکی میک

کت

ہے۔ آپا نے پپچھا اس می کی رت تی ؟ کم لیک با دینار۔ آاے بیت شرف اۓے ساب نے لئے اور ایک ہزارویا رگ یکراے درے ری وہ شف ینار ےکگھوردائیں چلا آیا اس نے دیکھاکہ رق مکی مکی ودک یھو کیا تھا رم یں مخ تحت تین لے گیا تھا۔ آپ وو نے ر7 نے کرد یں امام ٗی مت یں آیا اور ست مطزرت خواہ ہوا اور رتم واپیں لوٹائے لگا آپ' نے والپں گے سے اکا کیا اماک ہم ج چس یکو جنٹی دسا ہیں ددوالپں خی لے چنا مچہ اس بآ پکی اس عطا وش کابمت ا ہوا اوراس تے سی سے ددیاف تکیا کون صاحب چو درم وس ؟ اس جتواب ملا یہ نلفرت امام تتفرصادق ہیں۔ اس تن نے یہ سنا ھا می کام واٹئی خاندان رسمالت و امامت کے سوا کوئی دو را انام خییں رے

ای ہش ہ ےکہ ایک مرج ٹسل تلم چھفرص قجی مت ٹس آیا تو ومیکھاکہ آپ علیل ہیں انا ران برک یکرنے لگا آ ٹپ" نے فرما کی شردرتہ ہو ابا نکرد؟ بک نکردہ آ پکی صحت کے لئے دا میں ما سک ےآ ایام نے اتنے لام سے ددیاق تکیا تمارے پاس تھی رم ہے اس ت ےکما ار سو۔ آپاے مروا رب ا ہاور ےو

تراتق

”دخل سفیانالثوری علی الصادق عليیهالسلام

فر آەمتغیر اللون'فسالەعٰ ذلک'فقال ؛: کنت

نہیت ان یصعلوا فوق البیتٴفدخلت فاذاحاریہ

کر

منجواریممن تربی بعض‌ولدیقدصعدتفی سلم والصبی معھاٴ فلمابصرت بی ارتعدت وتحیرثا وستطالصبی الی الارض قمات فا تغیرلونی لموت الصبی وانما تغیرلونی لماادخلت علیھا من الرعب؛ٴ وکان عليه السلام قال لیا التے ےت لوحة ل2 لابا خلیکگَ مرتین ت۲۸ ”ایک وفعہ سفیان فو ری اعام صاوق علیہ السلام سے لے آئ ونیک ھاکیہ آپ کے بچرے کا رتک منفقیرے سفیانع نے اس کا سیب کو بچھا لو آپ نے قرنا کہ می سکع کی بچعمت بر جح ےک وت عک را ہوں جب می ںگھریں واخل ہوا نو میری اسیک ملا زمہ جو میرے ایک کی گگممد اش تک کی ہے جےکو لج بہوئۓ سیٹڑھی بر جڑھی ہوگی ھی لی جب اس نے ش دیکھا ران ہوگئی او رکا گھی اسی اشاء ٹیس یہ زین ب رگم کے مرکیا۔ می را رک ہج ےکی موت سے فی نیس ہوا بلہ انس پر جو می رحب جن ایا ہے ا سک دجہ سے مرا رنگ بد لککیاىچ رآپ نے اس علا زمہ سےکما و ای کی خخماط رآ زادرے چچھھ کوٹ یکرفت خیں۔ دو مرتبہ بی فربایا-“' قضاے حاج تکاسلقہ

مطفل بین خی بن ران سے روایت سےکمہ میس ایک تہ حضرت ابوعبرائشہ شجتفراصاوق علیہ السلا مکی خرمت میں عاض ہوا اور اپچی پریشان عالی

2

یا ن کی نمزدعا کی درخواس گی آ پت ےکن کو وا زدگی کہ ذہ لی نے اپ تو ا ہم رکی طرف سے چھ فی ہےکنیےردہ مکی لے آئی آپ نے فرایا اس یس چار آرار دیتار ہنی نے او اور اس سے انی حاشت پور یکرو۔ میں نے عر ضسکیایس آپ پر ند ہو جاؤں مہا مطلب ہے تہ تھا لہ می در خواست دعا کے لے تھی آپ نے قرنایا ان یں وعاجھ یآ رو گا دنا رک ن کرو ںار دیھو ابی م بای اور خاش تا فی ووعررے سے ان : نہک یاکردورہ تم اگ سائے ططیف ہو چا سک ۹۔کالی بیس علی بن این سے بھی اسی کے نضل رواحیت ہے .ب٣‏

[ یا

٢_ۓ‎

بن زی شحامم سے روابیت ےکلہ جھے امام متخ رصاد علیہ السلامم نے مسر

لی تھا زبڑھت ہو ئۓ ویکھا لو وی می اک رھ پا یا اور تھا مکہیاں ےآ ہو؟ ٹس تے ع رسکی آپ کے دوستدرااروں ٹیس سے ہہوں۔ لہ چھاکماں کے رے وا لے ہؤ؟ مٹیں تے عرن سک یکوفہ کا فربایا ای لکوف میں سے مس یکو جات ہو؟ میں نے عرن سک بی ہاں شی ال اور شر کو قربایا ان دوٹو ں کا تممارے سام کیا لوک سے؟ میں نے حر کی ان دونوںککا لوک میرے سا اپچھا یس ہے یح نکمر نے فرمایا سب سے اتچھا مسلمائن فو دہ سے جو اپنے بھاتیویں کے ساججد نیک ملا ککریۓ لا نکی بد ےی این لقع شیا نے و ار مین ےکوگی رات انگ نمیں بسرکی نس میں اہی مال کے ائدبر حا مین کاخ تہ رکھا ہو۔ نچ رقربایا.--- ا تراجات ےج ارت ا قکیا ا عر یل دو سو ورکم۔ قرمایا او گے دکھاؤ۔ ہیں نے آپ کے سام و رکم ٹیش سک لاس ٹیس آپ نے میں درجم اور دووینا رکا اضاف قرمایا اور را تکاکھانا ا نے ساجھ کھانے پر زوردا۔ چنا تچ رات کا کھانا بیع ےپ کے سماتجھ بی کھایا۔۔ را وی کا مان ےکم دو حسرے روڑ میں ب کے ماس خی سگمیا تے آپ نے آ وی مگ چکر یے بلوایا اور دریاضت ٹربایاًک کیا بات تھی ح مکزشتہ ش بآ ےکیوں خحییں؟ میس تے عرخ کی آپ نے جن بادالیا ہوم لو عاضررمت ہوجا ما۔ آپ نے نایا جنپ جک تم ان ٭و وا‌رے مسمان ہو آتے جاتے راکرد اجچھا اب تم يہ تا ےک ہکھاتے بیس می ںکیا زیا دہ پند نے خرس کی رودھ زیاد: ین دک را جہوں آب تے مر ے لے ایی دددجھ دی وا ی ری خخرییدی ننس سے می فذاشع ذریات رتتے تھے راد یکا بیان ہ ےک یں

۷۸

ئے ایک رو زکولی رغا لی مک رن ےکی ددخواس تکی قےآپ نے دع ابھی تل مکی اس کے بعد آپأنے اہی ٹیش مبارک پر دونوں پا رک ہک بلند سن اور یا ں تتک کر ر تھے کس دونوں پا آنسوؤوں سے بھ رگئے۔ ےا

واوو رکا راہ

قدار بن اعم سے ررایت ےک تخفرت امام شنفرصادق علیہ السلام تے ارخار فربایا کہ دہ لوگ جو بجھ سے طلب عاج تکرنا جاتے جں ان 0-0 سے بڑاوسیلہ اور ذدلیعہ یہ مجھنا چا کہ نس شحف سںکومیش پیل بی سے ینہ نہ یھ دتا آیا ول اس کے لے اپتی دادوددہش چاربی رتا ہہوں بللہ اس کا اور زمادہ لیاا گر ہو یکیوکہ یں نے دیکھا ‏ ےکہ جن سکو وس رتبہ دے چکاہوں اگ ا کو او یں مرج ضدطماودہگزش دس مرج کے دیے ہوئے احصا نکوبھول جانا سے اور ائی۱ ریہ ٹہ وت ےکوباز رتا ہے نزیس نے عاجت مندو کی عاح تک وی ردص نکیا ےلم

گی سے روایت ہج ےکہ امام پتفرصاوق علیہ السلام نے فریایا احسازن و عطا دای ععدہ ہے تو سوال سے ےل ب یکر دی جا ۓے کیو مہ وال کے بعد اگر مت ےکی کو یھ دیا اود احسمان میس بلہ دہ سال کے عرق انشعا یکی قبت سے تو اس نے ما رن نمامتے پیش نکیا :وہ رات بن زجاگا ہے کرو یدب یج امیروبائویی کے خائم میس رہا ہے ا ںکی کجھ یس نیس ٢‏ تھاکہ وو اتی عاجم تکس کے سا سے نی سیکڑیۓے الا خر دو بت بٹھ سوپتنے کے بح تھمارے یا آیا ری ا سکاول ارز را تھا مت م کاپ رہ نام اس کے بر ےکنا 039-201 رہے ےک ا سکو یت شس

.'‌

اوہ تمارے یا سےکاصیاب جات گگایا مٹسس او ما ٣‏

لے رواحیت کہ اس ےکی نخس نے بیا نکیاکہ ححضرت امام جنظر سار علے السا م اکر صرتے ین رج ے۔ آپ سے دریاش تکیاگیا آپ جک رصرتے میس دی ہیں ؟ فرمای ہاں امہ مھ بہت زیدہپپند ہے اور چابتا ہوں کہ دہ چچ نفد قرو جو مہرے نزدیگ سب ے زیادہپہند یرہ ہو ۴۴-

بے لکاشی ےکھانا او رکھلانا

عھبدال جن من تارج سے روایت ےک ایک عرحہ جم نے حعضرت امام جنر صادقی علیہ السلام کے ساخجر کھانا کھایا فو ایک بڑے طشثت میں چاول آئے جم لوکوں نے تکلف کے ساتھہ آہست آہسس کھانا رو عکیا آپ نے فرمایا تحم نے فو یھ بھی نمی ںکھایا۔ اتا لتلف شم سکرنا چانے جس کے دل میس ہار عحبت زیادہہوگی وو جمارے بمال سب سے زیادہکھھائ گا یہ ح نکھرشی نے دستزخوان یر رھی ہوک ی پش تکو سنبھالا اور انیک طرف سے صا فکرتے لاخ ب آپ تے فرمایا ہاں !اب ل خم نے کلف بر طر فک کےکھایا۔-. ۵‏

عمبدااش"د بن سلیمان رق سے دواایت ‏ ےکہ میس ححقرت امام ساد کی رت مس حا ضر جوا صمارے لے ےکھاتا آیا اس میں بھنا ہوا اوشت اور دو حرگی یں تس بی ایک لبق می چیاول ئے میں تے تب کے سا رکھانا کھاا کپ ئے قریایا او رکھائَ۔ یں نے رت کی ولا ٹس ن کھما یکاہ آپ تے قربایا میں اور کھاؤ اس سل جک ہکھواتنے میں بے نقافی بربنا پختہ دوس یکی علا مت سے پھ رآب نے ابتی انایوں سے طبق میس سے بیجنے حصہ معربی طرف بڑھایا اور قربایا “میں میرے

سس

نے سے بی بھ یکنا ےگگاس ریس نے دہ تہ بھ یکھایا۔ ت۷

امن رج سے ردایت سے کہ یت امام تفم رصادقی علیہ السلام ئے کھھاتا موا ہی لایاگکیالہ آپ نے ہم سے فرایا ادر قریب آجاؤ مالہ آسانی سےکھا عو ین ہم لوکون نے زرے لف سے کا لیا آپ نے فربایا تللف نکرداور کغاذاسس سل جک کھانے بی سے بااھی عحب تکا ا مار ہو با ہے پھر لوگ اوش کی مرح با نے بے مج ےکھانے کے

عبیدوا سی نے لان سے روامی تکی ہے اس کابیان ےکمہ ایگ ون ین نے نعخت امام بتفرصادشی کے ما را ت کا چھاناکھایا آ پکایہ ضعممول تھا مہ بعد مماز مخری نکھان نقاول فربایاکرتے تچ ےکداتے میس ص کہ زجتون' لع آگوشت آیا آپ نےکوشت میرے لے چھوڑ درا وہ یش ھکھلاتے رہے اور خوو آب تے ہا اور ٹن موی فرمایا چردو ران طعام باج رو فک رف مایا ے طارا اور ایام کا

انا ے۔ ے۸ ۴

سیق عطاءکی یم کان الہ کا بیان ہ ےکہ الیک ہرتب ہم لوگ مظقام می میں حضرت او گرا ضف الصاد کی خحدممت میس حاضرتھ ہم این سمامے کے بہوہے اگور گھارہپے تھے “ات می ایک سمائکل آیا ا نے سوا لکیا ٹپ تے اسے اگگوروں کا ایک خوش دی کا عم ویا۔ انل تن ےکما ش ا سکی ضرورت نمی ہاں اگ د ہم دو دے ہہ چ----۔ آپاأنے فرباا نچ رجاؤ ال خ"ازی او رد گ۔--۔ سا مل

چلاگیاادربجروائیں گرددی اگو رکا خوشا ماگ لگا۔ آپ نے فربایا جاؤاط شمیں

٢

ارد ےگا آ نے ا یک ضہ دیا۔ پچ رآنیک دوسا اتل آیا نے اسے ا گور کے تن ٣ت‏ نے ع اگل تے ارت لک رای ا کا نکر ٹن ے جیے رز ویا- امام علیہ العلام نے فرمایا ای بن جانا میں پھر ا سے دوارول با بج رک را گور دئے. سائل نے نے ث نے اور پچ رکم اس دای تھزے جس نے شھے روزبی دی آ نے فربایا ائچنی شر جانا شضڑ سب می ہک ہک ہپ تے تجلا ‏ کو بلایا اور پچ ھا اب تمارے پاس كکئتے ددیم بائی رہ گنے ہیں؟ اس نے نواب دیا یں در ھم۔ آپ تے وہ گی سائت لکو عثبیت فریا یئ ما خل نے وہ بھی لے ما ”وردگار جا گر مر ہو بی بی بی عطاے لو اکیا ے تر اکوکی ش ریک یں آپ نے فرمایا تھی ای نہ جانا یٹک ہک رآپ تے ابی ٹیخش ا ماری اور سا لیکو عطا قرما دی او رکم کہ ا مین موا نت ےکا اس مہ اکا شھگمرجنس نے بے لمبامس ابا اور ضرا برن ڑھاضپ دا اے ابوعبد اید آ پکو اید جات جم ردوے۔ ا کرد وساتل بنا اور چلاگیا۔ ار وذ تہ جانا فو آب ا یکو یگجھ نہ بکھ رت رسے گیل ہرعطاءر دہ شگر الا رہا تھا اور انل تعا یکا زان ےہ ج ریا ارے کاو میرکی عطائیس اس کے لئے اضافہ بی با ر ےگا ۴۹۰

جار تہ ریت ین تقوب الک لسن نے فو عکائی میس روابی تکی ہےک- عليەالسلاموھویریدانیعزی ناقرابەلەبمولودلہ فانقطع شسع نعل !بی عبداللهعلیەالسلامفتناول

۲ .وی سی ا وید ہں مھا ر ناولہ باعدللہ علیہ اسلام ذاعرض عنہ تیغامضین کین ا و ا 27 د ان حافیاحتیەخ لعل یل رج الات و بے ”لینتوپ بن مرا ج کت ہی ںکہ جم ایام پمفرصاوق علیہ الام کے سا جارب تھے وہ ان عسی قرابت دار کے جے کے انتقال بر احزیت کے لے جانا چا سے انفا تا امام کے جو تے کا سعمہ ٹو گیا یں آپ نے اپنے پیرے انا رکرہاتھ میس نے لیا اور گے پچی یل پڑمے ابن ال ی لتفو رکی مان پر پڑبی اس نے انا جوم اپنے پیرسے ]را اوداہ یکا مع کا لکرامام علیہ الا مکو دیا پ نے ال نکی طرف سے اس رح مضہ برا یس خقبنناک ہوں پچھ رس .. قیو لکرنے سے انکا رکرتے چو ے کماکہ صاحب معیاب تکو اس پ۰ مب رکرنا زیادہ بت ہے پچ رآپ پیدل لت

رہے یہاں ت کک اس ک ےگ ینیچ نس سے احزیتکرنی تھی“ طلپ رزی

آل منام کے فلامم عبر لعل سے روایت ےگ گی یکا زمانہ تھا ایک دنع

بت جن تگمبی تج کہ مین کی راہوں میں حعقریت ابو پدایٹہ شف ر لصاو" سے

لاقات ہوگئی۔ میں نے خر کی میس آپ پر قریان آپ ایک دا رسیدہبزرگ ہیں اور رسول اگرم صلی الد علیہ و لہ سکم کے اتریاء یں سے یں او رپ کا یہ

2

عا لکہ اس شید تک یاگمری می بھی ان نف سکی راح تکاسامان فراہ مکرنے میں مشقول ہیں۔-۔---- آپ نے فرایا اے خبدرالاعلی میں طلب ر زقی کے لے یلا ہیں ماگ ھر ےا قرا رارست گگرۓ رہوں۔-ے.۵۱

فزز ہیں ے سلوک

ص بن الی حعائکشہ سے روابیت ےکہ ایک عریبہ امام پت رصاوق علیہ السلام نے اپنے ایک خلا مک وکس یکام سے پھہجا ا کے آنے می خی ہوک فو خودا کی حلاشش میس لک ليکوڑے ہوتۓ آ نے ویک اکم دہ ایک جکمہ ڑا سوزماے آپ ام سھرجانے ہی گئ اور ہما چھلنے گے جب اکو خی رسموللی ہوا موس ہوئی نود جاک گیا اور آ پکو ویھنتے بی بہت شرمرہ پڑا۔---۔ آپ تے آرتایا کر ھی ارت زیب شی دی کہ نے رات می ںبھی سوئے اورون میں بھی“ سونے کے کے رات بس تکاٹی ہے اور تی دجہ سے ون میس یں در رےآ رام ملا چائے-.۵۳

مزیدر کی ادا زان بن شعیب سے روایت ےک رت ابوعبرالڈد نف رااصار علیہ الام کے اح میں کا مکرتے کے نار ان٣‏ کے روڑا نی مردو ری > رکھ ایا ۔کام کے اوقجات عصرتک تھے جب ؟ع سب لو ککا مکرکے مارح ہو تے پنے اپ ظام شب سے ڈرا کا رخ ہونے سے یل نکی مزدوری ار اگرووس ۵۳

2

میں محاوشت ام تاح ابو حطیف ہکا بیان ےک میرے دامادادر ضیرے درمیان ایک مرا کے سال جس ا شاف نوا ادھر سے مففل بن ع رکاگزر ہوا نود یھ وم جارے با کھڑے رسے رما سو چھگڑا ن ہکرو ممیرےگع مآ چم لوگ ان کےگھ رنج نے چار سوورمر اکوں نے کرای اوت رم بھی اپنے پاس سے اداکی پل رہم دونوں اک تفر نج معلمٹن ہہوسگئ قوذ انوں ن ےکرک فو اریہ مم می ری خمی سے بل امام جنفرصادی علیہ السلا مکی سے اور ان کا عم ےک ار جمارے اصحاب میں ے دو آدمیوں می سکولی تنا زرغ مالی توعحی ت کا ہو میرے مال میس سے دم ادا رکے ا نککاجھکڑا کا وت نے رم وراصل ابوعپرائلہ جمفرالصاد قکی ے- ۵۴ اش اتال

یم بن الی عم رکا بیان ےک ححخرت امام نف رصادق علیہ السلام نے اپتے فلام معتب ما ریغ میں طط سے اصاخ کے رغ ببمت بڑہخہ گے ہیں ہمارے پل اراعکالاؤ خر ہے؟ معتب نے جواب دا اتا ہ جک کی مینو ںککائی ہوگا۔ آپ' نے قریایا اسے ٹکالو اور فروش ت گرووں مت بکتا ےک ٹیس نے ع ری کی ولا تر ینہ یں سامائن خو راک بالکل میں ے۔ آپ" نے فریایا نہ ہو“ اسے فرش تگردو۔ جب میں لعف وش تکردیا فو فرایا اے معنب تم بھی اب اور لوگو ںکی طرح روزانہ سامان تید اکرد زی بھی فربایاکہ الاک کہ میرے عیا لکی ورک میں تصف جو اور لص فمکیو ںکردو۔ الد جا را ےکم میں اتا رتا ہوں لا میا لک ومگبیو ںکھلا دوں لان میس ىہ اتا ہو ںکمہ الد یہ چھی کچھ کہ

٣۵

یس معیشت می ںتغابیت شعاری سےکام نے را ہوں اور اس میس وا زان پیا کردا واغ۔-_-۵۵0 آپی مامت برک

عق شیع ہکی روسے اماصت ای کسی نی مہ دی منصب ہے لیجنی اس کا لین خود الہ تال ٰک را ےکہ اما مکوان ہوگا اور یک امام دو صسرے نے وائے ما مکی نشاند یک را سے ا سے مھ نھس؟ ۰کت ہیں۔ لین کسی اما مکی اماصت کے بارے یس ووصسرے امام کا ارشاد- ذیل میس ہم امام صاوق علیہ السلاس کے بارے میں چتد نصو کا جزکر ہکرت ہیں۔

02 ارام

مفیر اٹ یکاپ الا رڈارٹ قزر آیایا جج ک-

-١‏ ”قال جابر بن یزید الجعفی' سئل اب وجعفھر عليهالسلامعن القائم بعدەفضرب‌بیدەعلی ابی عبدالله عليه السلام' وقال : ھنا والله قائم ال محمدعلیھمالسلام٥۵‏

”جابرین بزید ا پھن کت ہی ںکہ امام بات علیہ السلام سے پپیچھاک کہ آپ کے بعد امام ما مکون ہوگا؟ نے امام متفرصاوق علیہ السلام پاتھ رک کر فرمای اکم بندا میرے لد بے قائم ل محر صلی اللہ علیہ راز کے

السلام : کنت عنلٴ فاقبل جعفر عليهالسلام

ك۳

فقال ابو حعفر عليهالسلام : ھناخیر البریەاو اآخرۓ۵

”امام مھ با علیہ الام کے ص٤خای‏ طا تھے ہی سکنہ میس اعا مکی ند ممت بس اض تھا ات میں تفرعلیہ السلام نریف نے آئے فو امام با تڑنے فرمایا یہ خی رالبریہ ہے۔(شانی تیگ افراریں سب سے مت)'"

۳ - ”وفی حدیث لەعلیهالسلام مع الکمیتو قدسالەغن الائمهعلیہمالسلامفقال ٤و‏ لھمعلی بن ابی طالبو بعدەالحسن وبعدەالحسینو بعد الحسین علی بن الحسینواناثمبعدیھناووضع بدەعل یکتفحعفر الخ" تثص۵۸۷

لیت سا ام با قر علیہ الام ینگ میس ےکہانوں نے ائم عم السلام کے باارے میس پیچھا تو فربایا لے علی بن الی الب ہیں ان کے بعد نان کے بعد یش نان کے بعد علی بین الصمی نان کے بعد 'میں'' اد رپچ میرے بعد ”ہہ "اور نک ہکر +متفرصاوتی کےکندر تھے پر اھ رگودیا۔''

ڈ - ”'قال نافع ؛ قال ابو جعفر البافر علیەالسلام لااصحابەیوع‌|ذاافتقدتمونی فاقتدوابھنا'فھوالامام والخلہقەتعدیے؛۵۹

قالبولصالحلکنانی : نظرابوحعفرلی|بنەابی عبدللْخْقل : تریھنا؟ھنامن لنی ‌قلاللَعتعالی

۱س

وٴنریدان نمن علی الین استضعفوافی لارضو

اسعل و انم ونجعلی لورئین ای ح٠‏

متاح کت ہی سکہ امام حم یا تر علیہ السلام نے ایک روز اۓ ا اپ ے

فرمایاگہ اک ری خم مد رہوں و ا سیک یوب یک رن کیج میرے اد

بی امام و خلیضہ ہے ابوصا غحکنال یکنا ہ ےکہ امام ھ جات علیہ السلام نے

ان ہے مع صاد یی طرف دیکھا نے فربایا تم نے اسے دیکھا؟ بے ان

لوکوں میس سے سے جن کے بارے میں اد نتھالی فھرا ما سے او ۴م چا ہے

مہ یکلہ جنزن لوکو یکو رٹنا حصال کے ذر یج ضصصحیف کرو ا کیا ے ان

پر اما نکرییں ہم تے اشی امام بھی بتایا اور اس زش ن کا وار ث گی

ترارویا۔''

صدوق نے ات ی تاب میون اخبار الرضا"یس ایک طول عدیث ور جک ہے جن س کا متتعاقہ حص بی ہ ےک اپ ی نر سے روایت ےک جب امام مجر با قرعلیہ السلا مکا وت وفات قرب آیا ے آپ نے ا فرزند و یش رححضرت امام شتفرصاد علیہ السلا حمکو بلایا ہمہ اب خر ة امامت الع کے سر دکرومی فان کے بھائی جناب زی بن علی بن این علیہ السلا مپھی موجود تھے آپ نے فرایاکہ اماصت یک الییا عدہ ہے جو ال تھال یکی جانب سے ٹل شمدہ ارہ اور میرے بعد میرا فر زی ت٭عفظر یت مداے۔ اھرائے چو لے سے شر ہے ا

عليیهالسلامیقول : انمن سعادۃالرحل انیکون

لەالولد بعر ف فيەشبه خلفەو خلفَەوشمائلەو

الی لاعرف من اہنی ھنا شبه خلقی و خلقی و

شمائل ی‌یعنی |باعبداللهعلی"السلام"٢۷‏

دم ا برق سے ددایت ہ ےکہ میس نے امام مج بات علیہ السلا مکو

کھت سنا اکلہ آدب کی سعادت میں سے بے ہے کہ ا سکا یک السا بنا ہوجو

شل و صورت اور اخلاتی یش پاپ کے ما ہو اور میرے جاں شش

سے شکل دصورت داخلاق میس اپنے اس بی سے زیاددٹ سکس یکو اہ

سے مشا یں جا خخرس۔"

علامہ یا ٹا ھبد کی تق کے مطااق حدیث ہاور یٹ نو رت سے ٦٦‏

اان ددایات مبارکہ سے داع طوربر پت چتتا ےکہ امام مھ باق علیہ السلام ے داز کپ کواچا ای عق کیا اناکپ کے بدا مزا اماہمرت کا تو دگوٹ کیا تھا وہ غلط تھا روایات سے بھی بت چتا ہے راپ ڑپ جن لی نے امام رجات رعلیہ السلام اور ایام نف رصاوقی علبیہ السلام کے ماب ٹیس تو دوہی امام کیا ما دہ یھی اط تھا

اس م وضو رر ہھم آگے جی لک رقف کرس گے۔

احتزاف اکابرین

یں نز شخصی کی عظمت صرف دد چوڑوں سے ولوں میں پیدا ہوتی ہے ایک ند یکردار و اخلاقی اور دوسرے عم دض ادام جنفرصاوق علیہ السلا مکی تخصیت کے دونوں پھلواس قر روس وع لیف ہ ںکہ ہہ مق کنا ب الن کا گی اعاط

ں۲

تی سک رق پھ بھی ہم ن ےکومشش میہکی ےکلہ چچند ردایات کے حوائے سے تا رکی یکو امام علیہ السلا مکی بعد یکردارد الا قکو اگ کردہیں رہا می پھلو تق مہ اخزاف کۓ یٹ یکوئی صاحف عم خیں رہ سکناکمہ آپ عم کا ایک ہک رنابی اکنا تھے آپ کے علی پھلو بر ہم علدہ باب می سن رکریں کے شخصی تکی عفظرت کاابرازوای سے کی ہو ہی ےکک اقارون رزادرے علم و ففقل کے ا را می میس کے پارے می ںکیا ہیں؟اسی مقصر سے چنداکابرین کے ا عتزافات بیمال در کے ضا ہیں ز) عافظا شس الدینع ذ ہبی گرب فریاتے ہیں : ”جعفر بن محمد بن علی بن الحسین الھاشمی ابوعبالل“ احلالائمه الاعلام' بر صادق گبیر ا وی تریس محر بن علی بن الین ہاش “کنیت ابوعپرارشدہ آپ اکم الام یں سے ایک ہیں کیک ہے او کی را ژان ے۔'' عافظ شرف الدین وو شار ح کچ مسلم اٹ یکتاب میس ت ریو فریات ہیں ٠‏ "٭روی عنه محمد بن اسحاق و یحیی الانصاری ۱ ومالک والسفیانان وابن جریح و شعبە و یحمی القتطان‌و اخرون و انفقوا على امامتەو حلالتەو سہادنەقالعمر وبن ابی المقدامکنتافانظر نتالی حعفر بن محمدعلمتانەمن سلالەالنبیین“ثت۵ علیثنی ان سے بن اسعا “کی الافصاری ماک بن الس فان فو ری

“٣

اور سفیاان بن سے ٤ابن‏ جج 'شعبہ کن ا قطان ادرددسروں نے روا ی نکی ے' لوگ ا نکی اباست' جلاات قراورسیادت پر معلنی ہیں بن الی المقدام مت ہی ںکہ می نے جب بھی رین مکی مرف رھ و جیے معلوم ہ اک یہ موی ںکا غلاص ر۔“

۵ ان کان کاب امتزاف ضنے کے ا نے : ”احدالائمەالاننی عشر علی مذھبالامیەوکان من سادات اھل البیتو لقٌب بالصادق لصلقە٭فی مقالتەوفضلە اشھر منانبذکر۔۔۔-وکانتلمیذہ اپوسوسی جاب رم حہانلصوفیطرطوس قد الف کتابایشتمل علی الف ورقەیتضمن رسائل حعفرالصادق وھ یحم رعمائەرسالہ ٦٦‏ ”آب نہب امامیہ کے بارہ اماموں ۴ی سے ایک ہیں آپ ائل جیت کے رداروں میں سے چے اور ابی کت یف کی بزاء یر آ پکوصاد یکا اتب گیا ا نکافحقل اس رر مور ےک کی عاجحت نیس ان کے ایک شاک رد جابربن حیان| الطرطوسی تھے انموں نے ای ککراب لک جو دوہزار صفیات(ایک بڑمارورقیں)ءر تخل ہے اوراس میں امام متفرصادل' کے ن۵ سورس ون"

مونمین تد ری ن ےکک راے :

”ومناقبہکشبر ؟ نکاد تفوت حخدالحاسبو بحار فی‌انو اعھافھملیقظالکاتب“ے٦‏

:

صضپ ینف اپ انی فد ریخ سک حا پک نے زالا گار خی نک رسلا اوراک ہرار ونم نف اے تشائل گے لف انواغ ے ورطہ بت جن ودب جا مات ٦‏ ں0 مور اریے “ور خغ اور منسرابن کی نے آپاک یکا پ ”خر کے پارے ِں ان الفاظ ضں خیالا تکااظما رکیاے : ”وکتاب الحفر گتبه الامام حعفر الصادق ابن شےافہ”ت۸٦‏ تاب پنف ر کے مصنف امام نف الصاوق این عم ال باتڑہیں اس مل وہ سب یھ مو جو سے نجس یالدکوں و قیامت کلک فرورت ے۔'' ۵ مین علی الصبان مع ری خر کرت ہیں : ”واما حعفر الصادق فکان اماما نبیلاًٴ وکان ماب السولام ل شلام توفلاومر بے یدیهہ' ے۹٦‏ یی ختطرصاوق و وہ امام پیل تے او رآ پکی دعا فور تول +وئی عی جب کسی شے کا سوا لکرتے و ھی بات اور ی مہ ہہوت یکسہ وہ یسا نے آُموجوہوگی_“ 0 بد الوہاب شعترالی تے للع ےک ”وکان‌سلاماللهعلیءاذااحتاجال یش یقال یا رباءانا احتاج ال یکنافما بستقم دعائە الا و ذلک الشلی

اراز

بحنہەموصوع' ےھ ”آپ سلام اللہ علی کون ب کسی ےکی ضرورت تی می فے آ پ کن

لے ا رپ چا لان مکی شاب لایر رھا گل گئ طْن 07 کہ دہج لوم موجورہو لی یا

نب علامہ بط ابع جو زی کت میں ؛ ”قال علماء السیر قد اشتغل بالعبادۃ عن طلب ال اس٣‏ اۓ

یرت نونیوں نے للا ے آپ طلب ریاست سے کژار کش ہوکر

ھن عبات میں مشغول تے۔''

() کمال الین مھربن غل شاضی نے اپ یکتاب مطالب ا نول میں لفصیلی یح

کی سوہ للھتاہ ںکہ َ ”وه ومن عظماءاھ ل البیت و سادانھمدوعلومجمه وعباذۃ موفرۃ واورادمتواصلہە و زھادۃبینەوتلاوۃ کثشیرۃیتہعمعان ی الفر انالکریمویستخرجمن بحرہ حواھ رہ و بستنتح عحائبه ویقسم اوقانه علی انوا حالطفاٹسی کے ملہیافعہ روینه تذکرالاخرۃ - واستما ع حدیثہ یزھدفی الدنیا و الاقتناء بھدیه یورث الحنہ' نور قسماتہ شاھدانەمن سلالەالنہوۃ و طھارۃافعالهەتصد ۶ بانہ من ذریہ ال ساله۔۔۔ وقال۔-۔اما منافمەوصفاتهہ

۳

فکاد تفوت عدد الحصر ویحار فی انواعھا فھم الیقظ الباصر حتی انەم نکشیر علومەالمفاوضه علی قلبەمن سحال التقوی صارت الاحکامالتی لا تدرک عللھا والعلوم التی تقصر الافھام

بحکمھا۔۔-تضافالیەوترویعنہ''۔۲ے

آب ائل ہبی تاور سادات کے ان عفظیکم لوکوں میں تھے جن کے اس علوم کا واق ذخی ھا عباو کت ےکرتے جے “مسلسل در وکرتے جے ا ن کا زبد اہ رما علاو تکحڑت سےکرتے تے “دمھالی ق رآ نککا تن مککرتے او رای کے رر می ےگ رأکا کے اور اس کے خیاتب کا اتفماط کرت اور اہپے او با تکو اطاعحت لی بر تق مکرتے بیہماں ت فک ان بر اہ نف سکا محاسب ہکرت ےا نکود ینہ سے ؟ خرست یا آ تی نشی “ا نکی ”فشک کو سننے سے دنا کی ش حکم کی تھی ا نکی برای تکی اقتراء سے جنت ورات میں مق سے ان کے انوارفیوش ان کے سلالیہ تبوت بہوتے بر شاہر ہیں اوران کے افعا لکی طمارت ب ظا رکری ےک وہ ڈریمت رسل جیں۔ پچ کت ہیں اور اع کے ہنا قب و صفمات ا نے ہ یک ار کرٌۓ واڑا اننبیں شارخ ںکرسکتا اور ا نکی اما مکو ایک روشن کر کا سے و ورطہ رت میں ڈوب جا سے امموں تے اج علم ید ڈالْنش سے دو ممروں سپ فوخ کی جار کی اور ابینے ع مکو اخلاقی سے آمیق کردا کہ یہ صفات اخیاء سے سے اع کے اکا کا بیان اور ملس اسرا رآمبز اور علوم و واأش پر و بر ہیں کہ ام توئی و عم بنٹبی اس کک رواز

۴

مہیںکرمکت سے نضیائں مان ر فضانتل کے علاوہ ہیں اد ان کے پارے یس ابا تکی جاکی ہژں۔“ 0 علامہ این جم را نشی ال نت کے بمت بے یر ثیگزرسے ہوں دہ ای کاب میں امام صاوق' کے علوم کے متتق کت ہیک : ”ونقل الناس عنە من العلوم ما سارت بە الرکبان وانتشر صیتەفی جمیعلبلمان۳ے ”لوکوں نے آپ سے اح علوم لعل سے ہی سک دو اتی سواریوں ع یھ گرا طراف الزاکف یش کیل گے اور ا نکی شرت قمام بلاد الا می ش وین خرکی پان من بی نوا “الا کسی تق ما بات سی وت زیادہ یل جانے اور بچھیلا ہے کے لے استعال ہوا سے یی عاء دور زور ے سوا راوں پر بی ھکر نج کسب تل کیا اوراۓ مو ںکو روا ہو ئا لا جناب زید بن علی ج نکی فقاءت و زہادرت کے سب مرف ہیں امام ٹعفر ماق کے ھن فا ژن۔ ”فی کل زمان رجل منااھل البیت یحتج الله بہ علی خلقەو حجتەفی زمانناابن ای جعفر بن محمدلاآیضصل من تبعەولابھندیمر: خالفہ"ے۴ے یم ایل میت یش سے ہر زمانے میس خلق بر ایک جحت یداو سے اور مارے ژمائے بی ال دکی جچت میرے کیچ خنفربین مھ ہیں جج ای اباخ ری 0 دنہ ہو گا اور تو ا نکی مخائئش تکررے بھی رابیتن ہاۓےگا۔''

مم

0 امام ابوعلیف کو امام صادق سے خاص عحقیرت ھی دہ امام" کے شاکروبھی جے اس موضوع پر ہم آکے پچ لک رکنشک کریں گے۔ مین یماں ان کے چند ا قوال در یں *حعفر بنمحمدافەمر ایت ےٹ۵ے نین لوکو ںکو میں تے ویکھا ہے ان می امام ضحخرصادق سب سے ثیادہ امام ابو عفیفہ کا ایک اور ثول مم ورے ۳ ”ولاالسنتان لھلكکنعمان-۔--یقولالالوس یھنا ابوحنیفه وھو من اھل السنہ یفتخر و یقول بافقصح لسان لولا السنتان لھلک نعمان یعنی الامام حعفر الصادی“ےوے ا ری زندگی بین طلب عم کے دد دوسا ضر ہت ین ماگ +وجا علامہ آلوسی اس قول پ مجر کرت ہوۓ کے ہیں کہ سے ا وعفیفہ ہیں جو اٹل نت سے ہونے کے باوجودٹھرکررہے ہیں اور شع زان یں نے کہ ے۶ لہ "ار وہ ووسال نہ ہوتے پے نعقمائنع بالاک بوجا ا اس سے مراددہ دو سال ہیں نس میس اضموں تے طلب مکی ماطرامام پتنفرصاد نکی شا ردی اختیا رکی۔ امام موق نے امام ابو یز گی سرت میں مج یکھما ہ ‏ ےک دہ چبیشہ امام ساد یکو اط بفکرئے پ یپ حعلت:ہ اکس آپ ‏ ویانں۔'ےے

ك٣‎

ابن حخیانع کت ہں : سس حمدکانمنساداتاھ ل البیتفقھاو

علماوفصللا'۸ے ٹین مر ہ اعم وففل کے انار سے ابل یت کے مردا روں یں ےۓ سے ۔'

٠‏ حافظ او الام کت ہیں۔ ”٭حعصم بن محمدثقەلایسال عنمثلہ"-6ء عفربن مھ ٹہ ہیں اور ان جیسے لوکوں کے بارے میں پپیچھا یں ما]۔'

0 ا فصن بن علی الوشاعو ‏ ےکماے : سی پومسمہس وو تسین

شیک یقولحدثن یحعفربنمحمد'*۸

لی ہیں نے مس ہکوف میں قوسو خی کو کت متاکہ ہم سے رٹ ا نکی پنفرین مم مھا السلام نے۔''

عہدال ضیح بن مھا منفی ا سلائ ی کت یں : لی سور سی حوصوری ویشکا انوارہالاصفیاءوکانیتکلم بغوامض الاسر اروعلوملحقَیفەوھواہن‌سہءسنین ۸۷۸۰ اھ تفرین مر علیہ السلام کے دروازے بر علا کا امژدھام لگا رتا ھا ان کی ریغ سے اننام نے اپ لوک یکن زوش کن آپ

غ"'

مات سا لکی عمربی میس خواصعض اسرار اور علوم حقریقت م نک قرایا کیج

امام اوپ عرلی ابو مرا یا کت ہیں : ”حعفر بن محمد الذی ملاء الدنیا علمه و فمّھه وو بقال : اناباحنیغەمن تلامدتەو گللکتفمان الثوریوحسہکبھماف یعناالباب''۸۲

تمف رین علیہ السلام دہ ہیں جن کے عم وفقہ سے ہیر ری دنیا بج رگئی الو

حضہ اور سغیان ٹوری ان کے شأگرد چے ان وولوں کا شال ہونا تمارے لے اس واب می سکائی ہونا چا ہے۔'

ن) علامہ جح راج الدین الرفاگی خر فریات ہیں : دیاناتھم ما سارت بەال رکہانٴوعداسماءالرواعنه فکانوااربعه الاآفر ح| ۸۳ مع وام الڑاس نے ان راہب کے پاچھی اخلاف اور ادیالعٰ کے نفاوت کے پاوجود آپ سے نفل علو مکیا نے تین ےک رلوک کیل گن جب آپ سے رواحتکرتے وا نے علا مکو شا رکیاگیا وا نکی نحداد جار بزار ہی

() فقہ اسلا بی کے جدید مورغ علامہ حر الخض ری نے آ پ کا نکر وکرتے

ہوۓ لھا ےکلہ ٠‏ ہی0 من سصافائتٰ اھل السحثت و انت بالصادق

مك

لصدفقهہ فی مفالنتہ' ولدسنە ثمانین وروی عنہ مالک بن الس و ابوحنیفه وکشیرون من علماء المدینہ“ ف۸۳ آپ ای یک مرو روں یں سے ھھ ادرا ای وج ے صادقی کے اقب سے قب ہوئے آ پکی پیدافنش من اسی میس ہوگی۔ اک بن انس“ ابو طیفہ یز ینہ ک کش رعلماء نے آپ سے رواحی تکی کا

ںن) شور حقق مفل مڈاکٹراصر این ا ممعریی نے ان الفاظا بیس آ پ کا مک نکیا

ھا 'واگبر شخصیات فلک العصر فی التشریع الشیعی پل رہماکاناگبر الشخصیات فی ذلگ فی العصور المختلفەالامام حعفر صاد یف وعلی الشخصیات ٍی عصرہەوبعدعصرەوقدماتفی العامالعاشر سس حکمالمنصو ر۸۵ رتشن کان یرکب ے بی حخلیبت پا کاپ ٴ٤‏ کہ ملف فرقوں کے اس عو رکی سب سے ببی شحخصیت امام نظ ر صاد کی سے او رکی طور یب ما جا سلما ےک آپ اے عیر اور مابعد کی عظیم زین شخفصیت تے آ پ کا انقال نمو رکی عکوت کے دسویں

سال ہواے"

۴ ْ ۵ الیر رصاق ناج قا ہرد اونیورمٹی کےکلیہ ادب کے بر وس ہیں لت ہیں رہ ۱ ”کان بیت جعفر الصادق کالجامعه یزدان علی اللو ام بالعلماء الکبار فی الیحدیث و التقفسیر والحکمەوالکلامفکان‌یحضر مجحلس درسەفی اغل ب |لاوقات المان وبعض الاحیان‌اریعه آلاف من العلماء المشھورین ۔ و قدالف تلامیدە من حمیع لاحادیث والدروس التی کانوا یتلقو نھا فی محلسه محموعە من الکتب تعدہمثابەدائرۃ المعارفللمذھہالشیع یوالحعفریػث٦۸‏ ایام تمخرصاوق* کاگیریوئیو رٹ یکی طرح تھاننس میں ریت فی رت “کلام کے علمات کہا رکا تع بعتا بی جا ا تما اک راوطا ت آ پکی خسن وین یل دو رام او ھی جھنی چار زار تک مور علاء حاضر ہوتے تھے ان کے شاگردوں تے ان تام اعادیث اور د روس سے جج ننکو انوں نے امام صاو کی ماس سے حاحص لکیاتھا ہمت می کناہیں لصیف گی ہیں جون رہب شیعہ یا ذرہب مجفربی کے انسائییلوپیڈ کی مل ہیں۔"' استاؤکییراو رمححقق تخجہ الطامہ فرار وچ دبی نے کلنعاے ؟: "کان من سافات اھل البیت النوی لقب بالصادق لصدقف یکلام ے۸ ' آپ سادات ابل ہبیت تبوت میس سے ہیں اور اپنے کلا مکی سک کی

وج سے ”صاوق' کے اقب سے موس ہو ئے۔

رام جنفرصادق علیہ الام کے فقل وعلم* زیر و تی یکا اظمار تق یبا جریڑے عالم نے اٹ یکتاب می سکیا سے جن س کا اجصامکرنے سے ہم عابجز ہیں جمارے ماخ کنائیں سردست تھٹی بڑکی ہیں ان میس سے ایک سو سے زا تد اثوال جم شی کرسکت ہیں لیا نمگنیائش ا سکی اعازت نمی دب نام اکا رین علماء جدیدد ندم کے اقوال بحم تے یہاں در خکرویئ ہیں شش بھونے از تروارے۔ طااب رای تکواسی سے ہریت ئل لتق ے۔

۹0ن

١

عر امام کے اسلائی فرر نے

امام تق رصاوق علیہ السلا مکیاعد گر اسلا بی میں جمودکی بھجائے تقیرد تبرل اور ارنقا کا عیر ے۔ اما مک عوودروہ ہے جب اسلام ش سکئی فرئے بیدا ہو گے جے اور بست ے فرقوں کے .لئے م ران چجموار +ہورہا تھا ری راب جراچرابوری یب بونج ۶3 ٌ کی ستاکی ہوکی رعایا ری بھٹوں میں ا ہنی سو کا سامااع مجلاش شکریدتی عھھی درس و ترراس میں مروف لوک سیاست ۓکہ٥ارہ‏ مک ہہورے حے ین ضر تم مکی دج سے میا کی بے گی بڑھ رای ھی ننس سے امم اماک :تعاس :فا ےکی اڑل یواح کے فااف حر کی جوڑس مضبو کرت ر ہے اس صورت عا لکاجائزہ ہم علبخدہہ اب بیں لی گے ذیل یس بهم امام علیہ السلام کے ع میں موجنود اسلا می فرتوں کا محنرسا جائرزہ لیس گے ان فرقوں کے ساسی میں منظرکے گج رگھیں مذاہب ابندعتھا السیاسه فی الاسلامازعلامہ واحدی جواس موضوخ سی تی یلا ے۔

خوارج

بی فرقہ ہک معن کے زیاتے می برا ہواجب امیرشام معاویہ نے تضرت لی سے کی مکا مطال کیا نو ارح اسلام شاہد ہی ںکہ اھ را مکو ىہ حیلہ این العاض ےے اس وقت سگھایا تھا جب اس تے مہ ویک ھ اک اب جار اشک رخریت علی کے اکر کے سا نے شس گھائے الا ے۔ یہ دراصکل اک ریپ ھی حضرت ی کہے اتک ریس پچھوٹ ڈا لل کی جنس میں وو لو فکاسیاب ہو یئ اور جقرت علل کے ار مس سے ای کگمروہ جس کے دلوں می ائمان نے ائھ ی تک جڑس مم ںوی تھی

ارت

شک رسے ععدہ وکیا اود انموں تن ۓےکزاب الشر سے کسی ایک شخ سکو تلم بزات ےکو قبول می ںکیا اور عو یکیاکہ تکلی م'خطاء یر بنی ھی نس کے دوفوں رات نی امیرشثام اور نقرت علی" ون ہو عالا تمہ ححثرت گی خور کلم ظ_ خلاف تھے اور اعیں لوکوں نے اخمیں کیم قجو لکرتنے پر مجبو کیا زہشوں مس بی اخارج تقماکہ ان یس سے ایک نے نتر ایا وا ا م۷ رف ل رسپ دک پک نا سد ال گیااوز نوا رر خکاشعار تھا جاے (گا۔

برعال اس فرتہ کے عناص رت کی ملف چے کان ان یس منالئشت نفرت کی مشتک تھی انموں نے حفرت لیب جرات سے کام لیا ان کے ما مکو نیا حابت و ا گے اور ا نکی طرف وہ پاش مو ب کی جج ان کے شایان شان میں تھھیں۔ بماں ت٠‏ کک تحخرت علی علیہ السلام نے ان سے نک خ ردان لڑی اور ائمییں کلت دی یکن یہ فرق بڑھتا اور تنحم ہو باکیا۔ا موس تے یا ہر کالہ ان گی وت عرل و الصاف اور ماوا ت گی طرف ےلین انموں نے تل کی انتا کروی قمام مسسلمائوں کے ہو نکو ماج تقرار رے دا اور بلاواعلا می شش خو نع گی ماں ہمادیں سوہ اہ عقیرے ‏ ہھمڑبوتے اورجو مسلران ان کے عھقیرے کے برخلاف عتقیدہ رکتا ا س کا خون ہمانا جانز ھتہ

وا ر کی ممععانہ نج زباقوں ین سے بی ےکم وہ مان اور ترا یکو یاتے 3 مسلمماا کو 02 نے اور تھرا ی او چھو ڑوت اور کت کم گڑین بی اکر کے ژم۔ کا شیا لکرنا جچاگے۔ انموں نے ععبدرالقد بن شراب جیے مقدریس مخ سکوج بکہ ان را ا ن رن لڑکا ہوا اف کردا او رگم کہ تھھمارنۓ گے ین تت کنیا ب لی

۳ت

جوگیے زی تما ےک لی کا حم ےکس زو ای نع ےار ےی ہو گے اگ گن او تن کر برا نکی زرج کاگگئی یٹ چا کر ڈالا۔ آگے لہ ایک تھرد یکا باغ نظ ری اس سے باخ خ رین ےک یک وس کی فو اس ن ےکھا یں نے ہہ باغ جمیں کٹا خوارج نے جواب دیاکہ یف رھت دیے ہم ىہ با میں نے کت مہ جائز خھیں سے تعانی نے اان سےکما تم بھی کشن جیب لوگ ہو عمبدادشد بن شا بکو تم نے ش٠‏ لیکرویا دہ ات مقنرس آ دی تھے اور ہج سے باح لا قبت قول مجمی ںکرتے۔ لعحض روایات میں با غکی بجائے عح مور کے درغشت مار سے اورس بھی ےک کے تھے و ایک عاکم سے لو اہ عالت اترام ٹل رما رت ےکا لاد کیا سے و انموں تے قیرت سےکما بد الہ بن خباب ہگ دمت نیس بت چم ریارن ےکاکفارہ لو چٹ ہو گ۸۸ جو رح کے حا ئمداور قرۓے

یں نپ خوا رج کے متحدد فرتے ہیں جو اپٹے عتقا مدکی وجہ سے ایک دو صرے سے محفلف جس مان ىہ سارے فرتے دو پانوں ىر صقن ہیں۔ () - ہے غززرفت ٭ خارح کا ظرے. خوافت ہے ےکہ غیفہ رف ٌٌ آزادانہ انتقابات کے زریے بن سم ے اور جب تک ووعاول رے اور جا بنا خطاے دور رے وو خلیضہ ر ےگا اور اگکر دہ بھی دوکھا ئے آذ اس قور] مھود لکرویا جائے یا ف کردا جائۓے۔ (۲) ۔- ہیکت عأللی* جزو ایمانع ے اور اھان تصرف اخنقا کو خییں کت بیس جو فرائسش وین ر مل خی ںکرما او رکپائرکا ا رمقا بکر نا ہے دو ان کے :زی فکافر

ات

ےوہ ۴| اور وا اع( ممیت سے ا رما بگزاو یس فقرقی خی ں کرت اوران کے خیال میس اتتقا اور راۓ میں شی ضد الام ہے لبڈرا انموں نے تمام مسلمانوں کے خو ننکو مباح قرارردے ویا طوار ج کا می بھی خیال ےکگہ غلیق ہکا قرٹی سے ہونا ضرددبی نیس نہ دی عرب ہودنا ری ہے بگہ خی رقرن کا خلیفہ ہونا ال لے الع بر طر فکیاجاگے۔ اس دجہ سے اس فرتے میں می رعرب اور لوگو لک یکنرت ۷ وگئی اور جیب اخنظادات بیدا ہوۓ شا ایک فرت ان یں یی وم سے نو میون ا ردب کے مان وائنے ہیں ان کے نزدیک لی ودای یئ اور ھا گی کک سے اع انی ایک فرق دی یرہوج زی ین ا پیسہ الیادرتی کے ما من والے ہیں اس کاکمنا ےکم اود جم سے ایک شف سکو روگ بنا ےگا جس ب کاب ناڈ لکر ےگا ادروہ ش اعت ھر یکو مضسورخغ قزا روت رے گا۔(مھوڈ ای معن ح مفرات) (ا) اڑارئے

نی لوگ اح ین اذ رت کے مان وانے می جو خواوو حکلاسب سے بدا فی تھا اس نے تمام مسلمانوں کے کف رکا ہیی ویا او رکماکہ موائۓ نار جیوں کے اگ کوئی عسی نار قکوہماز کے لے بلائۓ فو شی جانا چا نے نہ ا نکاؤجچ کھانا جانڑے اور لہ لاح وہ اتی اور خیب نما ری کے ورمیان وراء فتے کے بھی ئل میں ے۔ یر نمار یو ںکی مثال عرب کےکذار اور یت برستو ں کی ہے ان سے یا الام کا مم لال ۔گیا جاۓ ایا رملوار سے فیصلہ ہ وگال شیب را ریو کی زین دا رالثرب ے ار ان کے بچوں اور عو رک ں کا فل جائز سے زائی پر رت مکی عد نیس ناف نکی جاسکق

کیوگگہ ا کوک ران میس خضمیں۔ ان کے خیال میس ایر اریے شف سکومی پا سلتا ہے جو انی خبوت کے بع رکاقرہوجاے یا تبوت سح لکافر ہو ب۸8 (۳) ارات العازری

لوگ مدق بن عاھر! فی کے مان وانے ہیں انوں نے لع اموررمں ازارق سے اشتا فکیا ے الع کے خیال میس اجتتاد میں خطاککرنے والا معنردر ہے اوروی نکی خیقت صرف الد اور رسو لکی صرفت مہ بای محاططات مل ہنردے اس وقت کتک مور ہس ج بتک ان مر تحت تہ قائم ہوجاۓ ان کے خیال مل نو اج او نے عا لکو ترام اور ترا مکو علال آرار رے دے وہ گی معزور ے۔ مسلمانوں میں ے جوا نکا خالف ہو ا سکاعل واجب ے۔-..٭۹ (۳) اپاغے۔

بی لوگ عپرانشد ین ایاش ا مصھی کے مان وانے ہیں جس نے ردان ا مار نے ات ٹس تخرو کیا سا و اب فک راکش اور ا رونع ویر ٹیل موبتود ے اور الا جار کا ہے وایر ثرثہ سے ہو اب کک موجودس وو اب می ات برانے ممیرے پ قائم ہی ںکہ قام مسلما ناف ہیں اضمیں مشر کک ہجا ےکا خر یت جس لین ”کافران لمت '' ودب بھی مان ہی سک ان کے خی نکا نون علامے یس مربی طور مر ترام ہے ا نکاعلاقہ دارتوجید ہے تہ وہ مش کن ہیں نہ متومنین بل کاف ہیں ان سے جن کفکی عصورت میں صر فکھوڑے اور ہتصیار مال تأیممت ہیں ان ححقرات تے شاکی افرپیتہ سگمرود بنا لے ہیں اور ایک رن شرب افریتہ یس زنجپا کے مقام ربھی رتا سے لین ا کا اصلی ون ا مان الیہ سط )کا

۷

لاق ہے ہہماں سے ہہ لوگ مشرتی افرلیقہ بجر تکرتے ہیں۔ ان کے تین عزید فررتے ہیں ا فی الھارغیہ ادریزیدی ں۹۷ ااسرے

ای ےر ا نرادگی الام رکے پچ وت اوران افکار و نات کے ا ے اڑارثہ ےکم درپچے بر ھے مین دوسروں سے مشروھے کیائ کا ارجا بکرنوالو ںکو اڑا رق کی طرح مشرک میں ھت سے بلہ انکاخیال تھاکہ ن اہو ںکی رکا ز رن میں موجود ہے وداس نام سے موسوم ہ ولا لا زا اور سارں وسا رقہ وخی دسج نیگناہو ںکی شی مق رک یگنی دہ بین فکافر ہیں نیش صفری ہکا بھی خیال تھماکہ مرک بگناویر جب تک ودنہ جار یگردیی جا اسوقت تک اسے کا فرخیں قرار دا جاسکتا۔ب لوکغ مسلمانوں کے خو نکو مارح کھت ججے -_ الہ کے لی فک زارا لف ٹرارہے کے اور مسلماتو ں کی غوروں اور یو ںکوقی کرت تھے بللہ صرف سلطالی اشکارے نی کفکرتے تھ...۹۴٭ ا'اوزر؟

یہ فرقہ عہدالکریم بین رد کا یی وکارے جو ععطیہ بن اسود صلی کے پچ وکاروں یں سے تھا ارت اۓ رات ڈُں ٹرلہ بجرات ے )ہت یب ے- ڑا ان کے نزد یف نف سے تی جراتے والا مارتی اکر ویاشت وار ہو و اۓ متاصبي تفولیش لئے جاسکت ہیں اجرت ان کے نزدیک فرش نہ می بللہ سب فضیلت ھی خال ف کا مال ان کے نزدیک اس وقت کک زیمت میں سے جب تک وہ حخالف زندو سے او رنفل شی ںکردیا جانا جیادرہ بہت جلد چھۃ ے پچھوئے قرقوں میں بہٹ

گے خوار ج اورامام مقار

امام بخار کا شار علاۓ اسلام کے تیل تزین اقراد میس ہو سے ا نکی ”الپاع ا گے" کو ایک فرتے کے نزدیک ‏ امج الاب بع دکتاب الہاری “لن قرآن کے بعد جج تی کنیا ب کا درجہ عاعل ہے امام جخاربی کے شا رجان نے اس جات پر حر تکا اما ریا ےکگہ انموں تے طوارج سے اعا دی ث کپ ہیں مجن امام نتنفرصادق'حنی حخصیت سے روایت شی لی چناتچہ عمران ین عطان سے روا یت اس میں موجودے جو مسلرہ طور بر ہمارتی ناج مسلمانوں کے شون دماح نت تے۔ ہم یما ں کسی طول بنٹ مس مڈنا ضس اہج بلنہ مش مور یرت علامہ وحیر الزمان گی الک عبارت لیے ان ارت یں وہ تج ٹریائے ہیں' ا پچھوئی شمریا بڑ وا عکشاوو۔ امامم نف رصاق مشمور امام میں پارہ اماموں ٹس سے اور بڑے اہ اور نیہ اور عافظ تھے امام ماک اور امام ابوحفینہ کے ہے ہیں اورامام خارئ یکو معلوم خی ںکیاشبہ ہوک یاکہ دہ ابی جج میس ان سے روابیت شمیں کرت اوس بین سعید قطان نے بڑمی بے اد کی ہے جو کت یں ”فی نضسی منەشئی ومحالداحبالی منہ“(لشنی میرے ول میں ا نکی طف دے کچھ ہے اور بش ال ن کی تہست تال کو زیادہ پین کر ہوں) عال امہ تچال دکو ایام صاحب کے ساسح کیا رجہ ہے ای می بان ںکی وجہ سے تو ال سنّت بد نام ہو تے ہی سکہ ا نکو ائمہ اہل ہیت" سے یھ محبت و اخنقاد ٗی ہے الد تعالی امام نخاریر رج مکرے عردانع اور عمران بن عطانع او رکئی خوارج سے نو انموں تے روا تکی

حھط

اور امام تمتخمرصاد یڑ ے جوابین رسول اللہ ہیں ا نکی روایت یں شی کرت ہیں ۵۔ امام جخاربی نے عران بین حطان ا ممد وس یکی رواحی تاب ا للباس میں من کی نک رن کی ہےس فرقہ مل اورا سیغا ا

فرقہ منزلہ دو فرقہ ہے جو اپٹی عل پپندری ما لیوں کک ےک مل مق لکوت تلی مکرن ےکی دج سے مش مور ہے ا سکی ابتراء او را رتقاءءٹی اتی شناخیں اوران کے مخرات موووہی ںکہ ا ن کا انصاء بیماں مک ن ہیں اس اع رکا اندا زاس بات سے ایا جاسکتا ےک علاسہ جارائشہ نے ما رر ال عحتز لہ ترما ہ*٭ ‏ ضفجات میس گر ےکی ہے اود یہ بات کے میں ہم عق ہجانب ہی ںکہ اس فرتے کے چت کسرے ارات ع مکظام پر پڑنے ہی ں کی اود فرتے کے ات ےگھرے اثرات تی ڑے۔ بھمیماں جن چند بانوں کے جکرے پر اکنا ءکریش ے۔ ٰ

اکر علا کا 27 ےگس ح بای اھریے ٹیش دجوو یں آیا جم کہ داس٢ی‏ رن غطاء وی ٣۳ابد)‏ امام ۳۳ن بععری کے علق درس سے مت :اکر کے میکے :پر اختلا ف کرت ہویۓے اون جوکیاںہ اص لی کا شال تھا نفنا کی ا رکب لی الاطلاقی مخومن کے ڑم زے مس تی لہ دودووں مضنرلوں کے یجس ےن یکنا کی کا ع کب تخت من سے اور کافر مین ددفاسق سے اوراس لے لے

قال الخیاط فی کتاب الانتصار : لیس

پستحی احد اسم الاعدزال حٹی یحمع الشول

۵۹

بالاہول الخمس : التوحید؛ والعدل' والوعدوالوعید“ٴوالمنزله ہین المن زلتین' والآمر بالسر وق والنی عن اسنگز فاناکملٹفی الانسان‌ھدہالاصوا لالخمسفھو معتزلہ'۔.۹4 ”خباط نے اتی زاب الاتتقمار میس کلھا ‏ ےکلہ جب ج ککوگی تخس متزل. کے پاچ اصولوں کا تقائنل نہ ہو اس بر ممتزلی کا اطلاقی یں ہرککا_ () ویر (۲) عدل (۳) رعر وخیر (۴) ایمان وٹ ری درمیائی نول (۵) اع یروف و خی عح ا فنکر۔ میں جب انسان ٹل يہ بای اصول تح ہوجا میں نوہ مخز ے۔“

تاصرہں الع چند فقو ںکازک کرت ہیں ے۹

)١(‏ واسلہ - ہے واصحلی ہن عطاء کے مان وانے ہن

(۲) ازیہ - ےي ا اب الا یل الطاف ؤں۔

(۳) نظامی - پظام ا برا تیم ہن سیا رکے مات وانے ہیں۔

(۴) الا ظر - ہہ اض بن خائی کے مان واتے ہجں۔

(۵) الہٹریے - ا نکالیڈریشرین ا محترہے۔

0) المعھری ۔ سعمرین عمبادا صجی کے رو ہیں۔

() الزدارے ۔ بے ھی کے شمعین ہس مج سک یکنیت الی موک اور لت

الڑرارتھا۔

(۸) اش امہ - ا نکا ملق تام بن ا شرف ا نم ری سے ہے۔

8.

(۵) ا ھٹامے سے ہشام بن عمردال وی کے مان وانے ہں۔ (۳) الاطلیہ ۔ رین مز البا عط ان کالیڈر تھا۔ 0 الخیاطيه ۔ ےالان‌الخیطک طف وپ ؤں۔ (۴) الجپائی - الی لی مین عبدالوہاب کے یو ہیں-

این زم نے مخزللہ کے جو اصول سے جائے ہیں دہ ہہ ہیں 0) لی قزر (۷) حقیرة خلق قرآن (۳) فی رویت باری قالی (۴) المنزلە بین المنزلعین (۵) فی مفاتفب ۹۸۔ب بھی اہم ثیات تھے جتیں ا لڑاىر* اپوانشن اشع ری اور مصسمودی وغیرو نے چھوڑ را ھا۔ خائص طور بر عقیر) خلق رن فو ا ن کا طرٗ ایا ز تھا جن سکی ڈیا ھبھی لئ ی صفا ت کا نظریہ تھا نس کے معائی ‏ ہی ںکہ دوعفا تکو ین ذات ٹنمیس ما نے چے بلکلہ زا تد بر ذات ماتے جے اسم لئے را نک علوق اور حاوث لی مکرتے جھے۔

اسلائی فقرقوں پر مھ جانے وا لکزابوں بس ممتولہ پر تفصیل بی ںکیگئی ہیں ان یس سے ایم ٹیا کو چم یہماں با نکرتے ہیں۔ () مضنزلہ کا اعتقاد ختھاکہ اللہ تھالی پیم ہے اور فدیم ہونا ا کی سب سے مخصوص صفت ہے اللہ گی بائی مفات فرح نمی عادث ہی کی کہ اگ اشیں وریم ا نلیا جا لے ش رک لا زم آن گا۔ )٢(‏ اس عتقیرے پ بھی ان میس انفاقی تھاکہ اللہ محاظام ا سکی حوقی' ‏ حارث ہے درد" حروک ٤‏ آواڑ سے ع رکب ے۔ )۳( دواس بات پ بھی صفق ےک اراد سح بش غیرہ کے تام بزاتۃ ہونے کے کوگی معانی خی مہ زائحر برزات ہیں۔

ز یج

)٢)‏ یز کہ انسان خوددی اپنے اجگھ اور ہرے افعا ل کا ماق ہے اور ای وچ سے وہ آخخرت میں واپ ومڑا پکا تا ری سے اور رب اس جات سے مز سے کہ ا سکی طرف راو رف مکو نببت وئی جائۓ۔

(۵) کہ اللہ تی لیم ہے اور عیعم سے سوا خر صلاح کےکسی پچ رکا سدور مال ے اور حکم تکانقاضام ےکہ تیعم مصما جح الا وکا خیال رتے۔

)١9‏ لہ اس اتپ بھی لق ںکہ ا کی من اطاعت ای وریہ مرا دہ مسق اب سے اس سے بد نکرا سے عویض اور فقل عطاکیا جا ۓے گا اور گر و گناہ کیہ یر وہ کے خی رم ریا سے و دہ پویشہ کے لئے ہکم میں رر سے کا من اسے جو عزاب ہوگا وہ انار ےکم ورت کا ہوا ا ںیک وعدل اور وعخید گج

یں۔ (ھ) ات کے ٹزیک سن وٹ معئلی ہیں اجھائ یکو اخزیا رکرنا اور جج سے کنا واتب ے۔

(۸) مامت و زافت لوس سے بھی ایت جو لق سے او راخقیا رآتھی۔

اس فرے نے جماں اسلام میس صلی مباص کی زا تھوٹی وہاں ا سک وچہ سے اور اس کے پکھیں الم اسلا مع طللم وت م بھی بھست ہوئے۔ بتوعبااس کے یش امم تے الع کا سا جج دیا جن سکی وجہ سے ان کے مخالف لیت اکابرعلماع دمح رخین رر للم و ستم ہوا ج سکی تقعبیل کا یہ موقع نھیں۔ لان اس کے ساخھ ساس اس فرے نے جخالفن اسلام سے متا ظکرے سے اور اسسلا مم بر ان کے جملو ںکا رج یکیا اس اط سے انمیں تار اسلام می ای ککونہ تلق حاصل ہے۔ چنا نچ ض علما نے اشہیں اسی بنا رکافخر قرار رین سے اجقنا بکیا ہے بلہ ای ںکاقرقرار

او

دی ےکی تر ککی مقالف تکی ہے الستہ اس کا اختا فکیا ‏ ےکہ ان کے لح عانمدورست میس تے۔

کہ مق ہوم انام می خصوم ای ام ھی ود سی طف ش٤عہ‏ ملقرات بھی اس میس ما ہرتے الفرا ان دوتوں کے درمیان شید خصسومت بائی جاتی تی اس طرح سے اشاعر: اور تمہ سے بھی ا نکی مقالفت پیم کی مضزل سے آگے جو کرجا لکی نول میس شی گی تھی

المرجنہ اوران کے فرے

جس طرح سے مطزلہ نے انبات وعید میں مبائغہ سےکام لیا سی طرح رنہ نے اشات ویش مبالفہ سے کام لیا اس لواطا سے می لوگ مہ کے پالل ب تس ہیں ان کے عھظا ند نر زل مس جیان کے جات ہیں۔ )١‏ ال محاعی کے لے مفخرت اور فو اب مھان ے۔ (۶) ابا نکییر: کے عرق ب کا فیصلہ قیامت می ہوگا ہم اس ب ہکوئی عم نیس لیا سک نہ وکا فرہیں اور نہ فاسن۔ (۲) ایمان شضس زبان سے اقرار اور تقد قب کا اع نے ول جا ن کا کوئی معلی مییں۔ (٢)‏ ایمان کے سات محیت ند اوند یکوئی ضر ر خی پہنیاسی۔ (۵) ان یس سے ایک نطب اکنا ےکہ ایمانع شخ لب سے اخنقا کا نام سے خواووم زان سے کظ رکا اعلا نآرے 'ٹواوبتؤ ںکو بے یا سوداوں اور فھرانیوں کے صا ای کی رح رہے صلی ب کیپ اکرے اور واراسلام یں لیف ا

بس“

اعلا نکرے اور اس پر ھرجاے۔ وہ متومن سے اور ایر کے زی کال الا یمان سے وو القد کاوٹی سے اورائل جنت میں سے ے--.۹48

مہ فرقہ دراصل سیاسی فرقہ تھا عکی فرقہ نیس تھا ایک نوم ہک مہ خوار نکی ضد می وجووی آیا جو ج٠‏ مسلیش نکاخون عدال کھت تھے اور رک بکہر کو فا سن اور ا کا خون علال ھت حے ج بک مین نے ہ رم کے شلم و تعدی' ا رخ اب محصی تکیر: و صخیرہ پر قواب اور مغخفرت قرار دے ڈالی بھی کہ خوارج کے مقالے مس ان کا زور بڑھ جا ے۔ دو سے بک <کا موقت کے گج قرقہ پداسوہ منرت اکی ولیہ اع کے عوتقائح کی رو سے عاکم وقت یا عام آ دی یج ھچھ یک را رے 83 ومن ومسلمم رتا سے اورا لمران پادشاہ کے خلا فکوگی نمور خمیں اٹھا سکتا۔ اس طرح مہ فرقہ ' اعوان اعراء* بر تل تھا اور ان بی کے لے فائندہ من د بھی تاب سے بھی حقیقت ےک ملوکی کو جس رر اد انس فرتے نے پنیا شی دو صرے قرت تے میس ایام نہ کے با فرتے فائل ذکمرہیں۔ 0) الیونیہ - اصحاب وا ا لتمیوی۔ (۲) العبیديه - ا حابعیرن مان الِی- (۳) ااضاعی - اصحاب خسان الکوئیى او رکنتخل ے خسان ن آبان حر ث دوسری شخصیت ہیں مہ دای تھے مرحنہ کا ردار غسا نکوئی تھا ین نے مغا لے سے خسان مجر ٹکو خسا نحکوئی بج لیا ے-۔ )٣(‏ اٹپاے - اص٥حماب‏ ا ی نو بان الم رجی_ (۵) الج من - اص٤حاب‏ الم ممازالتوتی۔

تح خلماء تے امام اب یکو مریضہ میں شا رکیا سے بیماں چم مت اس ام رکا

۳

انز لیے ہژں۔ کیاامام ابو حزیذہ می تے؟

امام ابوعطیفہ واٹی مرینہ سے تلق رک تھے علامہ شی فضائی ہج یکو امام صاحب سے اس ور عقیر تع کہ انموں نے ایا نام چی ان کے نام پر رک لیا تھا اراس ۓکونعمالی لیے گے تھے امام ابوحیف کی سیت یی س کھت ہیں : رت تی نے میان الاعتقرال میں صعری نکدام کے جزکرے می ںککھا ہے مرن ہونا جست سے میا ث ےرا کا غرہب سے اوراس رہب کے تا نل بر متواغ ذو "می ںکرنا چا بزاسی ارجا ءگی طرف اشماردے جو امام اب وحذیذ ہکا نہب تھا ے٠٠‏

امام الو طف کے ب ہت ے مہرت لگاروں نے آ کو مر جس سے کیم ے۔ خغساا نی کوئی جج سی طرف ع رح کا اض موب نے لپیا نے انام ابوعفیفہ جم میں سے ج ےک کہ ابوحطیذہکا مسلک ىہ تھاکہ ابیمان شش زان ے اترا رکا نام ہے اور یک ایما نکیا زان کس وزتا۔

وکیع کت ژں ََ ٹس تے فان مو ری یکو کے سنا ؛ عم ہتکن میں اور اہی شبلہ ہمارے نویک اح مواریث 'نماز اور اڑا رر کے اخیار سے ہنومن ہں۔ مکنا بھ یکرتے ہیں لیکن میس چان ۓےکہ الد بعارے سا کیا بر ما کنرے گا۔ وک کے ہ ںکہ ابوعطیقہکاکمنا ہہ ےک : جو مفیان ہے عقام رکا اتل چو وہ ہوارے نزدیک ہالت کیک میں سے یم متومن ہیں اور ازقلد کے زدیک بھی جمارا مومین ہونا حق ہے وک سکتے ہ ںکہ بھم فان ری کے قول پر ہیں اور ابوعیفہ ا ول جھارے ‏ زدیک ترات ے۔

ابوفیفہ سے بھی کت ےکلہ مل جزو ایمان کی ہے اس جات یس علماء و

رخ نک یکیی تد ار نے ا نکی علق تکی من نکا نظریہ ىہ تھاکہ نعل تجزو ائمان ے او رایماان شی سکیو زیادتی اس یکااث ے ج بکمہ امام ابو عفیشہ کے نزد یک اما نکیا زما دہ تمیں ہوا اور اتل ا ماع و اعل الا رت کا امانع ایک ورج ہے جیسالہ ان سے مقول ایک روایت ٹل ے۔ ”یمان اھل الارض واھل السموات واحد' وایمان الاول ھ2 الاخرین والانبیاء واح!“ لاناکلنا امنا ب(ڈواستروسنادایوالترائض فثیرہ مخعلفہ؛ الج واحل'ٴ وسصسثنات الکفار ٢ڈ‏ پ لو گلتا امناہما امن بەال رسل ”ےا١‏ ”ایل ساوا ت واہل ار ش کا ایمان ایک سے امان اون وٴ خرن اور ایمان انام چھی ایک ہ ےک کہ جم سب اش کی وحداحیت بر ائمائن لائۓے ہیں درا سکی قدی قکی ہے جب کہ فرائکش عقلف او رک راوخ ہیں نس طر حکف ایک ہے او رکغا ری صفات بست ہیں ہم س ب بھی اسی براییمان لائ ہیں مجن ىر رسول ایمان لاۓ تے۔'' لیب بندادی نے اس سے میس ایک اور روایت تر بدا میں لن لکی

سے و8 ہے ا

”وبروی عنه غیر ھناٴ گما حدث اہو اسحاق الفزاری‌انەسمع اباحئیفەیقول ایمان ابی بکر الصدیق وایمان ابلیس واحد'قالابلیس : یارب وقال ابوبکر : پارب۔۔-وقال ابواسحاق : وکان

۷ك

کی اد 2 دا آنموآزتان ا ے ۰۳ اس کے علاودد بھی ان ھی منض با ردای ت کی گئی ہیں جس امہ او اسحاق ا انار کت ہی ںکہ می نے ابوخفی کو کت ہوئے تاکہ الوب اور اس کا ایمان الیک سے اشیس ت ےکما اے رب“ انکر ےکا اے رب-۔۔ ابواسحاتی کت ہی کہ دہ مرن بی سے تھے پپکریہ ول اناسی سے پیا گی کرت ےک کہ ا کی دجہ سے ان بر جن تگرفت مہ وئی انی رم ان سے انان دم دایھان ان کی مساوات کا قول بھی مان آپالاج_*؟ علام نے فقہ اکر کے ہوائے د ےک امام صا بکی حرط کی طف

ہس کو ٹمایا تحخیرایا ا ہے عالا لم کاب امام ابو خفیق ہی خیمیس ے۔_. ۳

اکر وا امو تر کے معالی یع بے سے اس کے افعا لی کی یکرنا سے اور ا نکی بت ال کی طرف دیتا ہے ہش کا مطلب یہ ہ و کہ بنارے این امیکھے اور برے افعال بیس مجبدر ہیں نہ دہکوگی ا چھائی ای مض سےکرتے ہیں اور کوئی بر ائ یما نہ این اخیار س ےکٴرتے ہیں کر ا کان بنروں سے الد نھالی ور تراما تھے امن نب کی کرد ے اتیا نک کے ارارو' اغیار اور نصرف اور اش نے ععمل شی للقت جج دکی ہے اس کے اسستعال سے جحرو مکردیاگکیاے۔

0-0

اس فر ےکی خخالفت مس ایک اور فرق وجودٹیس آیا سے صے ' مفوضہ' کے نام سے جانا جا ما ہے ان کا عقیرہ یہ خھاکہ بنرے بی سب سیاوو سفیر کے مانک ہیں وی اپنے افعال نت و تینہ کے خالق ہیں از دک وکوئی ایا روذررت حاصعل تیں۔ بجی اکنا تھماکہ الد افسا نکو محاصی پر مجبو رک را سے مفوضہ تے ا سکی نٹ یکی اور کماککہ ال مس یکو اٹھکا مکرنے یا بر ےکا مکرنے پر مجبد خی ںک را بکلہ بیو کو اس سمل یس اخق ا رے۔ تفصیل کے لے دی اکنائییں دیھے ہج ن کا کر جج ےگزرا۔

شی ر3 اوران گ صحیفقت

اکر ھم اسلائی فرتوں بر قکسی جانے وال یکنابوں بر نظ رکریں قو ان میں میں ت سے تع فقرنے اف نیس لک مقر ےد یں جن کا وجب خی ےکوی سس ای ا اھ ہے اھ ات زیری' اساعید “اف یہ اور واتز وغي +یں انیوں کنا جا سکم ہے ج بکہ ا نکابوں می یم تحصب اوز عنارکی وچ سے اک فو ں کو میحو ںکی طرف مفوب پاتے ہیں۔ شا شیعہ فرقوں میس ہشمامی اک رآ ہے برک ہی ںکہ یہ دو فررتے تھے ایک ہشام ین سال مکی طرف اوردو سرانشام من اح مکی رف خقوب ےہ ایک فرق: ڈذای ہے نج نک ار" نون امن کن طرف موب بتات ہیں ایک حیطاضیہ فرق ہے جو مر بن الما نکی طرف مسوپ ہے کے شحیعہ فرقہ ومن طال اور متعصبیسن شجبطان الطا کت ہیں اس طرح کے بے شا خیالی اور فرضی فرتے انموں ت ےکڑ ےکر شیعہ فرنوں کی طرف مو بکردیے ہیں عالاکنہ ان اصحاب داتمہ نے پیش شےعی تکی تید رٹ کے ل ےکا مکیا اور خیروں سے متا خرن کے ہکہیں افو سے متام ما ےک

4

ڈاکٹ اح این مععرکی نے ات ی کراب ظبرالاسلام می قرا حطہ اور زر ک بھی شی فرقوں میس شائ لک ریا ے عالاتکمہ ان جی-ے فانضل ؟ دب یکو جا ہے خواکہ تی نکرتے مان الیایا تو انوں نے تتصب س ےکیایا رات ے۔ ایک عرب شاع رکنزاے۔ ان‌یسمعواالخیراخفوەوانعلعوا شرا انا عوا و ان لم یعلموا کذبوا ”ارہ لوگ ابچھائی لے ہیں نز پچھپا جات ہیں اور اگر برائی کے ملق معلوم ہو با ہے نوا سکوبچھیلا ری ہیں او راگ عم بی نہ بہو نے جو ٹف کت ژں۔ برعال جو پڑوے بے فرئے امام نف رصاوقی علبیہ السلا مکی وفات تک پر ہو کے تھے شیع مسلک کے جوانے سے ا نعکا نکر چم یہماں مخ کریں گے ان افزاء بردازیو ںکی حقیقت کے لئ طلاحظہ فر انی (اعیان ا یع حاعلامہ ٠سن‏ لاٹن) فرنہ زیدی فرقہ جناب زی ین کی بن الین ان الی طالب (میعم السلاح کی طرف موب ہے جناب زید رشت میں امام مخ رصاوق علیہ السلام کے با تھے اور ردامات سے ایت ہو ما ےک امام صیاوقی علیہ السلام اٹے چا کی بیصت عمز کیا نے آرتے تھ۔ فرقہ زیدبہ کے جوا لے سے دلو سب سح ایم ہیں ایک نو کہ

٦

جناب زیر نے جو بی امہ کے خغلافف تحرور کیا فھا ا سکی تفیق تکیاے؟ اور امام

۹

تچمرصاد قفا اس کے پارے می سکیا نظریہ خھا؟ادد رے ی ہکم زیو کے مفظرات خواووہ امام ڑیر سے براہ راست خابت ہہ ماشہ ہو گیا ے؟ جہماں کک لے سدال کا تلق ہے عم اس کے حوائنے سے سیاسی عالات کے ہاب میں نک کریں گے۔ یہہاں جم ووصرے م وضو برکنفتگ ھکرنا جات ہإں- () زیدی کا عقیردمیہ ‏ ےکہ امامت علی بن الی طااب علبیہ السلا مکاح ہے تی امام ضرن اور امام لف 0 اماصت ریٹین بھائو ںکی اولادوں میں پل سی ے.. ٥ل‏ ووامامیہ قرت ےکی طرح اسے اولادامام خی نمی مخحص نمی قرار دس مین رت لی علیہ السلام کی میلیو ںکی اولاد شی اماصت درست میں جکفت کی کہ ااع کے نز یک حقرت علی علیہ السا مکی اوماد میس امام تناد امام ھن اوران اولا دو عم ؛ورع* نتز یی “لصصیرت اور بر جیرشیس ایا ز عاع٥ل‏ ے-ے۱۰۵ (۲) جناب زیر بن علی بن این عم السلام امام ہی ںکی وہ انموں نے مور کے ساتھھ خروی خکیا۔ نابی تن نے للھاے ج

و عل یھنا فان‌الزیدیەاعتقدتبامامەزیدبن علی

لالہ خرج بالسیف وھو مستکمل لصفات

الا سام'' ے٦١‏

”ای لئے زیدری کا عقیدہ ےکہ زید مین می امام ہی ںکی وکس انموں نے

وار کے ساجھ ور کیا جو اما مکی صفات ری ہہونے کے لے ایک

تر ہے (۳) ابین :یم کے بقول زیدہہ کے نزو یک اعام کے شر ئا سی ہیں پ

”وھو ان یکون بالغاٴ عاقلاٴ ذکرا حیاٴ مسلما'

۔

عدلا*“ محتھنا' تمیاٴ سخیاٴ ىۂ بضع الحفوق فی براقسیاباتابکلایسے تس آئش رایه الاصابہ“ شحاعاٴ مقناما"' سلیم لسمع ابص ٣ك‏ و0 با ہو مھا ثل ہو حر ہو زور ہو“ مسلمان ہو" عارل ہو“ شر ہو“ یی ہو کی ہو ہرایک کے حوق اد اکر ے'سیاست وان ہو“ تل عزاح ہو رگ کی مب رکے بارے بیس ا کی اکٹ راۓ درس تہ و وہ شحجاخ ہو انا مکرئے ولا اور سن اورد تک سک ہو (۳) شتجاععت اور مار اجھاتن ےکی شرط سب سے اچم سے اور دنر حروطر فوقیت بھی رکھتی ہے : ”لکل شرط التنساعو حل السیت“ بشوق جمیع الشروط والمتقدمەوھنامایمیز الزیلیہ عر' الاامامیے''۰۸ا ون رط شحیاععت اور وا رر اٹھا ےکی شرطا تما مگمزش را ٹیا لوقیت ڑج بی جھڑے چو زیر ےکوامامے ار سے متا زی ہے۔۔ (۵) امام زی کے نزدیک احضر تک خریث ”الائلمە من فریٹس من امام فرایں سس ون گے یس منص :”کی لفظ بجی کے لے سے عموم کے لئے نین نی قرٹیش مس سے چند امام ہوکے اوراس سے راد اولاد امام حن و امام ین مھاالسلام ہے۔-۰۹ () زیدہ کے نزدیک اف کی موجودگی میں مفضو لکی امامت بجائز ہے چنانچے

1

جاخن ےککھا ےک فف لکی چا ر میں ہیں 00) اسلام می کن لکرنا۔(۳) زہہ ریا- (۳) وین کی فح مکیوکہ لوگ اپنے دیادکی ععما کو خوب مگھتے ہیں اور (۴) حور نےکر ڈکطنا یی نج فکرنا بیس جس میس مہ جار صفات بائی جاعجیں اے دو سروں پر تقیلت نا واجب ے۔ ے۰ (ے) زیدہہ کے زورک حخرت اب وسللتحضرت عمررضی اد عنم اکی ہیصت درست ے6 )موا ماک بھی گی ہکس آمرن کو اوک مرک ہوتے ہیں اشمیس فاس قکما جانا چا نے وو نہ منوعن ہیں نہ کاخ نہب کی مضنزلی میس وںدہ نیہ بھی کت ہی ںکہ جو عامت تی میس مرجائے اور اپنے کے پر اھر بھی رما وو پیشہ میس رےگا۔ ۳ا (۹) رر کے نز دیک سب سے ایم چچززحیسالہ چم اوی میا نک رآ ہیں موا رکا استعال اور مماد ہت جج سکی تئیہ زبیدیی نموم سے بہوٹی سے : ”غالامام بحب ان یکون شحاعا مقناما شاھرا س._.قە'' ۷۳١‏ ”امام 5 لج اجب ےکر و ماخ ہو ارا مکرتے والا اور طوا رو ا رکرے والا ہوے'' و فالو ان فتال‌اھل البغی واحبانکان عدداصحابہ ثلاثماۃوبضعەعش رکعد اھ ل الیدر“ ۷ "زی گی کے ہ کہ اٹل بھی (شی اسلام > کے والویںض اور بغار تکرنے والوں) سے ققال واجب سے خوا و اس کے عابی ین سو یج

ہوں جو ال بد ری تقعدا و ی_''

”ولنلککل من ادعی الامامہ وھو قاعد فی بیتہ مرخ ی‌عليەسترەلایجوزاتباعەولایجوزاالقول بامامتہ'ے۵ا

ای سا رس کے نزدیک تو امامس کاو جو یکرے لیکن پردہ ڈال ےگحھم شش ڈییھا رہے نہ ا کی اتباغ جائنز ہے اور نہ بی ا سکو امام ماننا جائز ج۔

فاستعمال السیف فی رای الزیدیەامر واجب“اذا ماامکنبەازالەاھ ل البغی واقامەالحیق“١١‏

میں زیدہ کی راۓ می وا رککااتعال اع رداججب سے اگر اس کے بخیر اناو کا ات اور ایام فلر چ_ ۷۷

ام فصاو قک یکو میں م نے اوپر شن فرقوں کا نذک کیا ہے اور ان کے عقائد ٴ٠‏ ان نے ہیں اس سے میں مجھنا چا ہج ےکہ امام نف رصاد قکی وفات تک مھ بی چندفرتے_ دجودٹسش آئے تھے اور اس بی تھوڑے سے خعقائد پر بھی پل نکی تھیں پہ یقت ہہ ےک ہم نے پچکھوئنے پکھونے فرتوں کے خقائ کو طواات کے خوف سے اظراندا زکردیا ہے ای طرح جن بے فرقوں کاؤک رکیا ہے ان کے بھی قام اتد بیان نہیں سئ ہیں چکہ اس '”لربی د ال "کی ایک تنک دکھیات ےک یکو شش

کی ہے جو خون کے مدان میں لڑکی جاردی شی۔ اس پاہھی آویزش سے مسلمانوں

۳ٛ٭

کو ڑکا گۓ اور خخڈا تو می کی مین کی نا طرامام جتفرصاو نے ج وکوششی ںکیں وہ لا فی لمات ہیں۔ا نکوششو ںکو چم ذیل میں جیا نککریں گے-

درس تتفری ہکا قیام

اتمہ مہم السلا مکی ایوں فو پوری ار تح دن سے بھری پپئی ہے لیکن جم مادحئی ور بر بیٹکنہ کے ہ ںہ علوم ایل ببیت ملعم السا کو پیلاۓ اور ہوان چڑھان ےکاجقناموںع امام عم با قزادر ان کے فرزند امام ضف رصاد کو عامس یکو یس لا یماں ‏ کفکہ امام فرصادق' سے مد اعانی ٹک اعداو نواس فرر ےکم

اعلائی فرتو ںکی ہابھی ٘وزش اور ححکوست وق ت کا لت فرقوں کا ساتٹہ ریا او ریت سکی مخالض ت کنا خالم الا می میس خخاصی بے ہنی سید اک ہکا تھا لوگ ذراؤرا ىی بات پر فرتے بنا ٹیٹھے ھے۔ علاشش تج نکی یجائے فرقہ سا زی کاجنون چرطرف زور یگ یا خھما جو پالا خر اسلام کے لے انتمائی خط ناک ثایت ہوا اور اگمر امام نظ صاوق علیہ السلام علوم ابل جب تکو نشرت ہکرت نو حالت اور بھی دگریکوں ہو گی_ آپ تے ٹور مسند ارشا با ی او رطالبان تن کو ورس وت میس مشخول ہو گئے اس کے بعد آپ کے مہ شاکرد ملف بلاداسلامیہ میس نی اور انموں نے من جن کا فریضہ امام دیا۔ چنا بی بھم سے تن ون ورس فی کا ام اس رور اقلاء یس رد یکا گا ہواج اغ تھا علمات ۓےکرانم نے اس پررسہ کے مت کا سے کرت ”قد تواتر النقل علی ان الرواۃ عن ابی عبداللہ الصادق علیەالسلا بلغواربعه الاف'"'ے)

ایاگ

”ىہ رواایت وا تر جک گی ہوکی ےک امام صادوق' سے رواب تکمرتے

وانے علما کی لعداوچار ار گیں؟

علامہ ری کت ہیں :

”ان اصحاب الحدیث قد حمعوااسامی الرواۃ عنہ

من التثقاتعلی اختلافھمف ی المقالاتکانو ار دعه

لاف رحل"۸)

نلیا ورجیث تے آپ کے رواب تکرنے وانے ان نہ راونوں کے نام

جع کے جن کے عفظا مد ملف تھے دہ چار زار افرارجے۔''

اید شن الاشن کت یں :

''فقدجحمع الحافظابن عقدۃالزیدی اسماءالرواۃ

عن ابی عبداللّہ عليه السلام فکانوا اربعہ آلاف'

وحاءابن الفضائری فاستد رک علی اب عقدۃفزاد فو لچک

”حافظ این عقدہ الزریدئی نے امام ستفرصارتق علیہ السلام سے روایمت

کے والون کے نام تح کئے و وہ چار برار علام کے بعر می این

امفضائزکی نے ابین دہ کے پچھوڑے ہوم ناو ںک وبھی مہ مک ر کے اس

میں اضافہگیا۔'

جنیر ن ےکا ےک

”ان اصحاب الحدیث قد حمعواالرواۃع' الصادق

7 اافقات على اختلافھم فی الاراء و المقالات

ن۵

فکانواار رع الاف٣(۳۶۷]‏ مت لائۓ ریت تے امام صاد لی" کے ان راویوں کے نام جح گۓ جو نہ ہیں باوجودباہ الع کے آرا عو عظا ئگ میں اشتلاف تھا وا نکی نعدادچار را ا ری"

بی بات لیخ ھ بن علی اقتال نےکی ہے اور الید لی بین حبدائمیر

الیل ے کاپ الاتوارٹش نی سا٢ا‏

”وقال المحقق فی المعتبر فی جمله کلامەعن الصادق : فانەانتشرعنەمنالعلومالحمەمابھر یہ لمقول وروی دی جصاء×ن ار جال +ایقازب اربعہ الافر ح| “۴۲ 'تعلامہ معخققی نے مت میں ایام صاوق کے کلام کا کک ہو نے قرمایا ؟ آپ سے اس در علوم پچ ہکم عازن و و نک ارنزنی لگوں نے آپ سے روا ت کیا گی نع راوجا رجرارہے ےں تے" ”وقال الشھیدف ی‌الذکری : انا|باعبداللهجعفربن محمد الصادیق کب من احو؛ تہ م۔سائله ارنعمائه مصنف لاآربعمائلہ مصنف“ ودون من رحاله المعروفین اربعه الاف رحل من اھل العراق و الشاموالحھاد٣‏ ۲۳ شید تے ڈوکرئی می سککھا ےک امام متخ رصاوق علیہ السلام نے چچار زار صقن ہے لے ار جار رسائے گر فریانے اور ان کے

شماکردوں میں سے چار ہار افراو نے ہشن کا علق عراقی “ام اور از سے تھا اتی مرو نکیا'' ”وقال الشیح حسین والاد العلامہ البھبھانی شی ڈگ الصادق : ودون العامه والخاصه ممن تبرز بعلمەمن العلماءوالفقھاءاریعہ الاف'٣٣‏ ”لام ہب جھائی کے والمد جم تین امام صاوق کوک کرت ہو ےککتے ہیں کہ شیع وس علاء و فقتماء میں سے جو لوگ آپ کے شاگمردوں میں سے ممتازہوۓ او رکتایں تی فلیں ا نک ترارچارہڑزارے۔"---- روایات ے < جا سکع آپ کے شماکرووں نے اور جو آپ لی دوسرے مقامات پر بھی مدارس تام سے سے ان بین علی الوشاء کا بیان ے ات ”درکت فی نا المسحدٴ یعنی مسحد الکوفہ' محملے۵ علمابانەکانیسیر الیھاقسراویقیم فیھانحتم را شنَینامن قب ل|لنولل" نین نے اس ممتیےکوقہ میں فو نو شییدر خکو و یکا تو سب کے می بتکم رے ت کہ بم سے حدیث بیا نکی ٠مف‏ رین مجرنے۔ لکنا الما ےک آپ مین سے زیر دستی بیوماں لائ جات تھے اور عکوس تکی طرف ے شید پہرمے میں رت ہے۔' ان بیانات سے آپ پر واج وکیا ہ اہ علیائے اسلام کے نز ویک امام جتظر

تا

صادث علے. السلام کا علقہ درس بست پڑا نوا اور آپ ے زا کرنے والی ں کی تترایست زیادہ تی ہین مِ ے ٣‏ زار و صرف وہس یں خیے او رخ شیع و لا ا یں کلف لے حا رین یں بی متعحصبین نے نر ککروا ہے آپ کے ان چچار زار نہ اضحاب میں بے 2-2 آتے میں جن ۱ء راہب گئ شال ہسں زا ابو عفیذ * مالک بی ان سفیان ٹوری“ مفیان ین عینیہ وغیرہ اور ایض جخرات بھی جن سے کچ عخفاری “جع مسلم اور اصحاب سفن تے رواجی کی سے ان میس سے چنن رکا وک رہم یما ںکرتے ہیں۔ )١(‏ امام او عین

آ پکانام خحمان تھاکنیت ابو عذیضہ شی ال سنت میں امام اعم کے اقب سے مور ہیں تطیب بقدادی اور مو خ ایی خلکانے امام! و عفیضہ کے لوئے ئن لکی زیاقی جیا نکیا ےک بم بر بھی غلائی کاددرخمیں آیا۔ ہم لوگ فاری کل کے سں مازرے وازا امام ابوحطیفہ ۸۰ھ مس پیا ہوئے۔ ہابت نین مس رت عل کی ندمت میں اض ہے تھے آب نے ان کے اور مان دانع کے لے دعاکی ھی جع مکو امدر ہ ےکہ ددوغا بے انث خمیں جہوکی ے۶ سن سرک یکواے یھ یی بتایاگیاہ۔۴۸۔ مان بسلا بی کچ ہے۔

امام ابوحذیفہ نخرت امام شمنفرصاوق علیہ السلام کے شاگمرد تھے اس با تکو ساپ این یں لغب ےا کیا می عو الع اب یکاپ جن کلعت ہ ںکہ : ففقہ میس آم رہ آپ امام عماددی کے تربیت ہافنث تے مان آپ نے دوسروں نے بھی استتفاد کیا سے شا امام تفم رصادقی۔ اانع کے بارے میں ارشاہ

رت

بات یں ”وما رایت افقەمن حعفر بن محمدالصادق٦"(لٹن‏ نے امام شنفرصاوق' سے زیادہ یہ نیس دیکھا۔ امام مجمخرصادق ال بیت اور ماندرع رمالت سے جس ائۓ پنے زمانے میں پراخقبارسے امام شن اور اح بکمال جھے جاتے گے مارح سر جس متعدد روابات ان سے منقول میں ے۲۹۔ علامہ 7 "۳" مر کاؤک کرت ہو نئ اکیتت ؟ امام صاحب نے ان کے فرزید رشیر حخرت بتفرصاوق کے نیش صححیت نے َ بست پلئہ فا ندہ اٹھایا جن سکاؤک موب تا ریتوں ٹیس پایا جانا ے۔ ابن می نے اس سے انکا کیا ہے اود ا کی دجہ ہبہ خیا لکی ےکہ امام ابو عطیفہ عحضرت صن صاوقی' کے مواعراور سرت اس لئ ا نکی شاگکرد یکی ھکر اخقیا رکرتے۔ من ا ان تحیل ہک یگکمتائی اور تشی ے۔ امام ابوططیہ لاکھ جن اور غتز ہیں لکن نل مان ہیں ا نع وحن فیا ڈگ ےکا شب بت ڑپ لہ ام ذربی علوم ابل ببیت ک ےگس لکلے۔ ”وقضاحبالہہت افزق رصاف یا سوام]تنگم الا زاہجاغنا ‏ ےک گھری ںکیاے ؟) ماس پیم کو طول شی وینا چا ےکی وکلہ یہ آنیک اھ ملعم ہ کہ آپ“ کے سے بس ون بر مزی دنو جم بعد م نت بات ون زع کت

(٠‏ مالک بن اس

ا تر ۹ےاء آپ ماآلی جرب کے امام ہیں آ پکو امام تنفرصارق مل الام سے اص تع تھا آپ تے امام صادق' سے ردایت جدبیث بج یکی ے اور آپ کا یہ ول مشور ہے ”ما رات عین افضل من جعفر بن

ٗ4

حتف می | نے امام یں ٹر ااساول ےا نل یں گیا (۳) فان اتوری

ا متوثی سن ۹۱ات ان کا شر مر اہب کے رتیسوں میس ہہ با سے حافط حدیٹ تھے اتمہ میس شمار ہے آ پک نہب چھ ھی دی اہجربی کے بعد کک تائم رہا۔ سفیان ٹور یکو امام چمفرصاوق علیہ السلام سے تخصوصی تحلق تھا ان سے اعاوییت کے علاوہ امام صاد کی یرت کے وا تعات اور اخاا و مواعظ بھی منقول ہیں_ () سیا نان عیینہ

۱ توب ین ۹۸د گان شٹش مدفون ہیں ابتقدرائی راہب کے ریسوں میں یں۔

(۵) شعے نا تاج ین ااوردالعتکی

ا متوٹی من ۰٦ھ‏ ا نکی اعادیث اص٦اب‏ صحاح ستہ اور سن تے روابی ت کی یں آپ سے روابی تکرتے والو ںکی نعدا دک رہے۔ امام شاف یکا آپ کے پارے یں ٹول کہ ”لو لاشعبەلماعرف الحدیثبالع راق“ال رشع نہ ہو تے تو عران والو ںکو ور کی حرقت ھی ضہ ہولی اور امام ام کھت ہیں :

”شعەامەواحد؟ شع خوراک امت ہں- )١(‏ یل بن عیاض بن سعدین نا نیدی

امتوٹی من ۱۸ھ بے بھی امام صادق' کے شماگ رد ٹین بجنمدکی تے الع کے بارے ین کیا ا الہ حدکی دنت میں سے ہیں انغ ےا شی ! ہمان ا بجی

ٰ

.ھ۸

وچ الا آ لوا لان اور اھر بن ال منقدام اور غل قکشرنے روابی کی ے۔ امام نسائی وی نے نقہ قرار دا ہے۔ مخاربی' تزندبی“مسلم اوہ ضساتی نے ا نکی عدعث رواع تل ے۔ (ھ) حا بن اس اتیل التویق کن ۸۴ان ہے کوئی ہس ا ری مسلم اور نکی کے علاوہ گی ایک بتناعحت نے ان سے روایی کی ہے اور ای حریث می نہ قراردیا ے۔ اتموں نے امام تتخرصادئی' سے ان علو مکیا اوران سے نل یکرنے فانتدہ اٹھایا ان ٹس اسحاق اور می این مین و غیرد شائل ہں-_۳ (۸) ححص من خیات بن مل بن معاویہ ینم انک اب عم واککوئیٰ امتوئی من ۹۳ھ انسوں نے امام عمادت' سے روای کی ہے اور ان ے امام امداسحاق'اب یم یی ین مین 'علی بن انی “عفان بن ممسکم او رکوہ کے عام ا نے روابی کی ہے اداد کے قاحضی معقرر ہہوئۓ پچ رم٢زو‏ لکردیے گئ بعر اذا ںکوفہ کے قاضی ہنا گے آ پک وکٹت سے اعاوی تعمل طور یر وری طرح باہ گھیں۔ مارک ے کے ۶ ۴ ارح نشین رواجی ت کی خیں ایک جماعت

1

بپ سے راوگیی ےس ے١۲۰‏

(8) زخبرین ترا ا نز رانخراسالی ا توق سی ۷ھ انمواع تے امام صاوق سے ا کیا اور ان سے امام او دا اف ای نے یزز روح بن عبادہ ابو عاھمرا لعتقدکی ' مد ال جن بن معیدبی'الولید بین

مھ

مل “یی ب ن جاور ابو امم ویو نے ائ کیا امام ات “سی ادد مان الدا ری نے ائئی نہ رادان آپ سا سک ویو می سے ہیں (0) اساعمیل بن پنفمرین الپ یک رالانصاری

امتون بفراوسن ۸۰ل ان سے مرن عممشعم وم بن کی خیشا ری ابو رن الزحرانی'ابو مرا لیڈ وغیبونے روا تکی ہے۔ این سععد کت ہی سک اسماعیل بن تتظرانصداری ٹن ہں۔ ائل پرین سے ہیں لکن بعد می بقراد لے گے چے اور عرتے وفت تک وہیں رے۔ اع ے جخاربیەم“سل او رح خی نکی ایک بماءعحت ے روابیت ٘ےىص۳۳ 1) ابر خی بین رین الیک الا مکی ایوا سا ال ری

ا متوی من ۹۸ات امام صادقی سے روابی تکمرتے ہیں ا نکی ایک ہر ب لاپ ال و 7رام 7 سے ا سںکاذک رج سی نے ا ال رس رت مج ںکیا ہے الع ے روابیتٹ

نے رالوں میں ابر مم من مان اور ا و ری یں اوران جریم“ الیقافق 'سبر

ای م۴ او تیعم اور بت سے دو سروں نے ان سے روای کی سے ای امام شا کے اسما ود میس شا رکیاجا ما سے ال نک یکنمائیں شاشی سے زا دوضں سے ۱۳۳

(۳) اف تم خر الوعا گمالنبی لا ری

ا کول گں ١٢وا‏ توق ضرع ۲۴ب ابام صاد سے رواجی تگریتے بین اور ات

ے مخاری اح رین عکیتل' این الہ ری “اصحاق بین راہہوسیہ رداحتت کرت ہیں اکن

۸۲

(۳) مین لیبن سلیمان المرنی

۱ مترئی نے مھ اتنس الع سے خازیی *نسالی اور ابی ماج ے زوا کی ے۔ )٠۳(‏ خبرالوباب:ن پر ا رین الصلت

ا توب من ۱۹۴ھ ان سے مرن ادرٹیس شاٹچی نے روای کی ہے نیزامام ان تین دی خی ین انی ال یرفن ےک خنضو نی تکعیر ھن بق داز گن اون ذمان ا جدنگین ضا تی ان مین نے این لن قراہ یا ہے۔ عبدالوہا بکی آعدلی سالانہ لاک الس جرارعھی سے وہ اصسحاب حدریٹ + صر فکرتے۔ مسلم او رہف ری نے ان سے بروآیا ت لی ہیں- (۵ا) انان شرثر ا لعطار الو مجچاڑا بعر ی

تار ےے ابی جاور کی ئے جا خ۱ 0 روایتللى ے۔ ان سے اہن اٹ ی' انا یی زیدبین ازم نے بھی روا تکی سے او این عاتم - ہی ںکددہ میم الیریٹ تھ۔ 70 عبدال: بن ران بین عبدالزی: ال رھری بن ای خابت الا حّالرل ِ

۱ اتوق ۲ی ث۹ھ۔انع ے نے روا تی ے۔

(ھا) عبدالل ین دکین اککوٹی

لاپ الاؤب| مرو یں امام بخاربی نے ان سے روا یی تکلی ہے۔ امام ات نے

ہے

اض تہ رارویا سے اوران سے کی الوضنائی و موک بن اسحاعل نے رواحی تکی

-

(۸) زیرین عطاع ئن ساب

ان سے اسرا نیل و جم ین عبرائجمریرنے روابی کی ہے ابو عاتم نے اکئیں کہ قراردیا ہے اور تزنری دنسائی نے ان سے حدریثت رواحی ت کی ےے- 0609 مصحب بن سلام ا تھی اکوی

اح ے ایام ات و ابو سعی الا کے دنت کے اج سے تق ای یی یس روای تکی ہے۔ این مین سکت ہیں ان سے ردایت لی میس حم یں اورابوھائم کت ہیں دہش ہیں ادر چےچ ہیں۔ )۴٣(‏ مشیرین میمون الخراسانی

امتونی ین ۸۴ای ان سے ام بن عاصھم انخراسالی نے ردای کیا ہے۔ سے ب راو یئ اور امام تلخرصاوق علیہ السلا مکی خیرمت مس عاضرہوئئے اوران سے روابات لی ابن ماجہ ے اانع سے رودایتل ہے (۳۱) ١برا‏ یبن سعدانڑھ یی

ا تورث سن س ہداتھ۔ مہ اکا رین میں سے ہین صحاح میں ان سے ردایات مو ود ہں۔۔ امام احر بن بل کے اساذہ یس سے ہیں۔

۴

(۲۲) سعیربینع مسل.ہ الام وی

۱ متوئی من ۱٣۳۔وہ‏ امام شمافتی کے استاداور حاح ست کے راولوں میس ے ہں۔ ۳) انھارث ین گھبرا ہعری

لم آئے اور امام صاوقی سے روا تکیاان ے ابی ع "این مد ادر الو اسامہ روایی رھیں۔ (۴۳) مخفل بن صاخ الاسدری

الو ھا الو ترمدکیانے ان سے ردای کیا ہے بن عبیرانشد الخارٹی ان سے روا تک/رۓے یں۔ (۲۵) ایب :نالی تیمہا با

اور بعمربی عولی عٹرن کپچ یک ایا و ینہ کے موا تھے ان ے| نی اور ان ۓے زوایت 11 سے بج قمارہ کے 0 آلہے۔ روتوں تمارولں“ روآوں مفیاوں*شعبہ اور غل کجرنے ان سے روای تکی ہے۔ این سد اود ابن مین ان کون 3را روا ہی۔1 امھ یں سا ہو ۓ اور ٣اش‏ انقال ازیاات

)۳٢(‏ خخببرا ملک بن جرح اھر ی یہ مشہورعالم ہیں او رکھا جا ےکم عالم اعلام میس سب سے بل کاب

امو نے ا ائ حنغر ہدئۓ او رن ۳۹ات میں انقال قرایا-

۵

اوران حعفرات کے علادہ بڑراروں اعححاب ہیں ویر رس امام صاو کی طرف

موب یی ال کے نام ابن جرنے تتیب ا جزیٹ' لان المیزان اور

تقریب|ا تذیب میں ھی تے ممیزان الا عترال اور جمزک رہ٢‏ ا حفاظط بیس الم زری

تے خلا ملا الال میس “تعلیب بفدرادیی نے تار تشد ادس ان الی عائخم نے ایحرح

دالتحدریل میس جاججاذک گے ہیں۔ ماں تک امام نف رصادق علیہ العلام کے فاص اصصحا بکا تلق ہے نو ان میس سے لح کا زکرپھم علجحذہ :اب می ںکریں گے۔

ہیس ار ارژ یئ

امام تن رصادق علیہ السلام کا مررسہ اصلاً نے عیب میس مد نی ی میس بی تھا کان سال ھم ویر ان ین علی الوشظاء کے جوا نے سے للھ آئۓ ہی ںک ۔کوف کی مد میں بھی ایک مدررسہ ام تھا۔ نیزجن لام٤‏ امام کے نام اوی ہے ہیں ان میں رین میمون اخ ۱ بائی ے بقداد جس امام سے درس لیا سے اور الھارث بن یر ابعری نے علیہ آکر. ابو ڑھچ تے ایک فص کے سلسللے میں اصتترلا لکرتے ہوے آما ہ ےکہ ابو عفیضہ نے یا عراق می امام علیہ الام سے مہ ردایت لی ہے یا بریھ مس اس پ ہم آگے نقی باب می فک دکریں گے۔ اس طرح امام علیہ السلام کے بدا رکا گہ' یریت “وفہ اور پقراوشش قائم ہونا غایجت ہو ما سے جس بعر میں آپ کے شاکردوں نے متام رکھا ۔ منمور متورغ مین تماد زادہ اتی تاب میں تر فراتے ہیں :

”درس امام شف رصادقق علیہ السلام ضزل اودر یریب ومسر تق صلی ارڈ

علبیہ و آلہ وس م ٹین قرو عنبربود کہ امام ششم بیس از نما زمیج ردی بحاضر

رود ملین و طلاب علوم جح مشیر و ورس علم و فیلت رای

۸۵8

واریر۔ فل از امام شعم در معن مسر و جیئیں بدرس کہ از ہم نتفکیک میشدوغیرقابل خوڑہ در اعلام رودوچ حخصیت تھی یزاین رر را اق ل راروو راس گارور- اول مو صا زی “یز نیت تنب خاتم ا شنیین صلی الڈر علیہ وآلہ وسلم ہو وکہ عق لکل و ا راف رس بودد لپں از ججثرت ا کہ در ہیں مسید می مشست واصسحاب ر لم رفضیلت ی آموشت۔*ك۱۳۵ عچنی مریند میس امام صادق علیہ السلام کابدرسہ آتجناب کاکدراو رسود وی یس قم وھ ر کے درمیان تھاچیاں نما ز شیج کے بح امام علیہ السلام عاضری ٹکیا طرف موجہ ہوئے' ملین اور طالپان علم جع ہو جات اور ورس معلم و فضیلت بڑجتے۔ امام عم سے لے اس مسچپر میں اور اسی لد ام یس جو بھی نہ تر ہوا اور بس کا الم الام می مقابللہ می نکیا پاسکنا۔ ما خی شحخدیات نے اس مد دس میس درس دیا اد راس مر رسے کے پیل موس بفمبراکرم ماقم لسن صلی اش علیہ دآلہ جم ج جو عق لکل اور ا شخراف رل تے اور ہجثرت مل کے بعد اسیا مسچدر مس پت اور اصسحوا ب کرام و لم وفضیلت کاررسل رکگے۔'' اس کے دومرے بدرس می بن الی طالب“ مسرے اعام ججاو چو تھے بر امام مھ باقر علیہ الام تھ اور پانچواں بدرسہ جو لاد رسوں سے زیادہبڑا اس کے زی انام نف رعارق علے السلام جن ان طرع ےو رسیا ۴ بزرگو ںکی روایا ت کا این تھا۔ ىہ السا مد رسہ تھاجشس مش٢‏ م۴" جرارسے زیادوعلاء نضلاء ورس لیے تے_

کر

رہ درس

روایات اور واقعات سے پت چلا ےک نما زمیج کے بد امام علیہ السلاح اینا رخ عاضی نکی طر فکرتے مہ چاتاعدہ کلاس نہ جہوتی لہ ایک مع علھی ہوا تھا لوک سوالات لوت جات اور امام علیہ السلام جوابات دپنے جاتے اور فریات ےک جو یھ یھنا جا جے ہھ وھ لو۔ ان سوالات میں حری تفہ“ عق ”فلقہ کلام" لب“ اربان ناف * جوم“ فلکیات؛ دنت“ ہنرس خرض ملف علوم سے متحلقی ہوالات وت او زآپ یک ای کک کے جوا رتنے جات مب فی رمساسوں اور مر فرقوں کے ا فرار سے منانرے بھی ہوتے بھی ایبائھی ہو ماک ہکوگ یتنس اس چس علبی میں ایک سوا لکرنا۔ امام سک کہ پچھلے تم لوک یں میں ہن کرد بعد اڑژاں خُورای ر صلہ فرماتےے این طرع انا ی آزڑاراد احول ہین ععمی نز جکرکی یں ہوئیں۔

زوین الما مک ہی نک امام شف رصادق علیہ السلام ہرورل سے لے کے صداتت راس اور نشیا تکاورس وی اور ورس سے مل ہرروڑ تھوڑگیبست فیع ےکر ار رایان رز اخلا قکی ہت تو انب رکون ہز کی ےت تلق جے زم مکش میا ںپ> روشنی ڈا لج مض دوصرے شممردوں تے با کیا ےکی اماحم درس سے سای تتصیل علم وسیارت اور تو ل فقیلت وائیمان و ابانت کی باکید فریاتے اورعکارم ا فان اوراخماپ لس رز ژوروے۔-ےر۳۷۹ا

۶ا کر اسلا سے ران بھٹوں اور اسلام کے ذظ کے لئ امام تفرصادش علیہ الملا مک یمکوششوں کے مخقر تارف کے بعر جم مال اعلقادیہ بر خقخرت اما

۸ھ پفرصاوق علیہ السلام کے ارشادات و نات مق ابیا نکرتے ہیں۔ ۱ ناوات کے یا ہے آپ گی نان ارت پماں ہارا متقصد غرام مخطزات اسلامییہ کے بارے میں امام کے محل ارحمادات و خطبا تکو یی ںکرنا یں ہے بلکہ صرف ان امو ر کے پاارے می امام کے عفقزا زشاات اق لکزیاقمودروں بج کاو کس کسی فر ےک ھا لے سے جیا کم یا میا ہے۔ ہیں جرت مع رک مشمورعالم الو زجرہ بر ےکہ انسوں نے اتی ماب '”الامام ااصاوق نے امیس جہماں مخزات پر اماعمکی " راء یر نٹ گی ہے وہاں مستن کمایوں سے امام نف رصاوق علیہ السلام کے ارشاوا رت و رن ےآ لا ےا شا ےن وف مکی ربا یماں استاز ابو زع مفضمل تیر تو مطلوٹ ہیں ین امام کے ا رشیارا ت جم نا ینف یکرت ہیں۔

ھی ریت باری تعالیٰ رکید شا ان آنکنوں ہے اکنا ےک یں ہیں ایا سوال ہے جو عرصہ دراز سے علیاۓ اسلام کے درمیان مو ضورع بت یا ہوا ے اور علما نے اس متلہ بر خوب فی ھی ںکی ہیں۔ اض عاء ما اشماعر: اور اصحیاب وا ہراس جات کے تا مل ہہ ںکہ اللہ نعال یکو آکھ سے نہ صرف ب کہ ویکھا جاسکا لہ انت شان لوسب ای ال کوک سی کے کیل قرآن جیدکی آسن میا رہ

سےا۔

”وحوە یوما ناضرۃ الی ربھا ناظر؟''(صر ایر ڑڈ۵ے -

لس

آیت ۲۳)

یئ روڑ چرے چک رے ہوں کے اوروہ اۓ ر بک طرف دک

رے ہوں گے۔"

پھر کہ محرارح میں حفضرت صلی اھ علیہ وآلہ و سم نے الث کو دیکھا اور رت سو کیا نے طور یر ویکھا و خی ویر تحقرت اوامم نظ رصیاوقی علیہ السلام نے اس ید ےکی فئی فبائی ہے۔ ابال یج صدوق یس اساعیل بن الفحضل سے ررامدے۔

”ال ؛ سالت اباعبداللہ حعفر بن محمدالصادی

علیھماالسلامعناللەتبارکو تعالیھلیریفی

المعاد؟فقال سبحاناللەو تعالی عن ذلکعلوا

کہیرایاابن الفضل انالابصارلاتدرکالامالەلون

وکیفی“واللەخالق|لالوانوالکیفی؛” ۳۸

میں تے امام ضف رصاوق' سے موچ کیا اللہ تعالی قیا مت میں نظ رآ نے

گا؟ بے قرھایا ٠‏ الد تمالی اس سے بست بلندد بر تر ہے سے اہن

فففل میں صرف ان چو ںکو وھ عق ہیں جن کا رک یاکیفیت ہو

لہ ازنہ رتک او رکیشی تکاییی شالقٌے۔"

مشمو رصولی ا براڈیم الگرٹی سے اما ی الخ الصدوق ش نی رواعت ے۔

ان رجلا رای ربه عزوجل فی منامه فما یکون

ذالک؟ فقال : نلکرحلالا دین لەان الله تبارکو

تعالی لا یری فی الیفظہ ولا فی المنامولافی الدنیاولافی الاح ر٣‏ ۱۳۹ میں نے امام شمفرصادقی' سے ع رخ لک یکمہ ایک شس دوک یکا ہ ےکمہ انس نے ال ھکو خواب میں دیکھا انل ک کیا عقیقت ہے؟ آپ' نے رای ؛ سی ایافص ہے جن س کاکوگی رین نہیں بے رک الد تو یکوشہ خوا گے میس دیکھا ما سکم سس لد سے میں ظط رنا"س ازرث بی اخرت اپ صدوق دی ےناپ التوحید ٹس اور الا اح ش طِریً ے سے رواعت دڑ٤ڑے۔‏ ”عن عبدالله بن سنان‌عن ابی عبداللهعليهالسلام فی قولەعزوجل : لاتدرکەالابصار وھو یدرک الامصار ٴ“فقال : احاطەالو هم'لات ریال ی قو لة ٭ قد جاءکمبصائر من ربکملیس‌یعنی بصر العیون (فمن ابصر فلنفسه)لیس یعنی من البصر بعینه (ومن عمی فعلیھا)لمیعن عم ی العیون'انماعنی فلان ‌بصیر بالفقە و فلان‌بصیر بالدراھمو فلان ہصی_ بالشیاب'اللەاعظمم ان یریبالعینػث۰ ”عبدایش بن سنااع نے امام ختفرصادق علیہ السلام سے اد تال کے مان " اسے کرس یں اودرا ککرعھتں وہ آ وو ںکو ذ تا سے

1

سے ممتعاقق تق لکیا ےک اس سے مرو عقلو ںکااعاط اور تپ

کیا مم ار کا قول ضھیں دیکھتے تھہمارے پا تھبمارے ری طرف

سے نصائ رز آ ہے یہاں آ عو ںکی بیتائی عراد سس اور فرایا جو صجرت

ےکنا تا سے و خوواس کے لئ فانندہ مند ہے یہاں بھی بصارت بی

مرا تمیں او رہ رما کہ جمھس نے ان دا من دکھایا دو اس کے کے نقصان

وہ سے اس سے مگھو ںککااندجا بین مرا میں لہ اعاطہ خقول مرادہے

جن ےکی جا ےکم فاا ںکو شع میں بصیرت حاصل ہے فلا کوق میں

اورفذا کو راع میس اور فلا نک وکڑوں میں بحیرت حاصل ہے انقہ

مال اس ے مر تر ےکآ تعگندوں سے ا سے و ریکھا جا گے۔''

مرج میں خضرت صلی اوہ علیہ لہ وسلم کا اش تال یکو دنا بھی سلمائوں کے نوک بست ما زخ رما ے اس پارمے میس امام مخ رصار علیہ السلا مکا ایک قول جم یہاں پیش یکر ہے ہیں روضہ الکائی میس تا رین لتوب الکلینے روا ت لیب

الال سحسمے العلہیں الصادق عليه السلام

فعال ٴ رای رسول الله صلی الله عليه و أله ربہ؟

قال : نعم رآءِقلب“فاماربناج ل‌جلالەفلاندرکه

ابصار حدق الناظرین ولا بحیط بە اسماع

ال..امعے* ےا

”گرالحلبی نے امام طف رصاوق علیہ السلام سے پچ اک کیا رسول

ارم صلی اللہ علیہ وآلہ وسعلم نے اپنے ر بکو دیکھا؟ ڈربایا ٠.‏ ہاں

۹۷ ٰ قب سے جمارارب جٹیل دوہ ےکہ آنگمهیں ا ےکو شش کے پا تودیا نیں کی اور نہ بی سے والو ںکی قیت سا عت اس کا اعائ دک رح

سساہ-

ثررت١‏ بے نضاءوثرراور وش

ددرت ا اہ کے مسوم اور اطلاق پر علماۓ اسلام کے درمیان غاصااخلاف بای جا( ہے مور ارد سے ےکر سور1 رشن کک بہت ىی آیات موجور ہیں یمن میں اد کا ہر بر تقادر ہونا جا کیا ے۔ سورء لف ٹیس ے"اناللهعل یکل سی قدی ر''(آیتھ۲۵۹) بے ایک الہ پر ثررت رتا ےی پانت| ور بو دی چو ھی آیت می کک ی گنی ہے۔ سور بف۸ا میں فربایا گیا ےم ”وکاناللەعل یکل شی مسفمدرا''(۴۵) ”اللہ انعال یکو پر رر سا عاصل ہے۔“ سورہ ور۳۳ ش فہایا ”یحْلی اللەما یشاءاناللەءعلی کل شی قدیر''(۴۵) ”اش قا یھ یھ چاجتا سے ناکرا ہے اور ہرخئ ‏ انشد قادرہے۔''اورائی ططر نکی بست کی آیات میں جن کے پیش نظ رض علام ے می عو کیا ےک الد تعالی ایچھائی ادر برائی دونوں ‏ قارر بت ان لح علماو نے امن خر بی از ان نکیا کہ اکر انماان ے ابھائ اور برای وولوں اللہ َال بی اروا ہے فو پچ رعخزاب و اواب ک ےکی معالی جج بکہ ووضاول ے۔ اس پارے میس جم امام پمفرصاوق علیہ السلام اور علیاۓ ائل تشخ کے ند اقوال بی لکرتے ے۔

”عن ابی عبدالله عليیهالسلامقال ؛ انم شبەاللہ

۹۳

بخلقەفھومشرک'ومنالک رقدرتەفھوکاف رگ٢‏

مفقرت امام نف رصاوق علیہ السلام نے فربایا جو اڈ کو مخلوق سے کش

وےۓے وہ مر ے اور ای اقشرتیيے انا ر ےو کا 0 ے۔۔

ان ینا قدرت کے یہ معائی لئے جا میں جےکہ انسان مجبو رح سے تو اس کے لئ مع رکرو ایا ہے دو اس کے سوا پچ ھکردی خمیں سکما باو نٹ کہ انان جبور ہے مقار گیں۔ اس مک کو قضاء قد ر اور بر تخولیقضش کے نام سے جانا جاا سے اتا و قر امہ تشیعم السلام کے زدیک جن ہے لان جرد تخولیضش غاب سے پل ”المئنر له ہین المن زلتے:'' طضیقت ان دوثوں گی درمائی خزل ے۔ ہماں اس جن کو مل کے جملہ سے مخابہ شس مھ کون جیا ت ےکی مہ وہاں اس یکا مطلب ھ رح بگنا هکییر :کا کفراو را یما نکی در میانی منزل یس ہونا ہے۔ اب جھمیماں امام چتفرصادق علیہ السلام کے چچند ارشادات نف‌ لکرتے ہیں۔

”عن عبدالله بن سلیمان عن اہی عبداللہ عليه

السلام قال : سمعته یقول : ان القضاء والقئر

خلقانمن خلقاللہٴواللَەیزیدف ی الخلق‌مایشاء“

”برا بن سلیمان کت ہی ںکہ میں نے امام جمفرصاوق علیہ السلا مکو

کت سناکہ قضاء دق داش کی ممفتوں میں سے دو صفی ہیں اور اولد انی

ختلوقات میں ننس فرجابتاے اضا فکر تن کے ا

اں سیٹی ”خلقانمن خلق اللہ“ ”خلق*ےاءرب یس اختلاف ے اگ رع" پٹ بھی جیماکہ علا مہ اسیا نے اخ رکیاے اور بھم ئے ال نکی پچ دی کی ہے نو عراد اش کی دو صفیں ہو ںگی اور اگ مغ پہ زج

ك‌۹

زھییں تر لوق عراد ہوگی جیسآلہ علامہ ایر پاشم ا ینی اللعرالی نے ب تاب التوحیر' کے اعراب ٹل افخقا رکیا ے۔ اس عوریث کے حاشے ہیں اہموں نے تی قربایا ےگ ۔ ”ولا یبعد ان یکون المراد بھما موجودین من الملالکہ او غیرھم یجری علی ایدیھما قضاوۃ نعالی‌وقدرەکالنا ز لین لیلەالفلر ث٣‏ ”اور نے ورگ نیہ اشاءوثررے ماددہ سلانکھ رو تی ہوں جن کے رت ج سے ال کی تشاء ور جاری ہو ہر کے ایا القدر میں نازل ہوے واے فرٌت۔''(والل٭یزیدفی الخلق سے اس موف کی مائیر ہوکی ہے۔) ایک دو سرىی حدبیث میس امام علیہ السلام نے ان کے فر قکویوں ما ہرکیاہے۔ "عن ابن اذینه عن اہی عبدالله عليه السلام ان ؛ قلطال ععلتلناکعاتٹولر اتضا والقدر؟ قال : افول ؛ ان الله تبارک و تعالی اذا جمع‌العبادیوالقیامەسالھمعماعھدالیھمولم یسالھمعمافصاعليهہ“'۵ ”اہین اؤیغہ گت ہی ںکہ میں نے امام مھ رصاوق علیہ السلام سے لاک آپ فا د کرد کے بارے می سکیا فرماتے ہیں؟ فربایا مہ ںيکتا ہو کہ الد تحالی اہم غیامت جب س بکو شش حکمرے گا فو جو عر ان سے لیا تھا اس کے بارے میں و وھ ےگا اور جو ان بر مسلط کیا تھا ان کے بارے

میس ہیں کو مین گا“ علامہ ماس نے اس موٹح بر وضاحم تکرتے ہو ث ےلگا ےک - ”ھناالخبر یدل علی ان القضاء و القدر انمایکون فی غیرالامورالتکكلیفيیەکالمصالئبوالامراض وامٹالھفلعإ الم رادبھعاالقضاوالقدرععمیان" 'گيے چ راس ارم ولاا ت کرلی سے لہ قدام و قرر کا تق امور نکلیفمیہ (یچنی شری) کے علادہ دوسری چیزوں جیے مصاب' ارائش و غیرد سے سے اور غالبا یماں تی تضاوترر حرارے۔۔ "ے۷٢‏ ایک مرح امام شتنفظرصادق علیہ السلام تے ایک ”وہ ری" سےکما۔ ”'افراء الفانچەٴ فقرءفلمابلغ قوله ؛ ”ایاک نعبد واپاک نستعیرن" قال لە حعفر : علی مانا تستعین باللەو عندکانالفعل منک وجمیےما نمت؟فانقطعالقدری'والحمدللَەربالعالمین" سورة فاتمہ بڑہوٴ“ اس نے بڑھنا شرع کیا جب وہ ٣اک‏ نعہد۔۔۔۔'بپحی جم صرف تیر جی عباو تکرتے اور صرف چجھ ہی سے بد جا ہیں مر مایا و آپ نے فریایا 5 مم تمس تریس اش کی دہ جات ہو جال اکلہ تم سکتے ہوک ام افعال تم سے انی صادرہدتے ہیں اور جو اھ کر رول' تین اور الطاف الٹی سے ملق ے ور ما مل ہو چا اور مل ہ وکیا پیں قدری جیپ ہوگیا۔ تما لھریییس الد بی کے لے ہیں جو

4

حمام ہمانو ں کا رپ جے۔''ےۓے ۴ا

انس حدیث سے پت چلما ےکہ امام علیہ السلام ”قق ریو گی ا سگمردہکی نٹ فرما رے میں جو الل کو پالل ملطعطل مجھتتا سے لچ اس کے خیال میس بندوں کے افعال مس مطلتقا الشد کا ول یں اس موٹح پر ضروری معلوم ہوم س ےکم بحارالانوار کے عاشیہ فولی سکی را جم یہاں نف لکریں۔ سے تیج شور عالہ مفراو نی علامہ مم ین ا لباق نے اس عدرییث کے زیل میس کی ہے جو ارو اہن ازید کے ہوانے سس ےگزریی۔دہ گرب فریاتے ہ ںک رپ رواعت اك امرز ولا تک ی ہے الف شمرعیہ اور اکام ا مور افقباربی ہیں ان کا وین نی خلقت) سے لعل فی اور جہماں تک فضاء و قز رکا علق سے وو ابنے معائی کے اط سے توینیات سے ممطعلق ہیں ہیں اعھال اپنے دجودخارتی کے انار سے در ام موجودا تکی طرح ہیں اور قضاء و رر ان ے متحلق ے من اع تی' اطاععت و محعایت کے اختقمال کے لفاظ ے ہہ امور ایا ری یں اور وانہ فضاءو ند رے پا ہرہیں اور اس کے بی ای یں جو امیر ا ومن نے صلین سے والنن کے وقت مرد شاب یکو بناۓ سے جیا ررایاتڈ ‌واردرے ار را کا ہ٣ل‏ ۔ سےکہ لیف شر یکی یاد مصاع خوام بر ہے لیس اعمال مس ”'فر' نمض ئخ سے وود ٹیں آلی سے ج٘ کی وجہ سے "لیف لازم ے اور ”تھا٠‏ رک وجوب' نم تار نع یکا نام ےس۸٢۱‏

احصول کالی ”ماب التوحید باب ارد القد کی دو ری عدعث میں انام صادل 0020

”من زعمان الله یامر بالفحشاءفقدکذبعلی الله

۹4

ومن زع مان الخی روالش رالیفقدکنذبعلی اللہ" نویس تے سی دعوئ یکاہ اللہ شا م کا عحم دنا سے اس تے اش سر جحخوٹ ولا اور نے ہہ دگوی یکی الہ رو مرددنوں ہیر ےکی طرف سے مس اس تے ھی ال بر بجھوٹ لولاے۔'' ے۱۲۹ ا سکی وضاخت خود امام علیہ السلام نے ایک حدریث میس فربائی سے جو اس پا بگیا شی عدیث سے آپ فراتے ہیں۔ ”قال ٠‏ قال رسول الله صلی اللهعليهەو اله ؛ من زعمان اللەیامر بالسوءوالفحشاءفقدکنب علی لوم تولخ زیخی فی و یی یں ںہ و تر ادعلالتان“ ے٭ھا تضیتڈنے فا کہ جس نے ہدعو کیاکہ اللہ برای اور ظا ہام وچتا سے اس تے اللہ پ جھوٹ بولا اوریشس ت ےکماکمہ خی راور رض راہ کی مت ہوت ہیں اس نے اون کو ا سکی لوت ے نار کردا اور . یتس نے مہ دوگ یکیاک گناہ یغی را کی دی ہوگی قوت کے ہہدتے ہیں ان نے اللہ پر جھوٹ اولا اور ٹس تے الد بر جھوٹ بولا الد اسے جع شس ژال رج ے۔'' اس موح یر ہم دو تن رعحیں نف لکرنا جات ہیں الیک علامہ مجاسی کے جوالے سے ادردو سی علامہ مج رس نأ لابا ی کے جال سے وە بی یں۔

۹۸

”الفاحشہ : الفٰعلہ المتناھیه فی القبح کعبادۃ

الصنم و کشف العورۃ فی الطواف حیث کان

المش رکون یطوفون عراۃویقولون لا نطوف فی

الثیاب التی ؛ فارفنا فیھا النئوب' فکانوا اذا نھوا

عنھا اغتدروا واحتجوا بامرین : تقلید الاباء

والافت اء علی الله“ فاعرض عن الاول لظھور

فسادہ''۵ا

”فاحشہ کے تی امیے ٹچ نل کے ہیں جس سے شض عکیامکیا سے تی

یتو لکی عبادت اور طواف میں پرہنہ ہوجانا سے مٹرک برہنہ طواف

کرتے کے اور کن ےکر جم ا نکپڑوں می سکس وا کی جس میں

من ےگناہ گے ہہ ئئے ہیں یں جدب اتی اس تل سے مت کیا حا تد

عز رکرتے اور دو پانوں سے استد لا لکرۓے_ آبا ود اہدادی تظیر اور

اش" پ افزا میں ظور فما کی وج سے بای بات سے محر ضکیاگیا

یت

اور علامہ طاطبائی فریاتے ہیں م]شنی جنس نے سے دعوٹ یک یاکہ انلہ تال خذاف گراجت یا بے ود کاسو ں کا عم دیتا ہے او روہ ید وی اتال سے زاس کاعحقر ہوگاکہ معاصی کے بارے میس ال کا ارادو تی ہے ویک دالے نے اللہ یر ھوٹ باندھا اہی ہنس کے جھوٹا ہونے کے لے قرآن ید مس فربایا ان الہ بامر بالیغسنحشاط“'(الاع اف ۔آی ۹ ۲۸) ”ال ری ہانؤں کا عم میں رج_* ابس تے بی دگوئ یکیاکہ اجٹھے اور برے افعال بر ثیست ای کے ہو جاتے ہیں

84

تڈودلوگ مخوضہ ہیں ججو بی ککتتے ہی ںکہ افعال اسان شید تکی مخلوق یں کہ اللہ کی عثیدت کے۔۔ اور جس نے الیبا 1 عو یکییاااس تے الد سے ا سکی عکومت چچجیان لی الا تہ الد تعالی رما ے ”ولەالملک'اورعومت ام یکی سے اورںش ےے ہہ دوگ یکیاکہ معاحصی ازڈ کی تو کی ہجائے انسا نکی ف٥ت‏ سے وجوومیں آتے ہیں اس تے الد یر بجھوٹ باندا جج بکہ الد حا ی قریا ا ے ”ما شاءاللهلا' قوۃ الا بالللہ' جو پچ کہ اللہ چادتا سے ال دکی عطاکزدد وت کے سواکوگی قیت ان ۵ا

حدبیث کچ یس امام متخ رصادق علیہ السلام سے منقول ہ ےک -

”ان الله خلق الخلق فعلم ماھم صائرون اليه و

امرھمونھاھمفما ام رھمبەمن شی فقد جعل لھم

السبیل الی ترکەولایکونون اخنین‌ولاتارکین

الا بادنن اللہ“ ۵۳ا

”ال تعالی ے لو و غل گیا اور وہ چان تن لوک لن راپ

ئن لن اس نے نجس پان ں کا تم ویا ببض سے روگا۔ اور ال

نے جن س کا مک وھ یکن ےکا تحم دیا اس کے تر کفک رن ےکی کی بھی اس

یت بٹا دی ے اپ وہ کا م کرتے وانےے اور کام ےکر وا کے

صرف اش ہی کے عم سے قزر دہیئے جا میں گے۔''

ملامہ مج با قرا لچھبودی ا حورث نے ہچ القائی میں اے بح جدعث آزار یا ہے ۵۳ا اور علاعہ چس نے کیہ ق ربا ہےک-

”قال ‌بعضی المحققین : ایکل مایتعلقیەالامر

عل]

جعل للامور سبینل الی ترک باعطاءالقدرۃ لەو امکانالمامور نہ" ۵۵ا و ملین سکتے ہیں ہرذ ہکم جس ےک اع رالی وابست سے او نے فیا گنی کے کگکی فدرت خطا فماکر اس کے ترک کا راست انان کے لے پر اکردیا اور سے عم دیا وایان بھی بائی رکھا۔'' ا ا ای میں و القبر' فٹال : لاس لاوز را مل بینھما'فیھاالحق لت ی بینھمالایعلمھالاالعال او ان سو ا وس کی ال روابەالاخری نعمٴاوسعمابین السماءوالا رض“ .کے کیا برخوں رج و ستے جرد در کے بارے میس لچ ایا آپ ے آپایا وق ہر ری کر ا ان3 درمیان ایک نول ہے اورااس مز لکی یق تکو صرف عالم جادن سے با اکا این ہو--۔۔۔ اوردو مکی روایت میں ے ۴ہ زان غ اور سان کی درمیال می وت ے بڑ ھکر اس میں وسحت ہز ھالم سے عرادامام وشت ے) اس موضوغ پر افیلی بجٹ کے خواہش منر سید العاررام علی نی ا لنقو کی 0-3 رو اظار' استاز ہق کی کرات انان اور ظء'علامہ یی

*+

بھارالانوار کی رج ۴۶۴ ٴئ اور علامہ گنس بی کی شرح کائی می مرا ا معقول رج ص۱۹۵ ۳٣۳‏ اور حتقا ئل کی دوس ری کمابیں ملاحظہ خہا ہیں او راس موضوخع

رسب سے بھ کاب استادمط ری شممیدکی ہے کیا رآن می رحخرق ے؟

مزلہ کے وہ مخصوص حتاًد ہش نکی وجہ سے عالم الام میس اکئیں ایک خصوصی اہیت عاصل سے اشممیں میں سے ایک عیدہ رن می رکا خوق ہونا تھا سک بض ووسرے فرقوں نے تشخ سے تردی کی نی ماں تن کیہ انس سے میسن امام ار بین جعمب لکو خموں سے دوچار ہنا ئ ڑا مل کا اسنا اک ق رن عادث اور لوق سے ازل سے تہیں سے جج بک انام اجربین صبل اور وو سرے خرات سے کت کہ قق ئن ری ا ری ے۔ چناضیہ اس نے نے سراٹھایا اور لوکوں کے کفرو ایا ن کاوارو براراسی کے متحلق عقیرہ قراروے لیمیا لن فرتوں کے نزدیکف قر ننکو حاوث اور توق و۶ قرار ویۓ وانے خارخ از اسلامم ہیں اور محتزلہہ کے مزریک قرا نکو حاوث نہ ماتئے وا نے ارح ا ز الام ہیں۔ بمرعال مہ عقیدہ امام ھی ہو سی شس شو شر شا ا ا قوال شض نو علیہہ لسلام فقلت لہ ؛ یں نقول فی القر آن؟فقال : ھوکلام)للەوقولاللەو اوح اللَموتنزَیله وھوالکتابالعزیز

اپ

الدی لا یانیه الباطل من بین یدیه ولا مرن خلفہ ننزیلمن حکیمحمید ت۵۸ تی بن ممالحم نے اپنے والد الم سے روایہت کیہ کہ می تے امام صادل' سے عر کی اے فرزند رسول' آپ قرآن کے بپارے می کیا فرہاتے ہیں؟ فرمایا ددائل الام “ا س کا قول ا سک یکراب'ا س کی دقی اود اس کاناز لگردد ہے وواڑسی مفبو کراب ےکہ نہ آگے سے اور تی یچین سے بائل اس مس داخل ہہوسکتا ہے اوروہ ایک صاف ححمت او رلا دج ذا تکاناز لکرر ے_'' مہدال جم ا اصعی کھت ہی کہ مس نے ہد امک بن ائین کے اھ سے ایام نف رارق علے. انعلا مکی خحدمصت میں چند عوالات روائہ گۓ اوران ے ان اد کے بارے مس مہب تع دریاف کیا جو عوام میں را اور مو ضو عق نے ہوتے ہیں فو امام علیہ السلام نے اسی خطا بر بی نوا بک ھک ربا ہہ یا نع دو میرے م وضوعوات پر بھی مل ہے أرٗ قرآن سے متلق حصہ نق کرت ہیں مرا ریم نے موا ”واختلفوا فی الفر آن' فزعم قوم : ان القرآن کلام الله غیر مغلو قٴوقال آخر ون : کلام اللہ مخلویہ۔۔ فاحابے۵8 الامام علےه السلام وسالت با رحمکاللەغن الفر آنواختلاف الناس شس قہلکمفانالٹر ان‌کلامللەسحدث'غیر مخلوق'و غیر ازلی مع اللهتعالی دکرہٴو تعالی

مت

اللهمعروف‌ولامجھول“کان‌عزوخل‌ولامتگلم ولا مرید ولا متحرک ولا فاعل' حل و عز ربنا' منہٴ جل و عز ربنا۔ والقر ان کلام الله غیر

مخلوقٴفيیەخبر م نکانقبلکمو خبر مایکون بمذکم'انزل من عنداللەعلی محمدرسولاللەصلی اللءعلیهو الەوسل ١اا‏

”رن کے بارے میں ان کے عخقائید ملف ہیں ای ککمروہکنتا سن ےگ رن اش الام سے لن عحلوق نمیں (حادت میس ) اوردو سرے مت ہ سک اللہ کلام سے اور لوق ہے (جتتی حادث ہے) امام نے جو اب را تھر نے“ اوش رخ رخف تکرے' ق ران کے بارے میں مو چا اور تممارے سا نے عوا مکی جج ملیف آ راع ہیں ا کا ذک کیا ہے لو رن مچیر ال کا کلام سے اور عارٹ ہے ”ڑپ و اقژاء خِں- اوروہ اللہ تال کے سا ازلی بھی خی اور الد اس سے بت بلند و پر ے' اللہ ع ول موجود تھا اور اس کے سواکوگی ے مروف و جمول موجود تہ تھی الثہ تعالی موجود تھا عالا کہ نہ نکمم نان مردر نہ محخرک ھا اورن اع ل 'ہواراا رپ ازع سب سے پز رک و برت سے مہ قماحم صفات فیا ت اس وقت وقوع ذس ہوتی ہیں جب اس زات احدیت سے صادر لی ہیں 'مارارپ زگ و بت ے' ق رن ال کلام ہے سے جھلآیا میں

۳۴

عاسکما ا اش ھم سے بیلل گور والوں اور تما رے پور آ نے والوں

گی یں ہیں مہ ال کی طرف سے مھ رسول صلی اللہ علیہ لہ وسممبہ

ازل‌ہوا۔" ۱

امام کا کلام ذرا سا تٹریع طاب ہے' عام قا رن٠ین‏ کے لے ا سکی حخنظھر شر کی جاتی ہے۔ لتتض انسانوں میں ایک کا مرن ےکی صلاحیت پالشوۃ موجور ہگ ہے لکن اسب موات ران کااظما وت ہے پعض اناو می کو کا کرت ےکی لاعت پالقوڈ موجوددی خی ہوئی اڑا ان سے اس انح ل کا اظمار ہو یں خیرے وو لوگ ہوتے ہیں شین یس تی کا مکی پالقوۃ صلاحیت موجور ہوکی ہے کن جا ہیا اس کا انمار ہوا ہے۔ ملا بو لکوبی لیے ارشد ہو ل ےکی صلاضیت رکھتا ہے اور بوقت ضر ورت ولا ہے لو ایے وت ج بک ووث پول را بدوبو لے پر قادد ار ہوگا گن اسے بوا ہو اما میں جا ے ابو ہوا یا لم اس وق تا جا ےگا جب وہ س2 دو صربے سے اول رجا ہو بات رما ہو۔ راشی رکوڑکا ہے اس ممش بول کی صلاضیت بی شمیں الا دہبھی الم خی ںکسلا ۓےگا۔ مرشد یس لو ل ےکی صلاحیت لو سے مین دو خوا, تواو اوت رتا ہے ا سکو اگ لکہہیں گے_

اد تھالی کے بارے بی جنارا عقیدویہ ہ ےک وو سب سے بی ذات سے وچی ذات دوس گی ام پقڑو ںکی خالق ےسا کی صفات خودا کی زا ت کا مع مس ایا میں ہ ےک دہ میس اس میس بعد می پیدا ہوئی ہیں اب ہیں ایک اییا وقت ضرور رض اکرنا ڑڑے گا جب الد فو ای غمام صفات کے ساسجھہ موتو تھا لن کوکئی دو ری گے موجووٹہ ھی ونام فک رسکتا تھا لم نیکوئی فخلوق ہی اس نے یں ہتائی گی الاکن للا مر دہ چو ںکی یقت تپدن یکن کی قذرت آ

ف۰

رکتا الین اس تےکسی علو کو علق ہی نی ںکیا تاس علو کی شمل تبریں کر وعلی با النقیاں۔ اکر وو یف کسی لاف ن کلام کے بولا رتا لا مک رما رتا جم عام آوگ یکو بے چا ہو لے دیھے ہیں تو بے معتل ککتے ہیں۔ اللہ تعاٹی کے لن ےکی کت ؟(سجاذاای) النرادہاس وقت کک پولا میں جب تک اس تے لا کلام بد : ہکرلیا۔ عالاککہ اس میس بو لم ےکی صقت موججود تھی یں صفم تکظام فدیم ہوک کیو ککمہ وہ باری تعال یی عین ذات سے لان اس کاکلا مم علوقی یا حاث ہوا نو جول چول ار ے ال صفا تکا عیرور ہو ا ما ے وو عاوث لج مخلوق ہو کی جالی ہؤں۔ ىہ ایک دا جع اورید بی بات ے۔ ٰ

اس وریٹ من دو رح انامأانے فی رحلوقی'' قرایا سے اس کے مھائی خر ورپ کے ہیں میتی جو نایا جا سک ےکی وتلہ امام نے تفر نک وحرث شی عدم ے وجورشں آتے والا اور فی رازی' قلوق تزاریا سے لو تی موی کے حعانی ع پ یکی روے یہ ہوں مھ ےکہ وہ بعلی میں سے ۹۷ہ م_ے بای جا کے۔

خم صدوق علیہ ال رض نے ا سک جو تریح فربائی ہے اس عم ان کے الفاظ ہیقف ل کر ہیں۔

”قدحاءفی الکتابانالفر آن‌کلام للەووحی الله

وفو لاللَە و کتابالل لمیجئی فیەانەمخلوہ یوانما

امعتعتا من اطلاق المخلوق عليه لان المخلوى

فی اللغەقدیکون‌مکنوباویقال : کلاممخلوق

ای مکنوب'قال الله تبارکوتعالی : الماتعبدون

من دون الله او ثااو تخلقون افکا ای کنذبا وقال

ء|

تعالٰی حکایەع منکریالٹوحید قاسمعنا بھنافی الملہالاخر ۃ انھناالااختلاق“ای افتعالو کذب' فمن زعم ان القران مخلوق بمعنی انە مکلوب فقدکفر' ومن قال : اه غیر مخلوق بمعنی ارہ صرمن مکل وب فمد صلیق و9 قال الحق و الصو اب' ومن زعمانەغیر مخلو بمعنی |الەغیر یجلٹو عغے منزلوغیر محفوظفقداخطاوقال غیرالحق والصواب۔و قداحمع ال لااسلامعلی ان القر ا ن کلام الله عزوجل علی الحقیقه دون المحاز وانم قال‌غیر ذلک فقدقال منکرامنن القول وزورا ووجدناالقر ان مفصلاو موصلاو بعضەغیي بعض وبعضەقب ل بعضکالناسخالذی بناخر عن العنسوخ“فلولم یکن ماهذہ صفتہ حادثابطلت الدلالەعل یىی حدوٹالمحدثات'' ۸۵ فرآن میس آیا ےک تق رآن انل الام ہے دی ٹھی ہے ا سکاقول ہے اداد ا سک کاب سے مجن اس میس مہ نہیں آیا ےکہ قرمان فوق“' ہے ابی لئے جم ران حر لفظہ ماوق کا الا یکرنے سے شش عکرتے مس ک مہ لقت عربی کے لیاظ سے ”لام موق * کے مم جھٹلا ۓ ہو کے کلام کے ہیں۔ الد تھالی نے ربا ہے تم صرف بتو ںکی مرضتٹ یکرت ہو الد کے سوااو ںان بائرشۓ رس پو نی جھوٹ اور مفکرین لوحر

ے۶

کی زبانی۔ الد تعالی جیان فریا ےک وہ کت ہیں تپعم نے می لنوں میں

وا سی بای میں ہیس ىہ فو صر فکڑھی ہہوٹی با ہیں ہیں۔ بیماں شلق

کے میتی چان اذ گنی گی پالوان نی ٹین ابی دوک یکر ےکلہ

رن مفلوق سے شی جھطلانے کے ا کی سے اس تےکف کیا اور جٹس نے

قرر نکو خی رمخلوقی اس مم میں قراردیاکہ دہ جھٹلایا ضمیس جاسکتا اس نے

تچ ولا اد ر کھج با کی اورجنس نے یہ دعوٹ یکیاکہ قررآن خی لوق ہے

اس مم می سکہ وو عادث میں نازل خی سکیاگیا اور حم رتفوظط ہے انس

نے خطاکی اور جن و صوا بکی جات خی ںکنی اور ال اسلا م کا اس پہ

اعمارع ےک فراع درحقیقت الد کا کلام سے نہک جا زآ اور تو اس

کے سواکسی بات کا چان سے ان نے بحدوٹ اور شنگر پان گی ؟ھم

:زس میس محصل وم صلب+[٦٦اوونوں‏ ط مر حکی آمات یا یں * آیانت

ایک ووصرے ے لف اور کے یی یں ؟ کے:غ قات جر ہرمال

مورحم شیرم آُیات کے بعد آگی ہیں۔ اف ران صفا تکو حارث ش مائئیں ٭

تلوقات کے حارث پوئے ‏ کوگی ولیل باقی خی ہبی او ری عقیدہ ہاش

تراریااے۔''

صروق کے چ لک راوروضاح ت/ رح ہی ںکہ بجھوٹ کت ہیں ایی جات ک وک یکی طرف مفسو بکرنا جو انس نے اب ب تک نکی ہو اور بھو کی اس لحریف بر سب کا انفاقی یت وی رین ال نے اریت سے لے سے پارّاہولي قرعون وغیر: اور انمیاء ععم السلام کے اقوال مان ئے ہیں اکر قرآن نرییم ہے و دہ :یانات ال ئے اع لوگکون کے ضصیاوزنوئے سے سے یا کردپے جو

فر:ءا

میٹ ےے۔ النرا فرآن ان لووں کے مقواوں کے بعد ہوا اس لُۓۓ عادت ہوا آنے پڑے گر ایک اوردییل ریت یں کہ رن رٹ ےک ما ننسخ من ایەاو ننسھاناتبخیر منھااومتلھا“

لت ۱۶٭) ”مکی آی تکونہ مفسو غکرتے یں نہ محوگکر کہ اس ے اتی یا ال گی یت نے ۳وہ

طاہر ےک جو آیت مفسوخغ ہوئی وہ لہ ہوگی اور نار آیت انرڈ اورثال یل وکی ہے مکل بعد میں۔ دعدرددد عیر کے پارے مل یرہ ذ وغر کے پارے یکنا طرح اسلای فرسنو اقراط و نفرریغ کا شار

بہوئے اسے یم وپ جیا نکر آئے ہیں عرحن الد کے وعدہ پر زور وی اور وغی رآ رہمحت سے بد لک رگناہوں پر جرب یکرت تھے منزلہ وعید کے بارے میس ڈیا دہ نٹ ایگ اور زور ریرۓ اوز رم تو نظرانرا زکرے امام متخ رصارت علے الام نے قرایا۔ ”ان الله لا یکاف نفساالا وسعھاء ولا یکلفھا فوق طافتھا'وافعالالعبادمخلوقەخلق تقدیر ولا خلق تکوین۔ والله خالق کل شئی ولا نقول بالجبر ولا بالتفویض' ولا یاخثاللہ عزوج البری بالسقیم' ولا یعذب اللہ عزوجل الاطفال

وازرۃ وزرا ا حخری مہ٢‏ و قال عزوجل وان لیس للانسان الا ماسعیہ۸) ولله عزوجل ان یعفو و یتفضل'ولی س‌لەانیظلمٴولایفرزضاللەعزوجل علی عبادہطاعتەمن یعلمانەیغویھمو یضلھم ولا پختار رسالته ولا بصطفی من عبادہ من یعلمان یکفر بە ویعبدالشیطان من دونەولا یتخد علی اح ہٴالامعصوما۹ہ"'

اط کسی لف سکو ا سکی وسحت برداشت سے زیادہ تکلیف میں ویتا اورت ازع امو رکا کلف کمتا سے جو ا سکی طاقت سے بث دک ہیں اور بنروں کے اقیال علوق ہیں ىہ علق ففبری ہے وی ہیں اور اللہ ہر ےکاخاللق سے نہ جم یت رکے انل ہیں ادرنہ تفویٹش کے نہ تی اھ تمالیٰ بےگناِکوگزاہگار کے پر لے پاڑرے گا اورد ی کوں کال فا ےک کو یکسی دوسر ےکا بوجھ نہ اٹھا ےگا اور الد تعالی فریاىا سے انسا نکو صرف ا سکابدلہ ٹل گا جو اس تن ےکیا ہے ہاں ان تعاٹی میاف اس او رفل کر سکم سے لیک اقم خی ںک رسلا نہ ہی اللہ نے بنریوں بر اپیے شف سکی اطاعت فرش سکی ہے جس کے بارے میں وو جا نے مرو ا وگرا دکرس اوریمکادسں کے اور تہج رما لے کے لئ الے لوگو ںکو انتقیا رک را اور ایے بندرو ںکو ےتا ہے جن کے

۳

پارے میں دہ جاضا ےکم ىہ لو تکفراخقا کرس کے اور اید کے سوا شا نکی وی ری گے اوروہ ای رر سرف اور صرفے مسوم ر7

مت ٹا ررچّا کیاے'' ایک دو ری روایت یں متعنور بن عازم سکت ہی ںکہ امام تمفرصاوق علی اف لاخ نے ڈرھایا۔

”لاس مامورونمنھیون وم نکانلەعذر عنرہاللہ

عزوحل "ےا

لوکو ںکو بح کاموں ک ےکرنے کا تلم دیاگیا ہے مجح سے من کیاکی

ہے اد رتو معفذردزہیں ال تے ائیں محاف ایا ے_'

الن دولوں روایتول کا ہا علیہ ہ ےکہ اللہ نے جو بھی اکم دییئے ہیں انسان یس ان کے ہیا لا کی طات بھی موجود ہے اور اشیں ور ا ھی یں جو اللہ کے انام پر عم لکرتے ہیں انی ام لاق اب لے گا اور جو مواصی کے م رتپ ہدتے ہیں ایس عذاب بھی دیا جائۓےگا۔ تہ بی ا دی رت سے خوش یھی میس با : گنابوں پر جرىی ہونا جاگئئے اور تہ ہج یکس یناو کے بجر ا کی وعیر کے سب الد گی رت سے مالوس بوکر ای ےکو ابدبی جج نی مجھنا چا حئے بل فو ہکا با بکھاا ہو اہ ۔گوئی نس کی دو مسرے کے جم میس خی ں ڑا جا گا نا پاپ کے بجرم میں پڑا جائ ےگا اور تہ دوست ود سرے ووست کے جم میں۔ ال کی اطاعت صاحب استطاعت رر فرش اورمیزوری موا ے۔

ثردہ سارہ کے دو عتظائ دک یی

روہ ڈیب گے ماندب کھوڑبی بت روش ہم چچلے صفات بی ڈال پچ یں

یماں امام شف رصاوقی' کے جوانے سے ان کے دوعتقیرو ںکی نف یکرلی مفصورے۔ پسلا عقیدہ و یہ ےکہ امامت کا اوماد امام تین یس ہونا ضروربی شیں۔ امام ا یں۔ *فھو عالم بمایردعلیەمن ملعیسات آلنجئ؛و معمیات السنن و متشابھات الفتن' فلمیزل الله تعالی مختارھم لخلقه من ولد الحسین عليه امن عاب کل قوش یصطفیھم لنلک ویحتبیھمٴویرضی بھم لخلقەوی رتضیھم'کلما اص یےمتھے انام اسب خالعسن وی رفا بعماات کے اندعیرے میس مشتبہ ہونے وا نے مسائتل چچو اس کے ماس آتے ہیں اور سن مجن دا و رحول کے اعمال و افعال کے مے اور یں کے سروردہ تشا ہہ مسا ت لکو امام خوب جات ہے امام سان علیہ امسلا مکی اولاد یس سے الد تتحالی ایک امام کے بعد وو سر امام موی کے لئ مسلسل احقا رک رما رہ ا کا ا شاب اور چنال مرکو رو مقاصر کے لئے ہوا ا٘یں متقاصر کے لا خدا ان سے بی راشی ہوا اور ای ں گی بروات تھلوقی سے بھی راضی سے ان میں سے ج بکوگی اما مکڑر جا ما سے لو ار ا کی اواو میں سے اتی لوق کے لئ دو سر امام مقر کردا

ت3

اس سے علابت ہوا کہ امام کا اولاد امام سن علیہ امسلام سے بونا ض و ری

ہے۔ اور اید اش٘ییں میں سے امام مقر رک ربا سے اور دو را عتقیر ہش کی چم یماں

اون

یکرن اھ ہیں دہ قرقہ زید کان دہ ےک الل یت سے ہ رش سکاعلم برابر ہو بے خواہ پچھوٹا ہویا بڑا چیہ ہو “جوان 6 کہ و ڑھھف “ھھا۔ ایک لوم عقییرہ خلا ال سے اور وو سرے ارہ می بھی بھت سے مواقحع دہ ہی ںکہ ائھمہ یم الام کے ھا یہ کی طرفبعض ععوات نے رجو کیاہے ارد اپنےعلم سے انی امامت ہابت کر ےہ روغ ہکان مج ش کین نے حریت علی بن خنفر (دام موی کاظم کے بھائی اور انام صلوق' کے خرز) سے روا ت کی ےک عبدالین صن نے ام صارق عی الا مکوہام جوا اک ”انالشجع منک واناالسخی‌منکو انااعلممنک' "مس تم سے زیادہحجاغزیادہ گی اور زا عام میں نے ام ےکماکہ ان سے چا کوک ک کا متا آ ین اہ جا یل سے ٥ہ‏ تم زیادہ ہمادرہویا ٹس اورجماں تک ٣او‏ تکا مق ے لداب پت ٤‏ اوزال ا یک جا ہڑے مصبارف مس خر ہو اور چماں تک اعلم یہ ہوت ےکا تل سے فو آپ کے واوا رت علینے ایک ہزار لام آزاد کئ تھے خم ان میں سے ۵ کے نام کنوا وو عیراشر تے جےے جوا ب خا گا ”انت رحل صحفی' تھمارا عل مکتتالی سے تم ن ےکی استا کی ول خی دنھی جو ہکمابوں می پڑ لیا ان اہول مفرت' نے فبایا پاں کم بن ا عیرا عم اڈروئ یکناب سے لک نکون ىیکنمائیں !

صحف ابرائیر وم وکی و شک کی روے- ۴٤ا‏ ۱ ایان کے متعلق ححضر تک فرمان

اما نگیا ہے اس کے اجزا مکیا ہیں کاب صرف زبان سے ا فزا رکامام سے ؟

۱۳

کیا اس میں دلی نیدب بھی شائل ہے کیا اعمال سے ا کاکوئی تحلق ہے یا نہیں ؟ کی ابا نمو زیادوچھی ہو کر وہ والاتٹ یں جو امام صاوق علیہ السلام کے زانے میں ملف فرتوں کے درمیان زمہ بجٹ تے ابمان کے بارے میں تضحیلی بجٹکاہ موق نہیں سے اورنہ بی جم اس موقع ىر تقابل مالک جات ہیں نان اتا عر سکرنا ضرددیی مھت ہی ںسکہ امام ابوحطیفہ ائیمان کے بارے میس مریضہ کے مہب بر تھے جیسآکہ ہم یه عاید تبھ یکر کے ہیں امام ابوخفیق ہو اے ایک جم عص رج عان تی نے جھ ایک مشمور یرت حے ایک جا لگ کر لت سمائل وریافت کۓ اگے جواب می امام ابو یز نے جوجط گر رکیا اد جار نین حفوطط ہے اس خیط کے ٹیشترمنررجا کو علامہ شی تعمالی نے اتی کاب سر یمان میں بھی نف لکیاہے ج سک ردے انان کا ایال ےکوی تلق یں اور لہ ایم مو زیادہہ و ٹ۵ ماس اس مو ضورع بر یں لو بمت سی ا ہا دیث امام نظ ر سار علے. اسلام ے روابی تک یگئی ہیں لان ایک طول ازشاد جم یہاں نف١ل‏ ک ری سعادت عاص لکررسے ہیں جو ایمان اور ا کے متعلقات کے ملف پہلووں ر نل ہے اص۹ل عربی من کے لے ملاظ فرنا میس درخ ذی کت 1نا

او مروائز یی تج ہی سکہ میں تے امام تپمفرصادق علیہ السلام سے عرش گ: اے عالم (امام) ام کے نز ویک سب سے اففل تل کے 7ایا کن مل کے ران ہکوئی دو مرا عمل قیول نیس خر ما۔ یں نے خی کی ہکن سا مل ہے ؟ قرتا اکنہ اس الد بایان جس کے سواکوگی حیادت کے لا کفنی خییس بھی ابیمان اخا| اتسالی شی اعلغ رجہ “ضولت مس سب سے ا نحرف اور ذائدہ "لں بلنز مین ہے میں نے عرت لک یکیا آپ مھ مہ خی جا یں ش ھک اما نکیا ہے پاکیاہ تول

یا

اد لکانام ہے یا قول بی گل ہے؟ آپ نے فیا یمان کل کائل عمل کا نام ہے اور قول و اس عصل کا ایک حصہ ہے جو خیدانے واج بکیا سے او رکتاب می یا نکیا ہے اس وجوب کے سات ھک اس کائدرروشن ہے اور ا سکی جت باہت اور رن ا لک یگواجی او را ں کی طرف (نحوت ریا سے۔ الترربی کت ہیں لین نے عخ کی ٹس آپ پر قریان جاؤل ا یما نکی ای شر بیان فریا ےکم جس مھ جاؤں--۔۔ آپ نے آرمایا اما نکی ملف عالئنیس؛ورے؟ طہقات اور منازل ہی ںکوگی درجہکائل تزبین ہ ےکوئی نا تس ہے اور اس کاہہ نش بھی نا ہرسے اور کائی درج راع ہے اور اس فا وأ ہدنابھی زیادد ہے-۔--- یں نے عی ضک کیا ابھان بھی عمل' :اص اد رکم و ژادہ ہوا نے مایا ہاں ! عص کیک گرا ایا اللہ تھالی نے فرزند آ دم کے اخضاءد جوا رپ بھی ایا نکو فرش کیاے اوراسے منلف اخضاءی تی مکیا ہے ہ رخفسو انسالی بر ایک اییافش عانمرے چو دوسرےے میں ملا

ال - (ماغ)اس سے تقل وحم او رھ کاکام لیا جا ا جن تس مکا امیر ےک دومسرے اخضاء اس کے عم فربان اور رائۓے کے بین ہکوئ یکا مکرتے ہیں اود نہ عی کا مکو ن ککرتے ہیں۔ (اصول کا یکی الیک زی کی ترسم کے مطاای غلاب سے ھراد عفل ہے )اوریماں تاب سے مراددماخ ہی ے۔ اور

(آئھھین) ہیں جن گدتی دکھاۓے اورلکان) جس بن سے زی سفن ہے۔ (دووں ہاب ) ہیں بن سے اپتی و تکا انم رکر ما سے اور دوتوں (یائوں )جس یھن سے تا ہے اد( مز فولید)ا ےک سی خوا ہش اوھ رے نوا رہ دکی سے اور (ڑیااعا)ا بس سے وہ یا تک ریا سے اور (ص) کہ بن جن ا سے رخمار بھی شال

88

ہیں یں ان میس رای کا اەمائی قریضہ دو صسرے اخضاء کے ابیھائی قرلیض سے چا سے اسی دستور یر جو دا م؟م کک نایا سے اور ق رن اس مر ناف وگ وا ہے ول بر جو مھ واججب سے وہ اس سے ملف سے جت و کان پ واجب ہے اور ہت وکالن ‏ واجب ے ووا ے ملف ے جو ٢‏ گے رواجب ے“اورجچو ٣‏ گے و واج بگیاگیا ہے دہ زبان پر واجب "یں ے اور جو زہان ء واجپ سے وو اس سے ملف سے جو اون ر واجب ہے اور جو پاکھول پر واجب سے وہ پاوں کے فرانل ے ملف سے اور تو مرلزولیرء وا تب ے وویاول واتب میں اور و مز ور واجب ے راک سے لف سے جو رخماروں پ واجب ہے۔ ول (چئ١ل)‏ پ ایما کا زین ہے اقرار می “مع رفت اللی' میم اور رضاد صلیمس و بھی یو ںکہ ال کے علا کیب سصشی کے لاکن نمی دہیاا ہے ارد ا کاکوئی شریک نہیں۔ اللہ ایک ہے تہ اس نے اپنی دی بتالی اور نکوکی ٹا ادرب کہ مال کے پیر نۓ او رای ہے رعول ںان اوران گی آلے ورود ہو اور ا ترا رگرتا ہراس چک جو یی تما بکی صورت یی ال ھکی رف سے ہمارے یا س کی ہے۔ بی دہ ایا کا بجزء ہے جو از نے شلب پ اقرا رومم رن کی صورت شی عائ دکیاسے اور بی فل کا نل سے ا سکو اللہ تعالی ےے میں ارشاد ھریایا ے : ذس سم سے جو مجبور کردیا جا اور ا ںکاول ابیمان من ہو مان ج ھکفرکے واسلے سید رمول دے (اور خوشجی خوجی ایما نکو پچھو ڑرے انس پر شید اکا غحض بھی سے اور راپ گئ ی تو دررا ظز ےم مم ماس رہ ل۷ ١۔‏ ػ مب )۰١‏ یز فرنایا آگاو رہوکہ البعد کے وکرے اشمینان قلب عاکل ہوا ے۔ (سورہ رع ر۳ آمت۲۸) نیز فربایا دہ لوگ جو زہااع سے و انان نے آ ت گان کے ول ائےمانع شمیں لائے۔۔(اشمارہ سے صورہ

گلے۔

اد دکی آیعتا کی طرف) ایک اورموقع پر ارشاد ڈبایا اگ تم لوگ جو چوک وایں مم ہے ما رکرددی پچپاے دکھوالشرخم سے اس کا ساب لے گال یے چا ےگا شس دے گا ادرۓے چاے گا عزاب دے گا۔لیفرو۔ یت ۰ ٭ او پر ال کی رف سے اقار اود مھمفت کے جوانے سے یہ فریضہ تھا اور سی دل اگل اور راس ایمان ے۔

ادد دا نے زبان پر ىہ فرض عائ کیا دودل کے عقیدہ وا ترارکی بات کے اللہ جارک وقالی فرما ہے ادرلوکوں ے اتچی مر کیا جا تکیاکرد(سورہ ظر٢‏ - آیتھ ۸۳) نج زفرایا ٠‏ او رک کہ جی یمان لا الپ ادررجوجماری طرف نازل کیاگیاادر جو تمارئی طرف از لکیاگیا اور ہجاراو تمارا مود ایک ہی ہے اور ہم اس کے آگے سرتیم کرت ہیں (یی ملمان یں )۔(عحد ت۴۹۷ ۔ہیت:٣م)‏ کیب ہے جو ال نے زیالن پر فرح سکیا اور بی زبا ن کا ایت

اد رکا نکی زمہ دارٹی ۔ ہ ےک دہ ایی با ںکو سن سے رکے رہ جن امن غدانے تام ٹرار ریا ہے اور ج کول ےکی اللہ نے شی فربائی سے اورالسی مان ںکو سضنےی رف لوج نہ دیں جن سے اللہ ناراض ہو ناہے اورہہ فیا ےک اور ممارۓ لے مان بی بی بات ناز لکیہ ےکہ جب تم ایل گی یتقو سے براق اور انکا کیا جانا سو لو ان لوگوں کے اس ےہ شنحوججب تک دہکوگی اوربات ترورغ نہ کرہیی۔۔(ص ور انسا ۶ ۳۔ آیت* ۴) بعد ازاں اللہ تھالی نے بھول اورنسیا نکو اس 7 سم کیا ور ف مایا ٤‏ لا ہی شیطانبھلارے فو یا آنے کے بعد نال مگروہ لک اٹھنا یھنا چھوڑ رو۔(الانعام۹-۔ آیت۹۸) اور پھر ریا : یرے ان دو ںکوپشارت دے دوجو بات سلتے ادرا ھی جا تکی رو یکرتے ہیں می دولرگ

جڈ٭

:- جہیں ار ے براعت دی اور بی لوک صاحان تخل ہیں_ (الز مو ۔آبیت۸) نیز فربایا : یق فلا پائی مفومنوں نے جو ابی نماز میس خضشو حکمرتے یں اور جو صمل پانؤں سے تد پیصرتے رےے پں اور جو زکات ہے ہیں۔(مضومنون ۲۳۔ آیتااٴ۳) ایک اور موئح بر ارشاد فربایا ٤‏ جب تی وہکوئی تل بات سنج سس ناس سے مہ چچہ نے ہس اور کت ہی ںکمہ جوارے. گے عارے اعمال اور تمبمارے لے تھہمارے اعمال(ا لص ص۴۸ آ یت ۵۵) ایک اور وع قرمایا : جب کی ای تک ےگ.زرتے ہیں جہماں لغخوبانں جہوردی ہوں تو ود ہزرگان رک رکا ے نز جا زت ( فّازنی۵٤- ٢‏ جیت کے )اپ سوہ بات تو یمان کے جواثے سے اعت بر فر کی ای سے مک توبات عبال کی ہے ا سکی طر کان شہ لگا ئے۔

اور آکھ پر واجب یہ ہ ےکہ جن یو ںکو اد نے دیکھنا خرام قرا ریا ہے ان کی طرف نہ دیھے او رجش سکو دم کی الد نے عمانح تکی سے اور جو عذالل جن اس سے روگرداں رہیے۔ بی آکگھ کا گل ایمانی ہے جیلساکہ اللہ تعاٹی ار شاد فان ف کہ مومنوں ےکس دوکہ جب موںع ہو قو ابٹی آیمھیں چی ری (لڑنی صرف عرام کے وقت* ہروفت شی ) اور اپ یہو ںکی تفاطل کی( سو الو ر ۲۔٣۳)‏ یں اضیس اپنے بوشیدہ مقامات دیگیٹے سے مے حعکیا اور اس سے بھی کہ الیک ننس ا کسی بھائ یکی شرمگاہ بر نظ رکرے اوردہ خو بھی ابنی شرمگا کو دو موں گی نظظروں ے کیاۓ۔ بر ارشادشمراوندی ہے کن ون عورش سے کس دو گج کوڈی الما مم وضع ہو اتی امیس ہی رگھیں او رای مہو ںکی ال تکریں۔(سورہ نو ر۲۴ ۔ آبیتا۳) اس س ےل کوگی عورت انح نکی

رگا پر نظرنکرے اور خودابنی شھردکا ہ کی بی تفاظ تکمرے اک کوکی دوسرا نے دک پائے۔ زامامانے فبایاکہ ہرد موںع جماں قرآن میس حفظظ شر مگ کا کرے ڈہالں زنا ھراد ہے حوائے اس آمت لہ مال د اہی ھرادرے۔

1 إعرول' ذبان اور کک کے اوپر جو امورواجب گئ ہیں ا نکودوسری ات میں ایک تیب سے پوں ارشاد فبایا اور جو بج کہ تم چھپاتے تے اخمال میں صحے گے حماررے خلاف نمارے کان“ آکھیں اور ہلا یگواتی ۰ میں۔(قم بجددا ۳ آیت۲۲) جلودجشنی جلریی او رکھالیس استعارہ ے ترمگاہ اور رانوں کے ئے۔ ریا کہ اس ےکی دی کرو تس کا میں علم نمی ںکی کہ ان ' کے ادردلی سب بی سے کوچ گی اتی ا مرا نیل ےا 1یت ٣۳)۔‏ ھے وہ فرش دا نے آگھ پر واج بگیا ہے اورودبیہ کہ خدائے عزدبل کے قرار وج ہدئے ربا تکی طرف لظ اھک نہ دیکھے اور یہی نگ یمان عل ے۔

خداے پاب پر دانب ٹراردیا ہےکہ جس چزرکوائلہ نے ترام قراردیا سے اس گی مرف نہ بڑھیں اور جن سکی طرف بدن کا عم دیا ے رف اس طرف وراز ولاو بر ان پر صورفہ وین 'صضلہ رم چماددر را خیرااور ممازکی نا طرطمارت واجب مراددٹی ہے اود ہا کہ ایمان دالو جب نماز کے لےکھڑے ہو تو ا منہ عو اود پا ھکمٹیوں تک اور ہے آروںی کے یک جم اور پیروں کا ہرگ رو نون لوان د٥۵‏ ۔ آیتے٦)‏ نے گی ارشار فربایا نب کافروں سے آمناسمامنا ہو نان یی 7ار ررقت نین جا از کے زخموں سے چو رک رک ےک ریا رکرلو نان کی مکی کس دداو راس کے بحد یفاضا نکر یا ےت ان کیو گی ہتھیار پچھینک رے۔(سورہ شھرے ۴۔ آیت ۴) الد کی طرف سے می ہا وا کا

8

عل ےے۔ ضر ب لگا نا ہا اکا ہے۔

اور چے واج بکیالہ وو ار کی نافرنانیوں کے واتل تہ یں اورج بجی ایس بدھایا جا ای ےکا کے لے بدھایا جات جو اد کی خوشفور یکا سبب بو۶۔ سی گے قمایا ٠‏ زین مگبرانہ چچال نہ لوت زم نکوپھا تد ڈالوگے اورن ال کی وجہ سے بلندی میس پیاڑ کے برابر ہوجو گے.(الا را جےا۔ آیتے )٣‏ جز مان ال ےک سے میں میانہ دردبی مقائم دکھواو رای آوا کو گی وخی اکر کی وہہ سے کرشت آزا زگ رھ ےکی آوازسے۔(سذر: قران۳۷- آبیت۹) بھی کر کیا راہ اور یائوں خوداينے خلا فگوابی دیں گے اور انسات بی فرد جم ان کرس مگ ےک اس نے نہیں الد کے تعھم اور نی زمد وا ری کے رخلاف اتعال کیا رن میں ٹربایا ٠‏ کہ آ رح کے روز پھ لیوں رہم گا دیس گے اور ان کے ہاج اوس فا کا و ین کن لے نککاش کر کے تے_(۴۷۵.(2۔ آیت۵٦)‏ اھ اور یو ںکا ىہ فرص تھا تو را ے ان بر ام کیا بی ان دوثوں کا مل ایھالی ے۔

او رجرے۔ یہ فر ضکیاکہ مع شام مز کے اوقات اس سر ےکمریں ا راہ قرایا : اے اخیان والو کو غکرو اور سح رکرو اور ا بب گی حیاو کرو اور تی ککام کرد کہ فلا ح پا2۔(ا مج ۲۳ ۔ یت ےع) لپ مہ ایک جامع فریضہ ہے جو چچرے "دولوئ ا کھوں او ررولوں چرولںء عا تد ے ارات ذو خر ے9 را راو فرایا : عباو تگاہیں ال کے لئ ہی ںہ ں مم اللہ کے سا می الو کی عبادت نہ کر ۔(ائن٣ے‏ -آصت۱۸)اخضاءو تو رر جو فرائ طارت اور نماز کے لئے ما نر گئے ا کا کر تر نکی ان آیات میس یا ہے۔ او مھ کہ جب اد تعالی

۷

نے اپے ب یکریم صلی الد علیہ و آلہ مل کا رخ ایت ال قد س سے خا کح کی طرف مو ڑا لو آبیت نازل فرائی ث دا ایا می سکہ تسماراایمان ضائ حکرہورے بے نرک الد لوگوں و شی رم ہے۔(ا لبق -٢‏ آجمت۴۳٠)ا‏ گ آپمپارگ ٹن مازکوایما ن کا نام دیاگیا ہے اب جو ٹس بھی ال دکی با رگاویش ابنے اخضاء جسمائی کی تفاقت اور ان اخضاءپ غاد اعمال ایمائی کے ٹر نکی جھا ری کے سر حعاض ہو کاو الہ سے کال الایما نکی جضیفیت میں لے کیا اور وہ اٹل جن میں ے وکا اور جھ ان اموربیش س می میس خیاخ تکرےگایا اللہ کے اکم سے تپاوز کر ےگا ان امو یں قو دہ انٹھ سے نت الا یما نکی یت سے ملا ا تکرے تا۔

راو یکتا ے٢‏ میس نے عی سک یک میس ائیمان کے نقصان او رکما لکو بے گیا فریا کہ ایمان میس زیادت یجس راوس بجوکی پے؟؟ نپ نے فراا گر اللہ تعالی کا ارتاد بے کہ : ج بکولی ورہ نازل ہوٹی سے تو ان مِں ے ( این ) ای ک کا کہ اس بت نے تم س ےکس کاایمان زیادوکیا۔ لیس < لک اماندار ہیں آیت ان کے ایمان یس اضاہکر دی ے اور زوا ے شاران بدتے ہیں کن دہ لوگ جن کے ول می ہیں نز پلیدی ال نکی بلیدکی می اضاذ ردق ہے۔(سورہ ال و8 - آبھت ۴۵۳۳) دو سرے مو يہ ارشاد پاری ےہ الن کی داستان سس کے سناتے ہیں دہ جوان لوک تے جو ابے رب ائھان لاتے لے ہم نے ال نکی ہدایت زیادکردئیب(ا کی ف۸ آیت 0۳)اگر پر نس کا ایمان ایک سا ہو تو نہ اس می ںکی ہوگی اور ۔ یادی اوربی الک۷ و سرےپ فخیلت ہوگی اورالل ھک انا می سک موس پاش )بر

براہر وی (اؤر لوگ “شرف یں برابہ خہوتے) اسم اثرارالی ائڑ ے عراپر ہوجاتے اور فضیلت کا لور تشخ ہوجا ا ۔ لمکان ایماان کے کائل بہون ےکی وج سے (پیننی تقدربق قلی؛ واجبات بر عل او رکہائز سے اجقناب) منون واخل بہشت ہڑوگے اور ابیان غں زادلی کے سب (چو عبارت سے عبات م می لیکرنے* تھروبا کو چچھوڑتے اور تصیل اخلاقی حیدد ے) متومنین کے درجا ت اق گے مزویک بت ہیں اور ائمان میں مقصان کے سحبب (جو عبارت سے قرا ئل و وانقبات می ںکو بابی سے )کو مان قکنن ران دوخ میس جا نیس کے۔(ا نی التھ)

ایمانء ابی اث اور پرلل تقر ہماری نر ےکہیں اور یی ںگمریی اس لئے پھر نے اسے بہاں تل نف کردا سے ماک اردو دانع حعخرا ت بھی اس سے اہ اٹھاسییں۔

انام تخرصاوق اور تزیبیت علاء

امام ضتفرصاوق علیہ السلام اوران کے پر سے کاعال آپ اوب پڑھ گے جم نے مق بی بھی با کرد یاکہ امام شنفرصاوق علیہ السلا مکاید رس ہکتنائعشمیم الشان تھا اور آ پکس طرح درس دیے تے “ہم نے محنقعرا اس عید رک یککلاہ یکیقیت اور امام علیہ السلام کے ارشاوا تکی روش میں ان کا حشق جائز :بھی لے لیا۔ جم نے ران اقراو کے نام بھ یکنوا و یئ جوامام علیہ السلام کے پر رسے کے معلیم ماق جھے اورعایااۓ اہل سض نے جن سے حرش رواجین تکی ہیں ۔گوکہ ىہ موضصوع مامت تقعبیل طاب سے تج سکی تاب سمل ہیں ہ وع قکی کہ جم امام علیہ السلام کے یہ شاگمردوں می (۰٭٭) ار جار افرا دکانام بات ہیں اب اخنقماار گے یل

۳۳

نظریماں جم امام علیہ السلام کے ند فقیہ شماگردو ں کا ؤک رکریں گے جنمیس خمائش طور یر جمارے نہب می اہیت عاصل ہے ان میس سے چند کے اسمات گرا می سے ہیں۔ () اپان بن تغلب (۴) ابان بن خثان بن ار می الوغپرائٹہ اصلہ الگوٹی (۳) گیبرین این (۴) حُییل بین دداج (۵) مار بن مان بن زیاد الردای اناوی (3) افھارت بن مغی انصری (ۓ) ہشام بن الم ابغاری اللنری (۸) المعی بن یس (۹) برید اعجلی () خیل بن صا الاسمدی اللوٹ (۱) مادبین ھی (۳) عجبب بن ماہت )٣٣۳(‏ تزو بن ا لظیار(٠)‏ بن علی بن ا لعمان ا بی اللوٹی المعروف منومن اطاق-

اب چم ان یں ے ہرفردگازرا فی کے کین جاک بقا تی کاب اڑا ہو ےک رہ ابام سے سے کے نارغەھاۓ روڑگار قزمیت پاکر نے میں ے بعد میں ایک عال مکو ا نے فو و برکات سے معمو رکیا۔ () اپان‌بن لخلب

ابو سحد اللوٹی انوں نے س۳ ا کا زمانہ بایا لی امام زین الحاب رین “امام ہار علیہ السلام اور ایام تفم رصاوق علیہ السلام اور اسیں کے دوب امامصت میں ا" اھ میں اتال فایا۔ ٹب وی نے “ا لذشرست'' میں ان کے متعل یکا ہ ےک ابان بن تخب بن رباج ابوسعد ا لنگری اھ یىی ىہ جرمربن عبا کے لام “لع ہیں اور مار ے ا ماپ میں جال الق دراو ٹیا منرلہ میس امموں نے امام زین العاب رن اورامام مہ پا قر لھا السلا مکی خیدممت میس عاضریی دبی اور امام مج با تھے ان سے

ہب

فہایا ؛ ”احلس فی مسحدالمدینەو افتالناس فان ی احب ری یفی شیعتی مشلک'مر وید مس جٹھو اور لکو ںکو فی دہ کیو قلہ جچھے ہہ پینرے کہ میرے شحوں میں تبمارے مل لوگ ہوںے2۸۰ا وہ ری جے ‏ فتقہ تھے “لغوی تھے ہہ بات خجاشی اور طوسی اور علامہ حلی ت ےکی ہے مجاشھی نے می اضاش کیا ےکہ آپ قمام علوم میں دوسروں بر سجقت رھت تھے قر ٠ن‏ فتہ “ریت اوب اور لت وا لو وخی رو میں ۔کماجا ما ےکم انمون تے امام صادقی سے تمس ہزار حدجیس رواع تکی ہیں ان کے یارے ٹل ںام کت سے رح آئی و خلاول معن نے ۴ی کی ع کی ے ۹ےا ۱

() ما قوتا موی ت ےککھا ےکم مہ تقاری ے 'اخوبی تھے امامی کہ تے۔ لف اور ریم ا لمنردت؟ جلیل القر جھے۔ ایام علی بن این اور ایام شف رصادق علیہ الام ے رواہی کرت ہیں انموں نے اپ عرب سے بھی سار ع کیا اور خیب اق رآن یروب راب تی ے۸۰

() ذہبے کت ہی ںکہ ٭ اپان ئن تقلب شبق ہیں چے جھے جات ہیں کن رین تے۔ بھی ا نکی سحھائی سے واسططہ سے ا نکی بد نیس ان کے ساجھ اج بن عضبل و ابن معن نے انع سے ردان کی ہے ان سے م وکیا بن عق و عو ممادنئ نی ان عزہ اورایک جماعت تنے روای تگ لی ےس۱۸۱

)۳) ابن مدکی گے ہ ںنککہ دہ روایت ٹین ہے ہی ںوک ا ن کا رہب خحف سے گان روا یٹ ررستجںالعے رواحیت می ںکوکی ححع مل

)٢()‏ ا م کت ہیں۔ و شمیعہ ہیں نہ ہیں این عیئیہ نے ا نکی مرح خصاحت کے

۲

سان کی ے۔ (۵) می کھت ہی ںکہ ہیں نے امام ہف رصاوقی علیہ السلا مکوا نکی عقل؛ ات ار مت عدی ثکی تی فکرتے نا لین کہ دفالی شیع ہے۔ )٦(‏ اع سعد کت ہی ں کہ وہ ان ٭ یں ابن خبان نے نہ لوکوں بیس ان ککا وک کیا ہےسے ۱۸۲ ام نے انی ک یس“ ترنذکی نے جائع میں 'ابودادنے سیر میں “نسائی ہہ ان امن ماج نے سن میس ان سے روامیت لی ے اورہے ال سن اوز ال سی نوس کے نز ورک قائل اعختاد جھے جات ہیں۔ ان کاعل او را۔ا- 7 ابان جن تاب کے علی متام کے اظلما رکے لے بھی کائی ےک امام با ےے اش مد نبوئی میس ینھکر فی دی نے کا عم دیا تھا۔ جنماں انسوں تے امام زین العابر گی 'امام مھ باقراودامام تہتفرصاوق عم السلام سے مم عاصص لکیا ا اس کے سا ساتق نف ددسرے اسماجذہ کے سماتے بھی الو ۓغۓ یی وشن ہت آ ین کو یہ دی ات (لھ تبیہ ما س کے راووں می سے یں الم حدیث تھے۔ دو سرے نیل بن مرا می ابر نظ الکو ئا مترئی ۰ھ یں ان سے موا ۓ زی کے متا .کے ملین نے رد ت کے اور جیسرے ابواححاق عو بین عمپدائڈ ا حمرالی ل السبیعی التوث ٢د‏ ہں۔ این مس بڑے در بے پ ہیں اود حاحع تہ کے دادکی بھی ہیں۔ بھی وجہ ےک ان بین اخل بکو جم اقوال علاء اور اشلاف خلا امام ؟ ھی مات ٹن جو فی وی

پ کی چلاللت ور رکا الم اک علا مہ ھن لی الا روبیگی الیائزی لیت جس ا

”وروی انەدخل علی ابی عبداللهعليےالسلامفلما

تضر ره اھ بوسادۃ فالفنت لہ وصافحه واعتنفقہ

وسائلەورحب بەوانه گان انا قدمالمدینه: نقوصت

الیەالخلقو اخلیتللساریەالنبی صلی اللعو الہ“

”اورے روابیت ےک وہ امام ضممفرصاوق علیہ السلام سے لے آ ا لو

یے بی آ نے اضیس دیکھا گا کیہ لان ےکا عم دیا جو ان کے لے رک

د کیا آپ نے ان سے پا ملایا لہ لے اور ان کاعال احوال پچ چھا

ائمیں خوش آھری دکما اررجب ریت شرف نے جاتے او طالبان در

و ران کےگمرو جح ہوجاتۓ اوران کے لئ بھی اکر ھی الد علیہ

لہ وس مکی مخصوص شس تگگاو نما کردیی جا لی-" ۱۸۳

ابان کے شاک ردوں میس مو کین ۶ الاسر گی ا متوتی ۳۱ اح صاحب مفاڑکی اور شع بن اتحباج“مماوبن زید الازدی؟ فان من می ٴ خرین غازخ ا عبرالل بن میارک بن اگج النحتظلی و غیرد شال ہیں او رعلیائے رجال نے تھا ےکہ ایک مل یک رنے ان سے استنفادہکیا ہے

علمات ۓےکرام ن ےکا کہ اشمی امام صاوق علیہ السلا مکی ٭ زار عدنشیں یا تھی ۸۸۴ سلیعم بن الی حب کے ہی ںکہ میس امام صاد قکی مد ممت شش عاضر ہوا جب یں نے جا کہ اب میں اما سے اجازت لوں اوروائیں آنوں لو یں نے

رب

ام سے خر ک کہ ہش چاتا و کہ آپ کچھ زاد راہ دیں۔ آپ؟ نے ریا تمارے پاس ابان بن مغلب موجود ہیں انموں نے مھ سے بمت زیا دہ رواعتتیں کی ہیں بیس جو حدیث دہ عم سے رواحی تکریں تم مکی حدی ٹک خیثیت سے ا سے رواجیت رخ ہو_۔

منخات ابان

ان بن الب کے بت سے منفا تکاذکر یی ںکمابوں می متا ہے نس سے انرازو ہو ےکم انوں نے اقآ قرام علوم اسلا ہے شش نان اسوئین۔ ان شں چچر مور مصنا تکا زگ ر چم کرت ہیں ) غریب القرآن : بی اس موضصوع پر نل کاب ہے اس لے بی نلم ا زان کی اساس ار ہوٹی سے اور اس میں الفاظ قرآلی کے مفسوم پر اشعار عرب سے اترلا لکیاے۔ ان کے بعد بی عبدال رن مم بن الا زدبی اککلوٹی ت کراب سی ٹین ین اپال نع گی مال فلز کاب کے منماتی م کو دویارہ بش عکیا اور ھ بن ساب الکلبی اورالی ورت خطبہ بن | ھرٹ یکابوں وا کا ٌ کردیا۔ا 21 کماب میں یی بھی ملا ہ کیا کہ ان علماء شی سکما ںکماں انفاقی ے او رکا ںکماں الاف اس طرح بھی ابا نکی راۓ منذردا سان گی ےبھی مضہ طورر۔ (۴) کاب اافضائل : اس میں ملف امور کے حضانل مع یئ ہیں۔ (۳) تاب معالی القرآن : (۴) کاب القراوت ؛ عم القراحوت میں آ بکادرحہ و ےکہ ایک تخل

عوکر ثرات/آ پکی موچجورے۔

ض۳۶

(۵) آماب الاضو لن الروا۔ علی رہب اشیہ ٠‏ ا سکاؤکراین نیم نے بھی ا لفٹرست می ںکیا ے۸۵

(۴) ابان من ححتان من ا مرا یی

ے ابوعبراللہ اللوٹی بج یکوفہ مس رتے اور بھی (صرومیں۔ ان دوتوں مقامات کے رہجے والیں تے اع سے استفاد ہکیا ہے ان مل الوعبیرۃ مرن شی ابو عبدائلہ رین سلام وخیرد شال ہیں۔ انغ سے اک شعراء کے عالات سپ اور لڑائیوں کے وافقیات نفل سے جاتے ہیں۔ آپ امام ممخرصادق اور امام موی کاظم می الام سے رواجی تکمرتے ہیں ال نک یک یکماشیں ہیں ان م کاب ا بت ری“ البصث“ ا مغازی“ الوڈاۃ “ا شش ارد و غیرد شائل ہیں امن خنبائع نے اتی اہ قرار دا ے۔ مم بن الی عم رکتے ہی سکم ابان لوکوں نل سب سے ژیادہ قزی الیافظہ تے اگ رکوٹ یکماب بڑھھ لیت ٹے مرف بہ فیاد رتت- ان کا انقال دم ری صدبیکی ابترام ٹیس وب۸۹ علامہ اسمد حر رے بی اح ہوا ےک انوں نے ابی تاب میس ابان بین عفان بن اح را بی کا جھ ترجم ہلازا ہے ے۱۸ ری ترھھ دوس ری جلد ۸۸ے ایس ابان ین ان بن سی بن کیا التواوی ا تر ٭٭و ےکا لیے وہا ا سے عالاجکمہ اس نام کاکوٹی راو شی ےک رجال میں موجودگیں۔ ساحےٰ تج التڈال تےکھھا ےکہ اضسوںتے اتی الیک بد یکنا بکصی خی جس ا لبتراءم“البحث؟ا لمغازی “الوفا اور | سز ناب یکتاییں شال یں ٍ۱۸۹۸- صاحب جائح الرواۃ علامہ ح بن علی الا دی نے اتی کاب جامح الروۃ میں ٹم خی ٹہ قرار دا ہے۔ علامہ مامقائی نے اس موضوخع پر مطعیبلی بج ٹک رکے

۷۸

انکھیں ”نیہ علی الا لی قراردیا .+8 ابان بین عان ےک تد اوییس لووں نے روایی کی سے جن میں امن بین علی الوشاءم“علی بین اکم کون فضاللہ بن یوب این بن سعیر“مفوان ینعی الا ' تنفربین ساعہ وغیر: شائل ہیں دہ خودبھی امام صادق' کے علادہ آپ کے اصحاب سے بھی ردای تکرتے ہں شا زراروبن این ' یل بن یما ر“عہدال تن بن الی عم پان روب۹۷ (۳) جیرین این ا شیان

ج زر روبین انثین کے بھی ہیں امام مھ باقراورامام جفرالصاوق عیہم السلام سے روابی تکرتے ہیں ام صادق' کے زمانے میں اتقا لکیاجب اما مکو آ پکی دفا تکی خری ‏ آپنے فربایا : مم بنا اللہ نے کی رکو رسول اللہ صلی اللہ عل۔ وآلہ وسعلم اور حخرت لی علیہ السلام کے درمیان را ہے۱ ۹۴س اسی طرح اک ون آ پکاذکرکرتے ہو فرایا۔ اش کی۰ ابٹی رعحت ناز لکرے۔ آب ٹیہ ہیں اررائک قامقت اس ۓ رزاہتی ری کے (۴) گیل بن ددا بن عبدایل ای

یہ معمورعالم اور عحالی ہیں امام پنفرصادق اور ایام موسیٰ کاظم طلھا السلام سے ددایہ تکرتے ہیںس ان کے پھائی فوخ بین دراج دولت ععباصی۔ میس تاضی جے ادر ود انا حب ائل مت ہونا چچھیاتے تھے شیل سن میس توح سے جج چے اور ری عمرہیں نابینا ہوگے تھے ان کا اتال امام رضاعلیہ السلام کے عرد میں ہوا خلا صہ الر ال رجال مجائی نکی ای کاب بھی ہے جو ان سے ان ای یز نے ردوای کی ہے۔ ای ککتاب انموں نے مھ بن ران کے اشلاک سے کی

۹

اوردو سر یکماب مرازم من تی کےا نزک سے (رال خاخی)۔ ا نکاشا ران اصحاب میس ہو تا سے بج نکی روایی کی صحت مسلم سے اور جج ن کا قول معتر ہج نکی تصداق ثابت او رج نکی عم ویر ت کا قرا رعلما ۓےکرارت ےکی ہے بجی کیل ین دراع۔ عبدالل بن مکانع “بد انش ین کی رحماوین عیب “ہمارین عمان اذ ابا بن !ان ”قالواو زعمابواسحاقالفقیەیعنی ثعلبەبن میمون ان افقه ھولاء حمیل بن دراج وھم احدث اصحاب ای عبداللہ عليهالسلام'( الگشمیبم۹۳۰ا۔ علاء کت ہ کہ ععلی بن شون ابواحاق ا شتہ دعوئ یکرت ہہ سکہ ان حفرات می سبھی ققیہ تر مل مین دراح جے اور ہی ضرات امام ختخرصاوق علیہ السلامم کے ہین اسحاب میں سے ہیں۔ الن سے جن بن محبوپ ‏ صا بن قب خبد ال بن چبلہ ابو مانک ا ٹحخبی شی بن عرد وغیبروتے رواب کی ہے علاء نے مہ بھی وضاح تکی ہس ےکمہ نب مک لوج جن درارج نے اپے بھاگی گیل کے ذرہیچے امام سے اعازت خاصل نکر مقاضی کا عرہ قبول نکیا ۱۹۳- (ھ) حمارن خان

بن زیادامرواسی الموٹی ا تونی سن ۹۰ء ا نکاشا ران چھ اصححاب میں ہے جن کی فقاہت اور محت ‏ علا کا انفاقی سے حماوین عخثان نے امام شف رصادق اور امام موی کیاشم اور امام رضا سم السلام سے روای کی سے یز ات کے بمت سے اجاب سے بھی ردای تکرتے ہیں الع سے رواحی تکرنے والو ںکی ندرا بھی بست زادہ ہے۔ ان شس مرن الولی دع بن محرنا ر'مصفوان بن می یرد شائل ہیں

بس

ا نکو خثان الناب کم یکما جانا ہے اگے دوسرے دو بھائی مشتخمراور تسین بھی ایام کے معھالی ہیں۔ے۱۹۵ () افھارث بن ا مخ انصری

امام مھ بات رعلیہ الام اور امام مخ رصاوقی علیہ السلام اور امام موک کاشم علیہ الام جوں ے روای کرت ہیں۔ ہیل القدر اور متبول ا اروا تھے ا نکی مات بت تیم ہے ای کفکمیاپ بھی ان کی سے تو ان سے مفوازن رواٹ کرتے ہیں (ضجاشی خلاصہ الرجال فرسعت ملوسی) بس بن یعقوب کت ہہ ںکہ ہم امام من فرصادق علیہ السلاح کے پاس ٹیش تھے آپ نے فربایاک ہکیا تخہمارے ماس نادگاہ یس سے کیا صمارےپاس آرا مگاو نہیں ہے جماں تم لوک را مک رسکو۔ میں کس چزنے ھارٹ بن ا مغیرہ اللصربی سے باز رکھا سے خم ان کی طرف رو غکیوں شی سکرتے۔(غل مہ الرجالں۔اککشٹی ).۱۹۹ (ھ) ہشام بن الم اداد اکن ری

ا موی ۹ع بے ایی برک ستی ہی سک مر الام او رکب رجال میں ان کا نذکر: نمائص طوری رک یاکیا سے اور الف د موالف سب بیانے جم پک نحریف کی ےک کہ چند تک نظ رای بھی ہیں جنموں نے بشام بین الم بر بے جمیاد ازرامات لگا ہیں مان ان کا قائ لوڈ معماور ےکوگی تحلق ننھیں۔ بی نو جابتا ےک جشام بن اکم شی خصیت ‏ مت تفصیل ےککہوں اور او راگ بی الڈر نے وی دی فذاس پاسرار ولا یت مصتتف لکتا بککھوں گا لان یہماں طوالت کے خوف سے منقبا ا نکی ز دک یکا خاکہ ی یکر ہوں۔

۳

ہشام بن اح مکوف را ہوۓ اور ہڑھھ ہہ وہ زمانہ تاج بک ہکوف۔ حتلف براہب اسلامی ہکا عرکزہونے کے ساھ سام عل م کلام کیا سب سے بڑا ھرکز ا.. مرف ہے کے لوک مان آباۃ تھے اون ایآ دذعررنے نے تق حا ت ان روف رتے تے۔ تشام نے اسی ماحول میں برورش پائی اور لف ا اور ان کے مراح کو ان کے ملین ے عاص للیا- إعر ازژاں وہإقد اد تجار کی حر سے گنئ اور الیک عرسے کے ند وس سو شت اخقا رکریی اور مین ااعلام ٹس

رر غ کے لے میں ”تر ضا 'اک و کن قرار دی اکا ای کگ رد اط میں بھی ھا۔ نپ تجار کی خر سج یک نشم رت وو مع سے تو نے جالتے چاو اتی

لعف شمروں میں مزا کے کمرتے نان بشمام کا شار ازع کے اعترلال اور

منا ری ںکی وج سے اس عد دک ممتاز ترین تحخصیات مس ہونے لگا

امام تک رسائی

ہشام ہے خلف را ب کا مطال ہز گے اور غلسشہ بر بی غاصا عبور جال کر گے و اضوں ۓ ای کلاپ "ال دعلی ارسطا طالیس' ایفکی نل میں ارسطو کے فأنےہ بر تنقی رکی۔ بعد ازاں وہ فرق جعھیہ کے صرعحنہ عم جن مثوان سے متا ٹر ہوئے۔ اما مکی شید ممت میس جن کاو اہ ہشام کے کیا حھرین مز بن الع تے ہیں جیا نکیا ے کہ عیرا بخنیا بت تجیز طرار او رکستارخغ تھا اس نے امام سےا قا تکی خوا پش کی نشیس نت ےکراکہ امام سے اجازت لن کے بعر نے چو ں گا میں نے امام سے اجازت طل بکی بعد ازاں میں بشا حمک و آپ کے اس ےگیا۔ ہشام نے اس میلس میں امام سے ملف سوالات بونتھ امام نے ا کا

'۳٣

تل راپ رخود ند سوال کن بس کے لئے امام سے جشمام نے مسلت طاب کی چند داع بعد ہشام دوبارہ آے و امام نے خودجی ان سوالات کے جوابات رے رن اور چٹر اور حوالات گۓ تو قرف بے سے متعلق تھے ہشام نے پچ رملت ای اور لاجواب 6 وکرچند دن بح یورامام مکی خیرمت میں ٣‏ ائے امام نے اتمیں نففیقت تھے گا کزان چلرامام نے ماک کل میں میس تیر کے مقام پر فلاں وقت میں کا 7 ہاں میراا نا رکرنا۔ ود وہاں پل سے کماما میا نا رکرنے کاو کنا ےکی لئے دیھاکہ امام الیک اونٹب سوار ےآ ارے یں ١‏ پ ا نال شاند شوکات سے تشریف لا رسے ے بہوں جنوں آ آپ ریپ رت ما تج کن اوت ای سا اضاقہ ہہ ماجا ما امام نے اننظارکیالکہ میس یج کنوں لیکن ھپ یت اتی یی مین جج نہ ول سکزا تھا ہیں نے لی نک لم پت ال کی طرف ےے یں میں تے انا الہ ہب چو ڑا ادردلل دجان سے امام کے مات وکیا ے۹۔ امہ باعتقالی نے رر ایا ےک اپئی یی نشست مس جشام نے امام سے مار سو مم گی ددیافت کے ارام نے ان س ب کا نواب دا شی دیں سے ای بیت انام ان کے ول پر نیٹ یک جب 7 تک زندہ رہپ پاسدا ران ولا یت مین ر ے۹۸ ام مسما ت٠‏ لکلاب ی نوعیت کے تھ۔.۔-۸۴

اسامنز ہکرام وشاگ رر نظمام تے تلم | لت ایریۓ' فی رو یرہ امام صادق' سے عاصص لکی تی سے

کوفہ می رت ےکی دج بہ سے انسوں نے مت سے لوگوں سے استتفاد وکیا ھا لیکن پور نل لور یر این آ پکو عفرت امام تجتف رصاو قکی رم کے لئے رقف

خرسپ

کردیا تھا انموں تے آپ' سے بے شحا ر اعادنیث رواجی کی جس علاء ن ےکا سے 71.: ۱

وکان الامامالصادق بکر مدؤویر شع مِں مقامہ''۲۰۰۔ امام صصاوق ا نکی بست عزت و ری مکرتے اور اپٹی جکیہ سےکھڑے پ وکر ان کا اتقبا لکرتے۔ا نکی ای ککتاب اصول ارب ماوئیش شائل ہے صے چے لوس نے بست سے اصحاب سے روایی تکیا ے۔ نپ امام صاو یکا اشتحال بویا نو امام موی کاشم علیہ السلام سے واہستت ہوسگئے اور ان سے بزا ٹیش حاص لکیا۔ ان کے شاکردوں میں نضمر من سوید الیل“ نشیط بن صاع ا لی ینس من عبدال رن موی آل یقطین ونیروشال ہہں۔

جناب ہشام بن ال مکی بت ىی تلیطات کا کر عبات کرام ت ےکی سے جن کے نام مہ ہیں

() کاب الامامہ (۴) کاب الرلالات گی حروث الاخیاء (۳) کاب ارد علی الزنادقہ (م) کناب ارد علی اصحاب الاشنین () کاب الرد گی ہشام اچوائیتی (۷) کتاب ارد عی اصحاب اافائح (ھ) تاب اخ والغلام (۸) کاب ا ض× ر(8) کناب المہسزان () کاب امرد علی من تقال امام ا مفضول (10) کاب اختلاف النا سک الامامہ (0۳) کاب الوضیہ وا مرو علی شرع اٹھرہا (۳) تاب کی ائبردالقدر (۴) تاب ا من (۱۵) کاب ارد علی المعتزلەل لی والڑِ )٥٦(‏ ات الترر (عا) ساب الالفاظ (۱۸) اب

۴۴

ال ردعلی ارس طالیس۔

وں تو جناب ہشام بن الک مکی ری زندگی من ظروں می سلگزری دو جب امام فصاو کے زامن سے واززتہ میں ہونے تھے جج ب گی مناظکریں مین مشور جے اور بعد می و ان کے ہنا ظھرے زیادہ تر امامت کے اشیات می ہوئے۔ چند ممور منا نگرو لکی فرست ہہ ہے۔10) فرقہ اباغیہ سے منا ظرد(۴) براہمہ سے منا نر (۳) ججت خداکی طرف لوکو ںکی ایاج بر منا رن (۴) اب شا مکی ایک تھا مت ے ملف موضوجوات پر مخلف مقامات پر مزا ظرے (۵) نیت لی کا رو مروں سے زیاد و خی خلاقت +ونا(٦)‏ جریم امت پر ریت یی فطضیلت اور آ یہ مبارکہ لی اشن سے فلط استدرلال پر منا ظرڑے) حقرت علیٌ سے موالات کے وجوب پر مناظرن (۸) امامت جم گی اطاعت کے ازم ہونے سر مناظگرو (9) الی شاک الدیتصالی سے متعدد مناظرے (ہا) جا طخلیق نھرانی سے مزا رہ )١(‏ لی جبت اور عرم شنویت پر مناظرو () ابن الی العوجاء سے منا ظرو (۳) ابوطینہ سے تمدر مناظرے (۴) ابراتم بن یار المعتزلی ے سنا ہے )١۵(‏ لیا مزل الطاف “می سے منا عکرنے۔

ان کے علادہ بھ یک رتعداد می وشام کے منا نکر ےکتب ںو رجال مس سوتورجس- |۲۶

ان کے بارےممیں ات کے اقوال امام جنفرصاوق' ے فہاا ”یا ھشام لا زالت مُویدا بروح

۲۳۳۵

اليدس “یج اے بشام تمیں بیشہ روح القد کی تائی حاضل رے۔ ووصرے صوںح ‏ امام صاوق نے رات ”ھناناصر انقلبەولسانہ" لہ لب و زپاان دونوں ے جماریی نر تکرے والا ہے۔'' ایک اور مو تح ء ارشاد تبایا- ”هشام رائدحقنا المژویدلصدقناٴ والنافع لباطل اعنائنا۔ من تہعو تع امرہ تبعناومن خالفه فقد عادانا" یی ہشام ہمارے ج کیا عم راخحرسماان' مارک عر اث ت کا خی ر'مارے اعراء کی ال پاتو ںکا وش مکمرئے والا جے۔ ہش نے ا سکی اما کی اور اس کے انکا مکی اجاع کی اس ےگویا ہعاری احجا عکی اد جس تے اس کی عخالش کی اس نے عم سے عداو تکی-'' امام رضاعلیہ السلامم نے قرمایا 7 ”رحمەاللکان‌عبداناصحاواوذی من قبل اصحابہ ا رکآ و اکن ھا ا ان اصحاب نے ا یں ازیں یں۔" مام حم کقی علیہ السلام نے فربایا۔ ”ھشام بن الحکم رحم الله ماکان اذبه عن هد النا ہے“

۳۷۲

”عشام بن النکم الد ان پہ رحم تکرے د کسی طرف سے ہم بر جرف

یں نم و ۓے جھے_''ے ٣۰٢‏

(۸) مع من تس الد

موا ای عراش ہنم الصصاوق علیہ السلام۔ ان کے بارے می علماء تن ےکثت سے بدرحیہ اقوال نفل سے ہیں اود رکیو نکہ خالبوں نے بت می بائجیں آپ سے مو کروی ہس إیٹرا اض علام نے آ پکو ضویف ترار ریا ہے (نجاشی) این اغائزی کت ہی ں کہ یسل ان کا ام متخ رتھا ریہ جناب جو بن عبزاہ ال الکیہ سے جالے مج کی دجھے واؤد جع علی نے اخجنی ںگ رما رک رکف لکریا۔ ان ا اضائزرکی سککتے ہی ںکعہ یں ا نکی ردایت گردداعادییثپ اتاد می ںک را اس کی وجہ بقول ان کے فالیو ںکاا نکی طرف بمت سی بانجیں مفسو بکرنا ہے۔ جن ابو تنط را للوی نےکتاب ایی سککہا ےکہ آپ امام شمفرصاوق علیہ السلام کے امور کے گگراں چے اور انیس کے کن پر یلت کے او ریہ بات ان کے عادل ہوتنے کے لے کانی ہے (غلاصہ الرجال )اور اکشی نت ےککھا ‏ ےکہ جب امام صادق علیہ السلا مکو آپ کے انتقال کی بی آپ ےا ”اماواللەلقددخل الیحنہ'' می ادا نت می داخل ہویب ۲۰٢‏

ا عتی کت ہہ ںکہ نب دائوبن عی نے معی بن شنو سکوگ ریا رکیا او را نکو تل یکرنے کا ارادہکیا اس سے معلی بن تتیس نت ےکماکمہ میورے ماس ما یکیےرے بے لوگوں کے پاس نے چاو تمہ میں اتی ان کا مال دے ووی۔ اس کے نسیاچی میں مازار میس نے سے جب سب لوک مع ہگن نو معلی نے لوگون سے مطاطب

ئ۳

ہوک رکراکہ جو ججھے بکھا ضا سے دہ فو اض ہی ہے اور جو ہیس باحیا ضا دہ جان لن ےک یس معی بین شس ہوں نمکو اہ رہ ہک می جو یھ بھی مال 'قرضہ“لونڈی فلام یاگم نے مس پچھوڑوں خوا ہکم ہو خواہ زیاد دوس بکاسب ایام ختفرصادق علیہ السلام کا ہے۔ یہ مفنا تھاکنہ سیایوں کے افسرنے انب رت کی اود اخیں ف سک رڈالا۔ جب بی بات امام صادق علیہ السلا مکو پن پچلی تے آپ فص ےکی عالت میں اس طر گے کک ےکلہ چچادر زشن سر پک رتی تع اور داد بین گی کے باس ہو گی تپ نے صاجزارے اسماشیل تھے خی تے او رکا اے داد نے جمارے جاجے وا لےکو تن یکردیا اور میرا مال قضے میس لے لیا۔ اس تےکمائیں نے اشمی ںغل می ںکیا اور بی آ پکامال ہتدیایا۔ آپ نے فرباا واللہ تس تے ارے ظا مک وق یکیا اور ہکارا مال خغحص بکیااس کے جن میس اش سے میں بدداکرو گا اس تن ےکماکس ین نے فی خی ںکیا لہ سپاہیوں کے افسرنے اخمیں حم کیا ہے۔ آ پا نے بی چھا تمارے عم سے یا بط رتممارے عم کے؟ وو رتے جواپ دیا میرے لی اؤنع کے او رما اما عیل اب تہمارا نام ہے نہیں اساعیل موا ر پا میں ل مرج اور ۱ مس کٹسا فرکودہیں نت کریا۔

مع بی نے اعام صادق کے لام معتب سے ردای کی ےکہ امام بیشہ رات حیارت ‏ ٹ سگڑارے کے ایک روڑشی نے دیکھا کہ ؟ تح زی رات کے صے شس سعیرنے نل دھا انگ رسے ہیں یمان تح فک شو رہ کیہ وا نعل یک وش یکردیا راک یم نگ زا ماع' لے یا اک مین نے تن کے کیاکی عی ا تے اک فرش جیا نس نے اس کے سر م وار ماری اور مثانہ تک کاٹ ڈالاے -۲۰٢‏ روایات می ب بھی ےکمہ آب نے وا ود سےکما حم تے ایک الیاگنا ہیام سکو ارد

2

مخاف کی سکر ےگا اس نے لو چچھا ودنا ہکونسا سے آپ نے قربایا نے ایل نت یس سے ایک شف سک وف لکردیاسفب٠۵٠٢٢‏ (8) پہرا جی

رید بن معادیہ ابوالقا سم ا لی ا لمتوئی ۰۸ ہہ آپ امام ھ جا ق علیہ السلام و امام تخرصاوتی' کے جوا ریوں جس سے ہیں۔ اور ان دووں امہ شتیعم السلام سے روابی کرت ہیں آپ کاشار فقدا و می خین میں ہوا سے ایل ویت علیم السلام کے نز یک یم ضزات کے عائل تھے آ پک مد یں روامات تہ دارد+ولی ہیں اور آ پ کاشار اصحاب ارتماغ میں ہے میتی ہج کی دغحاقت و جلالت رر عایا کا ماع تے۔ ہشن 2 را کو امامنے افقہ الناس قراردیا سے ان یس آ پ بھی ہیں نی ز زار بن ین“ ممروف بن نریوز برای ابو ھی الاسیدی“ نیل بن یبار“ مرن سم الطا ىف اور ان میس بھی افقہ زرارۃ ین اشین ہیں۔ امام صادق لے الام کا یل مم ور ےک را رو مکنا این ومن لم بریلہ ای اور الاحول گے ہب ے زیادہ یوب ہیں زندہ ہو کہ عردہ(ا لکش ) ان سے روایمت کرنے والوں میں داد بی بزید مع فرق دالیم و اسماخیل (دونوں ٹے ہیں حجیب کے )اسم ین عر وہ“ مضصورین پوس عبدادٹ بن مخیر اور خل نک رشائل ہیں۔

بر لی کاشمار امام کے مود کے ھ صقن میں ہو ا سے ا نکی انی ککتاب لی

بی خقبہ بن خھالعد الاسع کی نے رداح کی ے۔ ٦٥۷۴.‏

(۴) کیل بن صاغح الاسدریی اککوئی

آپ امام ٹف رصاوق او امام موک کاظم لوا السلام دونوں کے صعالی ہں۔

نہ ہیں اا نکی ای ف کاب اصول اربعہمائیس شال ہے ان سے ایک ججاعت نے رای کی ہے ان میں حسن بین عحپوپ' سنعد بن عبداللہ او جار بن مو یٰ الماپای اور رین عحردخیردشائل ٍں-- ے٢٣‏ ۱) ہماری نی

بن عدیر جمنی الواسطی بعد می بمرے می آباو ہوگئے تھے ٴ حم ٹون سے انال ہوا۔ امام جتفرصاوق اور امام موی کاظم علك الیل مم کے شم کرو ہیں “ا نکاشار اصحاپ اجمااغ مس ےا ن کا اخقال من ٥٣۰۹‏ میا ٥۰۸‏ من میں ض رفا میس ہوا۔ بی امام حم لی علیہ السلا کا زمانہ تتھالشکن انسوں نے امام رضااور امام لق ہما السلام دونوں سے ردایت یی کی ہے۔ وہ کت کہ میں تے امام منظمر صاوثیے حتراحاویث سی تھی پیج کل ہزتے لگا اب ضرف الع ٢٢‏ رواغوں بر اکن اکر ہوں.۔ اتال کے وقت ا نکی عر٭وسال سے متباوز شھی۔ ے۳۰۸ (۳) عجبب من خاہت

الڑاڑلی ا کتوٹی ۲۴ت - ىہ تین مس سے ہیں اور صحاح تن کے رائوں میں سے ہیں “امام زین العابین “امام حم باقراو امام متخ رصادق عیعم السلام کے شاگرد ہیں۔۔ائع سے دواحی تکرتے والوں یں مع“ شور “شع اور شی اورخلق کش شال ہں۔ انی اہو زرجہ اور بہت سے علماء نے نقند تقر ردیا ےس ابن صن کھت ہی سکہ ان سے قریبا ٣٣۶‏ حدتچیں ردایت ہژں--۔-۲۰۹

(۳) تزہب نا ار

ان کا اور نام قمزہ ین ھا اسمارتے آ کا شمار رحال فیقہ مین ہو ما ہے وم

م۳۴

آپ مین میں مقام تفوق پر ذائز تھے۔ اکے بہت سے منا ظرات مالین ابل بیت میم السلام سے ہیں۔ جیسلہ اکے عالات سے بھی اندازہ ہوا سے اور ای رح می ائل یت نشم السلام سے جو ہہ منقول ہے ددبھی سی بر دلال تک را ے۔ ود تزہبن ا الیار گت ہی ںکمہ جس نے ایک رت امام شمطرصادق علیہ السلام سے ھا مھ اطلا لی کہ آپ منا رو ںکوبیند ٹیس فریاے؟ آپ نے فیا ای طر ج کا من ظروناپمند خی سکیا جاسکتا۔ تم الییے ہ کہ جب روا زکرتے ہو تہ معلوم ہو ما کہ بیٹھ جاؤ کے اورجب ٹیٹھے ہوۓ ہوتے ہو لو معلوم ہوا ےک . ابی پردا زکروگے۔(یہ آپڑتے لفظط طیا رکی بت ے فربایا ٹس کے مم ا ڑتے دا لے کے ہیں )رتو الیماہو جم انلم ہس ےکرا ہت خییں ما ہرک رسکت۔ ٣٣‏

ہشام بن الام سکت ہی ںکہ امام تمفرصاوق علیہ السلام نے ھ سے موا این ا ار نے ا کیا کا مکیا؟ئیس ت ےکھا اکا نو اتال ہ وکیا ا نے فرایا نر مہ الله تعالی ولقاہنض رو سرورافقدکان شدیدالخصومہ عنااھلالبیت“٢٢‏

”اللہ ان بر رح تکرے اور ان ےکشادہ روئی ومری کی عالت می لے ' وہ جم ابل :یت کے مخا لفن سے شید خصومت رکتے ھھ اورہنا ظ کرت تے_* اسی مصمو نکی ایک اور رداجیت گنی الشٹی نے نف کی ے۔ (۴) ین لی بن ا لضتمان م ومن الطاتی-_ ٣٢٢‏

اب ہم ایک ایی تخس کا ہرک کررہے ہیں جو علم و فل اور جحت مرا میں کت ہن ےکی وجہ سے فاماۓے شبیعہ میس منومن طاق اور علاۓ ال سشت مس

۳

خییطان طاقی کے نام سے مروف ہوا۔ ہہ ابو تظ رج بن علی بن ا لشخمان ا لی اکلوٹی ہیں ۔ ککتے ہی ںکہ انی سب سے پجلہ ححیطان الطاق کالب ابو عنیضہ نے دا - ہوا او ں کہ ازع کے اوب وا رج کے درغیان ایک میا ظرو ہوا شس ی اروا ااوخطیقہ بھی دکھ رسے تھے جب ال یکو توارح بر غلبہ عاعل ہوا فو ابوعطیضہ نے انیس خحییطان الطاق کا قب دیا۔ عاماء کے خیال میس انیس لہ صاحب الطا کہا جا ھاکی وک ےکوفہ یس طاتق ا ححائل کے علاتے میس ا نکی را ےکی دکان تھی اور سونے کاکعرا او رکھوٹا رنہ میس اخمیں کللہ تاصل تھا اس لئ اجئیں بھی صاحب الطا بھی حیطان الطا یکما جا تھا جب جناب جشام بن اک مکو پت چلاکہ لوگ انیس خحیطان الطاقی نے گے ہیں و ہشام تے ان کا نام متو “رن الطائی رک دیا- اخیں متا ظروں پر بڑبی فقزرت عاصل تصھی اض طور یر ان کے منا ظارے خوارخ* “لہ اور ابوعقیفہ سے ہو تھے۔ جم ععبااس شی نے ابو خالر اأکاعلی سے نف ليکیا سےکہ میں نے ال وف رصاحب الطا یکو مسج تپوییا یس روہ رحول کے با دیاعا کہ دہ ٹیش ہہوئۓ ہیں اور لوگیں سے عوال وجواب ہھورہے ہیں میں ان کے قری بگیا او رکما : امام صاوق علیہ السلام نے چهیں منا خظریں سے مب جکیا ے ' صاحب طاقی نے ا چھاکیا اغنھیں نے میس عم دیا ےک می بات بح تک کانچاؤ؟ یس نت ےکما شی اس اخموں نے چچییں مڑ عکیا ےک کسی سے منا کرت ہککرہیں یہ سنا ومن طاقی ‏ ےکما حم چان او رامام کے سک ب رع لکرو۔ الفاہگی کت ہی ںکہ یس امام صاد کی مدمت مس آیا اور صاصصطاقی سے ہونے وا کنتمو سے آگا ہکیا۔ آپأنے سنا فربایا : اے الو الد صاحب الطا لوگوں سے نگ وک را ہے اور وا ڑگرچا ہے اور حم پاوجودا تما یکو ص کے بی کے مین قل سلوے ۴۴۳

۷ك القات

جناب متومن طائی نے بت ى یککباہیں بھی ھی زی جن یش سے چت کے نام کا وی نے ارت یں اوران یم نے الضرست می ںکنوائے ہیں ان ک کل

0 کناب المامہ (۴) کاب المعرذ ۳۴۰م) کاب الروعل للمعتزله ن امامے ا لنفرل (م) ران لَٰ ام لو وااڑي والماتۓ (ن) کات ابات الوے )٦(‏ ککیابن ال وا تفعل نے لاب المنا ظر مخ الی عیز -

آپ کے ہنا نے لت نے کاىیہ مومع ٹنیس کے مزا ظرے فنقی باب میس ھم ل٠‏ کریں گے لیکن منائ ا کیک متا ظرن نف لکرتے ہیں۔

ابو الف ا عحس کت کے قیاآ اکاریٰ نے قرو کیا او رکونے یر بش و گیا اور پا قب '”امیرامومین 'تراویا اور لوگ ںکوابقی طرف دعوت رش وع یئ من طاقی ا کے با پچ او رکماکہ یش انا ین یس امیرت رک ہک دج سے سور ول چاتا با٣‏ آپ کے ما شال ہوجاؤں۔ شال تے نچ تم لیونوں ےکا : ان ہم یس شائل ہوجائے بت فا :مد رسے گا من من طاتی اور ماک کے درمیان۔ نر ہوی۔ روطاق ٠‏ ملک می بن اپی الب سے مع ہکیوں ہو گے او ران سے جک اوران کے ف یکوعلا لکیوں تار وے ڈوم شاف وگ اخسوں نے دین می ال کے موادو سر کو جم نایا۔ لن طاںل بجر کٹ جو دین می دد سر ےکو مم بنا دے تم نے ا کان

۴۳

۹

علا لکردیا اد راس سے نک ادر ای ے برات علا لگردگی؟

اک ؛ ہاں‌ایایٰے۔

موصن طاقی : مت خوب !اب خم جشھے ابنادین چا کالہ میں حم سے اس مرمنانظرد کرو ں “اگ تمہماری ربیل میہرىی دلیل پ طااب آگئی فیس تمارا نہب تو لکرلوں گا اور گر یىی دلیل تغالب آگئی نم قیو لکرلیزا۔

شیا :تر پالقش کین زج _

صوصن طاقی : من مہ بنا وک کون الم جنارب ینتک کا فیصل ہکرے ماک ہد سکی بات درسصت سے سک خاطا کسی حخ سکو مقر رکرو؟

شواک ہی نے ایک خ سکی طرف اشمار کرک ےکماکہ یہ عالم ذین ہیں ىہ جارا تار یصل ہکرسںخنےے۔

موصن طاقی ؟ اجچما فو خھم نے ا نکو خالث مقر رکیا ہے اس وین مین ہنا ظرسے کے پارے می جو میس عم سے کرتے آیا ہوں-

شواک پچ پان سے عی نک رہتو من طاق شاک کے با جو نکی طرف توم ہوے او رکاماکہ دیکھو تھممارے مردارے وین کے ما لے میس ایک آدب یکو جم مقر کیا ہے اب مم اس سے خودخحطو۔ اس بات پر شواک کے ساخھیوں میں اشتلاف ب وکیا اورلوک خاموش ہو گگئے۔ ومن طاق میک ہک رکاصیاب داییں لو نے ۲۱۴۔(لن خودشیاک کے امنول کے مرا لق اس ف لکردتتاراجب ھا)

ںژ٭ن

نظ یرار ے۲۵ صلی اکی۔اضی۔ بھی زیری

امام خنفرصادق علیہ الام کے جو ہکو ہم رخ عم کا عردہکسہ کت ہیں اس عیر میں علوم اسلامی کیا جشئی تل ہوئی بواور سی ععد جس میں ہوا تی اینممارات کے ملف ماج ب گی اسی عمد میس وتووہیں آ نت ےگ وک انی او ری ھ بح رک پیادا ہیں لین سب بالوامط یا پاواسط ایام فصاو" کے خوش سی کی طرف مور صھربی عالم علامہ دالیم ا بچندی نے ہیں اشارہ کرات ۱ "کان سفیانالشوریاماملعصر فی لور عوالسٹن

اللہ اکافه-۔ وبعدنلکیقول۔۔-وکان

کٹیرون من روادالمجل سکعفیان مکانەفی

المسلمین'منھم ضروبن عبیدالی نشاتعلی

بديه فرقه المعتزلہ' و ابوحنیف' و محمد بن

ساعتن بن ابی لیلی ترب اہی حنیفەو امام

ات سالک بن اس ہہ و ابوحنمفه ھوالامامء

لاعظم لاھل ال٠‏ ومالکاکبر من تلقی عليه

الشافعی علما و اطولھم فی تعلیمه زمانا۔

والشافعی شیخاحمدبن حنبل۔٢٢۲۔و‏ بقشُول بعد

سب ق کمٹلھم کان المحدثون العظماء

یحیی بن سعیدمحدثالمدینەو اہن حریحوابن

عینيه محدثا مکە و ابن عینيه هو المعلمالاول

للشافعی فی الحدیث'ِ٢٢٢‏

”سغیان ثوربی ایئے وقت کے امام تھے مففوئی میں سعن میس اور فقہ مس

ادرکل عراقی میں-۔۔ اس کے بعد کتے ہیں ---.. اما مکی اس میں

نے والوں می ںکئی ای تے جج ن کا عرتبہ مسلمانوں میں مفیا نکی طرح

سے ان میں عرد ین عبیہ ھی سے جس کے ہاکھوں میں فرش محتزسہ پا

روس اور ابو عطیفہ "رن برا مجن من انی لیلی تو الوعطیظ کے ترواردق

تے اور امام ورینہ ماک دع الئس-.-.--ابوحفیقہ فو ایل سفت کے زدیف

امام اعم ہیں اور مالک نے یہ شافق کے استادہیں شاٹنی نے سب سے

زیر رس تک انیں سے فی حاص لکیااور شا فی اتاد ہیں این

تی ...ام ےپ لف ول سسسحانی طرع بوے بدے

میرخمن آتے تھے مکی بن سعیر عرث بریت این جرح اد این

حیتیع دہ زدیں کرک مرث تھے اوران ع نیعم مدعٹ

میس امام شماجی کے لے اتتادہیں۔'

وا اس طرح دککھاجائے و امام ابوطیضہ اون امام ماک دوٹوں امام .. کے براہ راست شاگرو تھے “شانی پالواسطہ دو طرف سے شاکرو جک کہ ود امام

۱۹

کک کے بھی شاکرد ہیں اور فان بن ححی نیہ کے بھی اور احر بن قبل ب شا ہیں امام شاننی کے نذا سب کے سب پلاوا۔ملہ یا اواسئلہ ور یر اما کین

کے خوشہ ین ہیں۔ اب ہم معدہ حبعددان مککاتب فت ہکا لق جائنزہ لئے ہیں۔

فقہ ضف اور ا سکی منٹووٹما مگزشنہ صفیات میں امام ابوعذیقہ کا امام مھ باقراور امام ج تق رصاق خلیم الا مککاشاگ رد ہونا اح لک آئے ہیں یی امام ابو حفیفہ ہیں ج نکی طرف وھ یلیک بت دب گئی ےگ کہ بھم اس ضبد کو ورسرت نہیں کھت اوراسن پر تخقرا پور میں کنا وکریں کے ٰ امام ابو حفیفہکانام نعمان بن خابت بن مرذبان بن تس بن وگ رو بن شمار